2018 December 15
2017 گذشتہ سال کے مقابلے شیعہ نسل کشی میں دوگنا اضافہ ، شیعیت نیوز نے رپورٹ جاری کردی
مندرجات: ١٢٤٠ تاریخ اشاعت: ٣١ December ٢٠١٧ - ١٣:٣٧ مشاہدات: 139
خبریں » پبلک
2017 گذشتہ سال کے مقابلے شیعہ نسل کشی میں دوگنا اضافہ ، شیعیت نیوز نے رپورٹ جاری کردی

شیعیت نیوز:گذشتہ سال کی نسبت ملک بھر میں تکفیری دہشتگردوں  نے مختلف واقعات میں سیکڑوں شیعہ مسلمانوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔

شیعیت نیوز کے مطابق 2017 سال کے اختتام پر ملک بھر میں شیعہ نسل کشی کے واقعات میں347 افراد کی شہادتوں کی تصدیق ہوئی ہے ۔ شیعیت نیوز کی مانیٹرنگ ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے دیگر واقعات  نے جہاں بے گناہ معصوم  پاکستانی شہریوں کی جانیں لیں وہیں شیعہ نسل کشی کے واقعات میں بھی ملک بھر میں 347 افراد تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ اور دیگر دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہوئے ہیں۔

2016 کی نسبت سال 2017 شیعہ نسل کشی کے حوالے سے تشویش ناک رہا، گذشتہ سال اسطرح کے واقعات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی تھی ، 2016 کی شیعیت نیوز کی شیعہ کلنگ رپورٹ کے مطابق 61 افراد شہید ہوئے تھے جبکہ رواں سال یہ تعداد 2016 سمیت 2015 کے مقابلے میں  دوگنی ہوگئی ہے، 2015 میں دہشتگردی اور ٹارگیٹ کلنگ میں 256 افراد شہید ہوئے تھے۔

شیعہ نسل کشی کے واقعا ت کا گذشتہ دو سالوں سے موازنہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

سال بھر میں ملک کے مختلف شہروں میں شہید ہونے والے شہداٗ ء کو محض حب اہلیبت علیہ سلام میں شہید کیا گیا، انکا جرم اولاد رسول(ص) سے محبت قرار پایا ہے، زیادہ تر افراد تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے کیئے جانے والے بم دھماکوں میں شہید ہوئے۔

رواں سال ملک بھر میں ٹارگیٹ کلنگ سمیت کئی بڑے دہشتگردی کے واقعات ہوئے جن میں سیکڑوں افراد  نے جام شہادت نوش کیا۔


بم دھماکے /دہشتگردی

 23 جنوری 2017  سال کے پہلے مہینہ میں سعودی نواز دہشتگردوں نےپارچنار کی سبزی مارکیٹ میں بم دھماکہ کیا جس میں 25 افراد شہید ہوئے جبکہ 80 سے زائد افرادزخمی ہوئے تھے۔

سال کے دوسرے مہینے  16 فروری 2017کو داعش  نے پاکستان میں پہلا دھماکہ کرنے کا دعویٰ کیا یہ دھماکہ سندھ  سہیون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہوا جس میں 200 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے ان میں شیعہ و سنی (مولائی ) افراد شامل ہیں ۔

سال کے تیسرے مہینے 31 مارچ 2017 کو پارچنار کی نور مارکیٹ میں کار بم دھماکہ ہوا جس میں 29 افراد شہید ہوئے ۔

25 اپریل کو پارچنار میں ہی زیر زمین چھپے بم   نے مسافر وین کو نشانہ بنانا جس میں 14 افراد شہید ہوئے۔

پارچنار میں تیسرا اور خطرناک دھماکہ ۲۳ جون کو رمضان المبار ک میں عید سے کچھ روز قبل طور مارکیٹ میں ہوا جس میں 40 افراد شہید ہوئے ، جبکہ اس بم دھماکے بعد ایف سی کے لبادے میں چھپی چند کالی بھیڑوں نے احتجاج کرتی نہتی عوام پر فائرنگ ، فائرنگ سے بھی ۳ مومنین شہید ہوئے تھے، اس بم دھماکے کے بعد مسلسل آٹھ روز تک وہاں کی عوام نے پر امن دھرنا دیا اور آرمی چیف جنرل قمر باجوو کے ساتھ کامیاب مذاکرات کئے ۔

ٹارکیٹ گلنگ

بم دھماکوں اور دہشتگرد کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں کالعدم تکفیری دہشتگردوں نے ٹارگیٹ کلنگ میں معتدد افراد کو شہید کیا۔

ماضی میں ہی پاکستان کے دارلخلافہ اسلام آباد میں 29 نومبر 2017 کو کھلے عام دہشتگردو ں نے6 G کے امام بارگاہ پر حملہ کیا ، اس حملے میں 2 اہم شیعہ شخصیات شہید ہوئیں جن میں سابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل صوبہ سندھ اور مجلس وحدت مسلمین کے سابق مشیر قانوں سید سیددین زیدی اور حفیہ ادارے کے افسر حب دار حسین شہید ہوئے۔

ٹارگیٹ کلنگ کے زیادہ تر واقعات کوئٹہ میں ہوئے صرف کوئٹہ میں ہی  ٹارگیٹ کلنگ میں شہید ہونے والوں کی تعداد  15 ہے۔

مجموعی تفصیلات

شیعیت نیو ز ریسرچ ڈیسک کے مطابق ملک بھر میں روان سال 2017 میں مظلوم شیعہ مسلمانوں کی شہادتوں کی تفصیل حسب ذیل بنتی ہے۔

Shiagenocied.jpg





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی