2018 January 23
قبلہ اول کے بعد اسرائیل کا اگلا ہد ف مکہ مدینہ ہوگا، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر
مندرجات: ١٢٢٤ تاریخ اشاعت: ٢٦ December ٢٠١٧ - ١٦:٣٠ مشاہدات: 28
خبریں » پبلک
قبلہ اول کے بعد اسرائیل کا اگلا ہد ف مکہ مدینہ ہوگا، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر

ٹرمپ کے یروشلم کی حیثیت کے بارے اعلان نے مسلمانوں کے دل کو دکھایا ہے۔ مسلمان اگر متحد ہو کر قدم اٹھائیں تو یہود کو شکست دے سکتے ہیں۔ ہمیں مسلم حکمرانوں سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے آزادی قدس قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اسی بے حسی کے سبب اسرائیل نے بیت المقدس کی کھدوائی کے لئے ساٹھ کروڑ امریکی ڈالر مختص کئے ہیں، تاکہ ہیکل سلمانی کی بنیادوں کو نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے بعد یہودیوں کا اگلا قدم مکہ و مدینہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی حکومتوں پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ امریکیوں اور یہودیوں کے غلام نہ بنیں۔ آج ایک ایٹمی ملک کا جرنیل فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے، ہمیں ایسے اتحاد کا کیا فائدہ۔ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی راہنما پروفیسر عبدالرحمان مکی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے جو اعلان کیا، وہ اچانک نہیں ہوا۔ ہم شیعہ، سنی، وہابی کی لڑائی سے ہی فارغ نہیں ہوتے۔ جتنی آیات کفار، مشرکین اور یہودیوں کے بارے میں تھیں، ہم ایک دوسرے پر اس کا اطلاق کرچکے ہیں۔ ہمیں قرآن کریم کی روشنی میں یہودیوں کو نہ فقط سمجھنا چاہیے بلکہ اپنے پارلمنٹیرینز، اینکرز اور میڈیا کے لوگوں کو بھی بتانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کو مسلم امہ کے اتحاد کے لئے آواز بلند کرنی چاہیے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بالفور کے اعلان کے وقت ترکوں اور عربوں نے کوتاہی کی، جس کے سبب برطانیہ کو فلسطین پر قبضے کا موقع ملا، اسی طرح لیگ آف نیشنز نے اس قبضے کو جواز بخشا۔ اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل کے وجود کو قبول کیا۔ پروفیسر محمد ابراہیم نے کہا کہ فلسطین کی آزادی اقوام متحدہ یا کسی اور ادارے سے ممکن نہیں۔، مسلح جدوجہد ہی واحد حل ہے۔ اسلامی تحریک کے جنرل سیکرٹری علامہ عارف حسین واحدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سو سال قبل برطانیہ نے ایک سازش کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کو توڑا اور آج 2017ء میں ٹرمپ نے یروشلم کی حیثیت کا اعلان کیا۔ یہی ٹرمپ عربوں کے ساتھ جا کر بیٹھتا ہے اور ایران و سعودیہ کو لڑانے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے سفارت خانے بند کریں اور اس سے تمام روابط کو منقطع کریں۔ فلسطینی ہمیں پکار رہے ہیں کہ پاکستانیو تم کہاں ہو اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم امریکی سفارت کار کو بلا کر اس سے اس اعلان پر احتجاج بھی نہیں کرسکتے۔ جمعیت اہل حدیث کے سربراہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ کی سپر پاور نے مسلمان حکمرانوں کے دلوں کو خوفزدہ کیا ہوا۔ عربوں کے دلوں میں اسرائیلی فوجی تسلط کا رعب بیٹھ چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ ہمارے دلوں میں ایمان کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلکی چادروں کو اتار کر ایک صف میں کھڑے ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اغیار کی کامیابی میں ہماری اپنی کمزوریوں کا دخل ہے۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیر کے سربراہ عبد الرشید ترابی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں آج کشمیر کی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے اس تقریب میں حاضر ہوا ہوں۔ جمعیت علمائے اسلام سینیئر کے سربراہ پیر عبدالرحیم نقشبندی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کی کمزوری کی اصل وجہ قرآن و سنت سے دوری ہے۔ آج امت کے خواص مقتدی بن چکے ہیں، انہیں حقیقی معنوں میں امام بننے کی ضرورت ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی شوریٰ کے رکن مولانا اقبال بہشتی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں آگاہی کی ضرورت ہے، ہمیں جاننا چاہیے کہ وہ کون سے ممالک ہیں، جو فقط سیاسی بیان بازی کر رہے ہیں، درحقیقت ان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں۔ ہم مظلوم کی حمایت تو کرتے ہیں لیکن ظالم کا نام لینے سے ڈرتے ہیں۔ جب برطانیہ نے مسلمانوں کے سینے میں یہ خنجر گھونپا تو اس میں کچھ مسلمان بھی اس کے ساتھ تھے۔ ان قائدین کے علاوہ کانفرنس سے وفاق علماء شیعہ کے نائب صدر قاضی نیاز حسین نقوی، اتحاد علماء کے نائب صدر مولانا عبد الجلیل نقشبندی، جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم، امامیہ آرگنائزیشن کے سربراہ سید رضی شمسی، ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر، نذیر جنجوعہ، تنظیم العارفین کے آصف تنویر اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔

 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی