2018 January 22
مختار ابن ابی عبيد، صحابی رسول خدا (ص)، يا مدعى نبوت ؟
مندرجات: ١٢١٩ تاریخ اشاعت: ٢٥ December ٢٠١٧ - ١٧:١٥ مشاہدات: 260
مضامین و مقالات » پبلک
جدید
مختار ابن ابی عبيد، صحابی رسول خدا (ص)، يا مدعى نبوت ؟

مقدمہ:

ایرانی ٹی وی پر مختار نامہ کے نام سے ٹیلی کاسٹ ہونے والی سیریز کے بعد ، اس میں عبد اللہ ابن زبیر کے حقیقی کردار کو دکھانے اور مختار کو ایک شجاع ، باہمت اور محبّ اہل بیت (ع) انسان دکھانے پر ، بعض وہابیوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور حتی بعض نے تو اس سیریز کے دیکھنے کو حرام قرار دیا ہے۔

اس تحریر میں شیعہ اور اہل سنت کی نگاہ سے مختار کی شخصیت کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے سب سے پہلے ہم مختار کے بارے میں وہابی علماء کے اقوال کو ذکر کریں گے۔ ان اقوال کو پڑھ کر آپ کو معلوم ہو گا کہ وہابیوں نے ہر ممکن و ناممکن، جائز اور ناجائز کوشش کی ہے تا کہ مختار کو ایک جھوٹا اور نبوت کا دعوئے دار شخص ثابت کر سکیں۔

پھر اسکے بعد مختار کی شخصیت کے بارے میں علمائے شیعہ کے اقوال کو ذکر کریں گے۔

البتہ شیعوں کے درمیان بھی زمانہ قدیم سے مختار ابن أبى عبيد ثقفى کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں، لیکن اکثر شیعہ علماء اور اہل بیت کی پیروی کرنے والوں کا، مختار کی تعریف کے بارے میں اہل بیت سے نقل ہونے والی روایات کی روشنی میں ، مثبت کردار ذہن میں آتا ہے اور ان سب نے مختار کے امام حسین (ع) کے قاتلوں سے انتقام لینے کی وجہ سے ، اسکی بہت تعریف بیان کی ہے۔

سب سے پہلے تاریخ اسلام کی اس مظلوم اور مجہول شخصیت کے خاندانی حسب و نسب کو ذکر کیا جا رہا ہے:

مختار کا خاندانی پس منظر:

والد مختار،‌ ابو عبيد، مشہور صحابی:

مختار اور اسکے قبیلے کے بارے میں مؤرخین نے بہت تفصیل سے کتب میں لکھا ہے کہ ان سب کو یہاں پر ذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان تمام مطالب کا خلاصہ یہ ہے کہ:

مختار، ابو عبيد ثقفى کا بیٹا ہے۔ وہ ہجرت کے پہلے سال شہر طائف میں عرب کے ایک مشہور قبیلے ثقیف میں، دنیا میں آیا۔ ثقیف قبیلے نے جنگ حنین کے بعد اسلام کو قبول کیا تھا۔ قبول اسلام کے بعد اس قبیلے کے بزرگان اور مختار کے والد نے اسلام کی ترقی کے لیے بہت جدوجہد کی تھی۔

شیعہ بزرگ عالم ابن نماى حلى نے اپنی كتاب ذوب النضار، میں مختار کے نسب کو اس طرح سے بیان کیا ہے کہ:

هُوَ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيُّ وَقَالَ الْمَرْزُبَانِيُّ ابْنُ عُمَيْرِ بْنِ عُقْدَةَ بْنِ عَنْزَةَ كُنْيَتُهُ أَبُو إِسْحَاقَ.

مختار ابن ابو عبيد ابن مسعود ابن عمير (بضم عين) ثقفى ہے۔ مرزبانى ابن عمير بن عقدة بن عنزه نے کہا ہے کہ مختار کی کنیت، ابو اسحاق تھی۔

ابن نما الحلي، جعفر بن محمد بن جعفر بن هبة الله (متوفي645هـ)، ذوب النضار في شرح الثار،‌ ص61، تحقيق: فارس حسون كريم، ناشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة،‌ الطبعة‌ الاولي 1416

ابن اثير جزرى نے کتاب اسد الغابۃ فى معرفۃ الصحابۃ میں لکھا ہے کہ:

أبو عُبَيد بن مسعود بن عَمْرو ابن عُمَير بن عَوف بن عُقْدَة بن غِيَرَةَ بن عوف ابن ثقيفٍ الثَّقَفِي. والد المختار بن أبي عبيد، ووالد صَفِيّة امرأة عبد الله بن عُمَر، أسلم في عهد رسول الله، ثم إن عمر ابن الخطاب رضي الله عنه استعمله سنة ثلاث عشرة، وسيَّره إلى العراق في جيش كثيف، فيهم جماعة من أهل بدر، وإليه ينسب الجسر المعروف بجسر أبي عُبَيد، وإنما نسب إليه لأنه كان أمير الجيش في الوقعة التي كانت عند الجسر، فقتل أبو عُبَيد ذلك اليوم شهيداً. وكانت الوقعة بين الحيرة والقادسية، وتعرف الوقعة أيضاً بيوم قُسِّ الناطف، ويوم المَرْوَحَة. وكان أمير الفرس مُردَانشاه بن بهمن، وكانوا جمعاً كثيراً، فاقتتلوا وضَرَب أبو عبيد مُلَمْلَمةً فيل كان مع الفرس، وقتل أبو عبيد، واستشهد معه من الناس ألف وثمانمائة.

ابو عبيد بن مسعود بن عمرو، یہ مختار کا اور عبد اللہ ابن عمر کی بیوی صفیہ کا باپ ہے۔ ابو عبید نے رسول خدا کے زمانے میں اسلام لایا تھا، اسکے بعد سن 13 ہجری میں عمر ابن خطاب نے اپنی خلافت میں اسکو عہدہ دیا اور اسکو اہل بدر ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ، عراق کی طرف روانہ کیا۔ ابی عبید کا پل بھی اسی سے ہی منسوب ہے، کیونکہ اس پل کے نزدیک واقع ہونے والی جنگ کا سپہ سالار ابو عبید ہی تھا۔ ابو عبید اسی جنگ میں شہید ہوا اور سرزمین حیرہ اور قادسیہ پر بھی جنگ رونما ہوئی اور یہ جنگ، یوم قُس ناطف اور یوم مروحہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ لشکر فارس کا سپہ سالار مردانشاه ابن بهمن تھا، اس لشکر نے جنگ کی کہ اس جنگ میں ابو عبید کو اہل فارس کے ہاتھی کی سونڈ پر مارا گیا، جس سے وہ شہید ہو گیا اور اسکے ساتھ 1800 افراد بھی شہید ہوئے۔

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفى630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج6،‌ ص217، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

لہذا شیعہ اور اہل سنت کے مؤرخین کے نزدیک ابو عبید ایک بزرگ صحابی تھا کہ جو رسول خدا (ص) کے زمانے میں مسلمان ہوا تھا اور اس زمانے میں دنیائے عرب کا بہت شجاع اور نامور جنگجو شمار ہوتا تھا۔

اہل سنت کے مؤرخین نے ابو عبید ثقفی کے بارے میں ان الفاظ کو ذکر کیا ہے:

          أسلم أبوه فى حياة النبى صلي الله عليه وسلم، كان أبوه من أجلة الصحابة.

مختار کا والد (ابو عبيد) رسول خدا کے زمانے میں اسلام لایا۔ اسکا والد بزرگان صحابہ میں سے تھا۔

مندرجہ ذیل کتب میں ابو عبید کے بارے میں مطالب کو ذکر کیا گیا ہے:

 

ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، البداية والنهاية،  ج 8، ص289، ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابو عمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج4، ص1465، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفى630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج5، ص127،‌ تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

الكتبي،‌ محمد بن شاكر بن أحمد (متوفي764هـ) فوات الوفيات، ج2، ص501،‌ تحقيق: علي محمد بن يعوض الله/عادل أحمد عبد الموجود، دار النشر: دار الكتب العلمية  - بيروت،‌ الطبعة: الأولي2000م

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج6،‌ ص349،‌ تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

مختار کی والدہ:

مختار کی والدہ دومۃ الحسناء بنت وہب ابن عمر نامی ایک بافضیلت خاتون تھی کہ جو اپنے زمانے میں عفت و حیا کی پیکر تھی۔

ابن نماى حلى نے لکھا ہے کہ:

 وَكَانَ أَبُو عُبَيْدٍ وَالِدُهُ يَتَنَوَّقُ فِي طَلَبِ النِّسَاءِ فَذُكِرَ لَهُ نِسَاءُ قَوْمِهِ فَأَبَى أَنْ يَتَزَوَّجَ مِنْهُنَّ فَأَتَاهُ آتٍ فِي مَنَامِهِ فَقَالَ تَزَوَّجْ دُومَةَ الْحَسْنَاءَ الْحُومَةَ فَمَا تَسْمَعُ فِيهَا لِلَائِمٍ لَوْمَةً فَأَخْبَرَ أَهْلَهُ فَقَالُوا: قَدْ أُمِرْتَ فَتَزَوَّجْ دُومَةَ بِنْتَ وَهْبِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ فَلَمَّا حَمَلَتْ بِالْمُخْتَارِ قَالَتْ: رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ قَائِلًا يَقُولُ‏:

أَبْشِرِي بِالْوَلَدِ               أَشْبَهَ شَيْ‏ءٍ بِالْأَسَدِ

إِذَا الرِّجَالُ فِي كَبَدٍ        تَقَاتَلُوا عَلَى بَلَدٍ

                               كَانَ لَهُ الْحَظُّ الْأَشَّدُّ

 فَلَمَّا وَضَعَتْ أَتَاهَا ذَلِكَ الْآتِي فَقَالَ لَهَا إِنَّهُ قَبْلَ أَنْ يَتَرَعْرَعَ وَقَبْلَ أَنْ يَتَشَعْشَعَ قَلِيلُ الْهَلَعِ كَثِيرُ التَّبَعِ يُدَانُ بِمَا صَنَعَ وَوَلَدَتْ لِأَبِي عُبَيْدٍ الْمُخْتَارَ وَجَبْراً وَأَبَا جَبْرٍ وَأَبَا الْحَكَمِ وَأَبَا أُمَيَّةَ.

مختار کے والد ایک شریف نسب والی عورت کی تلاش میں تھے۔ انکو جب اپنے قبیلے کی عورتوں سے کسی ایک کے ساتھ شادی کرنے کا مشورہ دیا گیا تو، مختار کے والد نے اس سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ ایک شخص اسکی خواب میں آیا اور اس سے کہا کہ دومۃ الحسناء الحومۃ سے شادی کرو، کیونکہ اس کے ساتھ شادی کرنے سے کوئی بھی تہماری ملامت نہیں کرے گا۔ مختار کے والد نے اس خواب کو جب اپنے رشتہ داروں سے بیان کیا تو انھوں نے کہا: جب ایسا ہے تو اب دومہ بنت وہب ابن عمير ابن معتب سے شادی کرو۔ شادی کے بعد جب مختار کی والدہ حاملہ ہوئی تو اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک کہنے والے نے کہا کہ میں تم کو ایک ایسے بیٹے کی خوشخبری دیتا ہوں کہ جو سب سے زیادہ ایک وحشتناک شیر سے شباہت رکھتا ہے۔

جب لوگ شہروں اور علاقوں کو فتح کرنے میں مصروف ہوں گے تو، اس بیٹے کا اس فتح میں بہت بڑا کردار اور حصہ ہو گا۔

مختار کی ماں نے مختار کو جنم دیا تو، وہی شخص دوبارہ خواب میں آیا اور اسکی ماں سے کہا کہ: تیرے اس بیٹے کی عمر جب تھوڑی زیادہ ہو جائے گی اور جب اسکی زندگی کے آخری ایام ہوں گے تو اس کا ڈر اور خوف کم ہو جائے گا اور اسکے پیروکار زیادہ ہو جائیں گے اور وہ اپنے عمل کی جزا دیکھ کر رہے گا۔ مختار کی ماں سے مختار ، جبر ، ابو جبر ، ابو الحكم اور ابو اميہ پیدا ہوئے تھے۔

ابن نما الحلي، جعفر بن محمد بن جعفر بن هبة الله (متوفي645هـ)، ذوب النضار في شرح الثار،‌ ص61، تحقيق: فارس حسون كريم، ناشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة،‌ الطبعة‌ الاولي 1416

عالم اہل سنت بلاذرى نے بھی كتاب انساب الاشراف میں مختار کی ماں کے بارے میں لکھا ہے کہ:

       لا يسمع فيها من لائم لومة.

(دومہ) مختار کی ماں کی کسی نے بھی ملامت نہیں کی (یعنی وہ ایک نیک اور با اخلاق عورت تھی)

     البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج2، ص347، طبق برنامه الجامع الكبير.

ولادت مختار، سن یکم ہجری

جس سال رسول خدا (ص) مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، اسی سال مختار کی ولادت واقع ہوئی، لیکن مؤرخین نے صراحت سے ذکر نہیں کیا کہ ولادت کس مہینے میں ہوئی تھی۔

ابن نماى حلى نے لکھا ہے کہ:

وَكَانَ مَوْلِدُهُ فِي عَامِ الْهِجْرَةِ وَحَضَرَ مَعَ أَبِيهِ وَقْعَةَ قُسِّ النَّاطِفِ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَكَانَ يَتَفَلَّتُ لِلْقِتَالِ فَيَمْنَعُهُ سَعْدُ بْنُ مَسْعُودٍ عَمُّهُ.

مختار رسول خدا کی ہجرت والے سال پیدا ہوا، مختار اپنے والد کے ساتھ 13 سال کی عمر میں کوفہ کے نزدیک، واقعہ قس ناطف میں موجود تھا۔ اس واقعے میں مختار میدان جنگ میں جانا چاہتا تھا، لیکن اسکے چچا سعد ابن مسعود نے اسکو جنگ کرنے سے منع کر دیا۔

ابن نما الحلي، جعفر بن محمد بن جعفر بن هبة الله (متوفي645هـ)، ذوب النضار في شرح الثار،‌ ص61، تحقيق: فارس حسون كريم، ناشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة،‌ الطبعة‌ الاولي 1416

اہل سنت کے علماء نے بھی مختار کی ولادت کو ہجرت کے پہلے ہی سال قرار دیا ہے۔ ابن کثیر نے اپنی دو کتابوں میں ذکر کیا ہے کہ:

وممن ولد في هذه السنة المباركة، وهى الاولى من الهجرة، عبدالله بن الزبير، فكان أول مولود ولد في الاسلام بعد الهجرة، كما رواه البخاري عن أمه أسماء وخالته عائشة أم المؤمنين ابنتى الصديق رضى الله عنهما.ومن الناس من يقول: ولد النعمان بن بشير قبله بستة أشهر،... ومن الناس من يقول إنهما ولدا في السنة الثانية من الهجرة. والظاهر الاول، كما قدمنا بيانه،... قال ابن جرير: وقد قيل إن المختار بن أبى عبيد وزياد بن سمية ولدا في هذه السنة الاولى فالله أعلم.

ان میں سے کہ جو ہجرت کے پہلے سال دنیا میں آئے، عبد الله ابن زبير، جیسا کہ بخاری نے اسکی ماں اسماء اور خالہ عائشہ سے نقل کیا ہے کہ اسلام میں ہجرت کے بعد سب سے پہلا بچہ جو دنیا میں آیا تھا، وہ عبد اللہ ابن زبیر تھا۔

بعض نے کہا ہے کہ: نعمان ابن بشير 6 ماہ، عبد اللہ ابن زبیر سے پہلے دنیا میں آیا تھا، اور بعض نے کہا ہے کہ: عبد الله اور نعمان ہجرت کے دوسرے سال دنیا میں آئے تھے، لیکن ظاہرا پہلا قول صحیح ہے۔

ابن جرير نے کہا ہے کہ کہا گیا ہے کہ: مختار ابن ابى عبيد اور زياد ابن سميہ ہجرت کے پہلے سال پیدا ہوئے تھے۔

ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، السيرة النبوية،  ج2، ص340، طبق برنامه الجامع الكبير.

ابن اثير جزرى نے بھی کتاب الكامل فى التاريخ میں ہجرت کے پہلے سال کے حوادث میں عبد الله ابن زبير کی ولادت کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

وقيل إن المختار بن أبي عبيد وزياد بن أبيه ولدا فيها.

کہا گیا ہے کہ مختار ابن ابى عبيد اور زياد ابن سميہ ہجرت کے پہلے سال دنیا میں آئے تھے۔

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفى630هـ) الكامل في التاريخ، ج2، ص9 -10،‌ تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

صفات اخلاقی مختار ابن ابى عبيد:

مختار کے خاندانی حسب و نسب کو نظر میں رکھتے ہوئے، مختار میں حامی ولایت، دیندار، شجاعت، سخاوت، ايثار ، فدا كارى،‌ بلند ہمتی، صادق، امین اور جنگ میں خاص مہارت رکھنے جیسی اعلی صفات پائی جاتی تھیں۔

ابن نماى حلى نے مختار کی صفات کے بارے میں لکھا ہے کہ:

فَنَشَأَ مِقْدَاماً شُجَاعاً لَا يَتَّقِي شَيْئاً وَتَعَاطَى مَعَالِيَ الْأُمُورِ وَكَانَ ذَا عَقْلٍ وَافِرٍ وَجَوَابٍ حَاضِرٍ وَخِلَالٍ مَأْثُورَةٍ وَنَفْسٍ بِالسَّخَاءِ مَوْفُورَةٍ وَفِطْرَةٍ تُدْرِكُ الْأَشْيَاءَ بِفَرَاسَتِهَا وَهِمَّةٍ تَعْلُو عَلَى الْفَرَاقِدِ بِنَفَاسَتِهَا وَحَدْسٍ مُصِيبٍ وَكَفٍّ فِي الْحُرُوبِ مُجِيبٍ وَمَارَسَ التَّجَارِبَ فَحَنَّكَتْهُ وَلَابَسَ الْخُطُوبَ فَهَذَّبَتْهُ.

مختار نے اس حال میں پرورش پائی کہ وہ بہت بہادر اور نڈر انسان تھا، وہ اپنی بلند ہمتی کے ساتھ ہمیشہ بلند ہمت کام انجام دیتا تھا، وہ عقلمند اور حاضر جواب تھا، سخاوت اور صداقت میں بے مثال تھا، اپنی ذہانت اور دوراندیشی سے کاموں کو سمجھ لیا کرتا تھا، وہ آئندہ واقع ہونے والے کسی بھی کام کے اندازہ لگانے اور جنگ کرنے میں بہت طاقتور تھا۔

ابن نما الحلي، جعفر بن محمد بن جعفر بن هبة الله (متوفي645هـ)، ذوب النضار في شرح الثار،‌ ص61، تحقيق: فارس حسون كريم، ناشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة،‌ الطبعة‌ الاولي 1416

ابن نما کے کلام کی تصدیق کرنے کے لیے امير مؤمنین عليہ السلام کا فرمان ہی کافی ہے کہ جب مولا نے مختار کو اس کے بچپن کے زمانے میں اپنے زانو پر بیٹھایا اور کہا: اے ذہین، اے ذہین۔

كشّى نے اپنی علم رجال کی کتاب میں نقل کیا ہے کہ:

جبرئيل بن أحمد قال حدثني العنبري قال حدثني على بن أسباط عن عبد الرحمن بن حماد عن علي بن حزور عن الأصبغ قَالَ: رَأَيْتُ الْمُخْتَارَ عَلَى فَخِذِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَهُوَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ: يَا كَيِّسُ يَا كَيِّسُ.

اصبغ ابن نباتہ نے نقل کیا ہے کہ: میں نے مختار کو دیکھا کہ وہ امير المؤمنين على عليہ السلام کے زانو پر بیٹھا ہوا تھا اور مولا امیر اپنا ہاتھ اس کے سر پر پھیر رہے تھے اور ساتھ ساتھ اس سے فرما رہے تھے کہ اے ذہین اے ذہین۔

الطوسي، الشيخ الطائفة أبى جعفر،‌ محمد بن الحسن بن علي بن الحسين (متوفي 460هـ)، اختيار معرفة الرجال المعروف برجال الكشي، ج1، ص341، رقم 201،‌ تصحيح وتعليق: المعلم الثالث ميرداماد الاستربادي، تحقيق: السيد مهدي الرجائي، ناشر: مؤسسة آل البيت عليهم السلام، قم، تاريخ الطبع: 1404 ه‍

اہل فارس کے ساتھ جنگ میں مختار کے والد کے دنیا سے جانے کے بعد، مختار اپنے چچا کی زیر کفالت پروان چڑھا اور اس نے بہت سی اخلاقی اور انسانی صفات کو اپنے چچا سے ہی سیکھا تھا۔ اس کا چچا امیر المؤمنین علی (ع) کا بہت اچھا محب اور پیروکار تھا۔

اہل سنت کے اقوال کے بر خلاف ، مختار بچپن سے ہی رسول خدا (ص) کے اہل بیت (ع) کا عاشق و دلدادہ تھا اور معاویہ (لع) کے زمانے میں اہل بیت کے فضائل کی ترویج اور تبلیغ کے لیے بہت کام کیا کرتا تھا۔

ابن نما حلى نے لکھا ہے کہ:

ثم جعل يتكلم بفضل آل محمد وينشر مناقب علي والحسن والحسين عليهم السلام ويسير ذلك ويقول إنهم أحق بالأمر من كل أحد بعد رسول الله ويتوجع لهم مما نزل بهم‏.

پھر مختار نے آل محمد (ع) کی فضیلت کے بارے میں کلام کیا اور لوگوں کے درمیان حضرت علی، امام حسن اور امام حسین عليہم السلام کے فضائل اور مناقب پھیلایا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ: رسول خدا کے بعد انکے اہل بیت ہی مقام خلافت کے لیے سب سے زیادہ مناسب ہیں۔

ابن نما الحلي، جعفر بن محمد بن جعفر بن هبة الله (متوفي645هـ)، ذوب النضار في شرح الثار،‌ ص61، تحقيق: فارس حسون كريم، ناشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة،‌ الطبعة‌ الاولي 1416

نتيجہ:

مختار ایک ایسے خاندان میں دنیا میں آیا تھا کہ جو اسلام لانے سے پہلے قبیلہ ثقیف کا بزرگ خاندان شمار ہوتا تھا اور اسلام لانے کے بعد بھی مختار کا دیندار اور شجاع دادا اس قبیلے کا بزرگ تھا کہ جس نے اسلام کی ترقی کے لیے بہت کوششیں کیں تھیں اور اس خاندان کے بہت سے افراد مرتے دم تک اسلام اور اہل بیت (ع) کی حمایت کرنے میں ثابت قدم رہے۔

خود مختار نے بھی رسول خدا (ص) کے بیٹے امام حسین (ع)، انکے اہل و عیال اور اصحاب کے مقدس و مظلوم خون کا بدلہ لینے کے لیے بہت سے ظالم افراد سے جنگ اور مقابلہ کیا اور بہت ہی کم مدت میں اس نے امام حسین (ع) اور انکے اصحاب کے قاتلوں سے بدلہ لے لیا اور انکو انکے مظالم کے انجام تک پہنچا دیا، اور آخر میں خود یہ عظیم محب اہل بیت، امیر المؤمنین علی (ع) کے دشمنوں میں سے ایک ناصبی دشمن کے ہاتھوں شہید ہو گيا۔

فصل اول: اہل سنت کا مختار کی تائید اور تصدیق کرنا:

وہابی ناصبیوں نے مختار کی، دشمن اہل بیت عبد اللہ ابن زبیر سے جنگ اور دشمنی کرنے کیوجہ سے ، اسکو ایک جھوٹا، مدعی نبوت اور اپنے اوپر وحی کے نازل ہونے کا دعوی کرنے والا انسان کہا ہے۔ اسی بارے میں ابن تيميہ ، ابن كثير اور انکے ہمفکروں کے اقوال کو فصل دوم میں ذکر کیا جائے گا۔ وہابی ناصبیوں نے مختار کے بارے میں ایسی غلط اور جھوٹی باتیں کیں ہیں کہ جو اہل سنت کے عقائد سے تضاد رکھتی ہیں، اسی لیے علمائے اہل سنت نے اس بارے وہابیوں کی باتوں کو کلی طور پر ردّ کیا ہے یا انکے اقوال کی تاویل و توجیہ ذکر کی ہے۔

جو کچھ ابن تیمیہ ناصبی اور اسکے ناصبی پیرکاروں نے مختار کے بارے میں ذکر کیا ہے، وہ اہل سنت کے قطعی اعتقادات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ بعد میں ہم ثابت کریں گے کہ اہل سنت کے مطابق مختار رسول خدا (ص) کے اصحاب میں سے ہے اور اس لیے کہ اہل سنت کے نزدیک رسول خدا کے تمام صحابہ عادل، اولیاء اللہ اور ہر طرح کے عیب و نقص سے پاک ہیں، اسی لیے ابن تیمیہ وغیرہ کی مختار پر جھوٹی تہمتیں، اہل سنت کے عقیدے کے بر خلاف ہیں۔

اسکے علاوہ اس فصل میں اہل سنت کی کتب سے بیان کریں گے کہ صحابہ نے مختار کی سالاری میں جنگوں میں شرکت کی، صحابہ مختار کی اقتداء میں نماز ادا کرتے اور اسکی طرف سے دئیے گے ہدایا کو قبول کیا کرتے تھے۔

اب یہاں یہ سوال خودبخود وجود میں آتا ہے کہ مختار کے صحابی ثابت ہونے کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک صحابہ کے عظیم و بلند مرتبے پر فائز ہونے کے بعد، کیا پھر بھی مختار پر وہابیوں کی غلط تہمتوں کی جگہ باقی رہ جاتی ہے ؟

اب سب سے پہلے اہل سنت کی کتب سے مختار کے صحابی ہونے پر دلائل کو ذکر کیا جائے گا اور بعد میں دوسرے موارد کو بیان کیا جائے گا:

صحابہ کا مختار کے پرچم تلے جہاد کرنا:

مختار کے صحابی ہونے کے علاوہ اور اہل سنت کے نزدیک تمام صحابہ کے تمام نقص و عیب سے پاک ہونے کے علاوہ، بعض صحابہ مختار کے لشکر میں تھے اور حتی بعض صحابہ لشکر مختار میں علمدار بھی تھے:

ابو الطفيل، صحابی اور مختار کا علمدار تھا:

ابو الطفيل كنانى جو کہ صحابی اور لشکر مختار کا پرچم دار تھا۔ ابتداء میں ابو طفیل کے لشکر مختار کے علمدار ہونے کے بارے میں اہل سنت کے بزرگان کے کلام کو ذکر کرتے ہیں اور پھر اسکے صحابی ہونے کو ثابت کیا جائے گا:

ابن قتيبہ نے ابو طفیل کے صحابی ہونے کا اعتراف کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:

أبو الطفيل الكناني رضى الله عنه هو أبو الطفيل عامر بن وائلة رأى النبي وكان آخر من رآه موتا ومات بعد سنة مائة وشهد مع علي المشاهد كلها وكان مع المختار صاحب رأيته...

ابو الطفيل كنانى وہی ابو الطفيل عامر ابن واثلہ ہے کہ جس نے رسول خدا کو دیکھا تھا اور وہ آخری صحابی تھا کہ جو دنیا سے گیا تھا، وہ سن 100 ہجری میں فوت ہوا تھا اور اس نے تمام جنگوں میں شرکت کی تھی اور وہ لشکر مختار کا علمدار تھا۔

ابن قتيبة، أبو محمد عبد الله بن مسلم متوفي276هـ)، المعارف، ج1، ص99، تحقيق: دكتور ثروت عكاشة دار النشر: دار المعارف - القاهرة، طبق برنامه الجامع الكبير.

ابن كثير دمشقى نے بھی کہا ہے کہ:

ويقال أنه كان حامل رأيته.

کہا گیا ہے کہ ابو الطفيل لشكر مختار کے پرچم کا حمل کرنے والا تھا۔

ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، البداية والنهاية، ج9، ص190، ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.

عبد القادر بغدادى نے کہا ہے کہ:

وكان من وجوه شيعته وله منه محلٌّ خاص يستغنى بشهرته عن ذكره. ثم خرج طالباً بدم الحسين رضي الله عنه مع المختار بن أبي عبيد وكان معه حتّى قتل المختار.

ابو الطفيل بزرگان شیعیان علی میں سے تھا، اسکو علی (ع) کے نزدیک ایک خاص منزلت حاصل تھی۔ ابو طفیل نے حسین (ع) کے خون کا بدلہ لینے کے لیے مختار کے ساتھ خروج کیا اور وہ مختار کے قتل ہونے تک، اسی کے ساتھ تھا۔

البغدادي، عبد القادر بن عمر (متوفي1093هـ) خزانة الأدب ولب لباب لسان العرب، ج4، ص39، تحقيق: محمد نبيل طريفي/اميل بديع اليعقوب، دار النشر: دار الكتب العلمية – بيروت،‌ الطبعة: الأولى، 1998م،

اہل سنت کے علماء نے جنگوں میں علمداری کے عہدے کو ایک اہم منصب شمار کیا ہے اور اسی کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ابو طفیل لشکر مختار کا علمدار تھا اور مختار کی جنگوں میں یہ ایک اہم ترین منصب تھا۔

ابو طفیل کے لشکر مختار کے علمدار اور قیام مختار میں شریک ہونے کے ثابت کرنے کے بعد اب اہل سنت کے علماء کے اقوال کو ذکر کرتے ہیں کہ جن میں بیان ہوا ہے کہ ابو طفیل رسول خدا (ص) کے اصحاب میں سے ایک صحابی تھا:

 اہل سنت کے بہت ہی مشہور و معروف عالم حاكم نيشاپورى نے كتاب معرفۃ علوم الحديث میں ابو طفیل کے صحابی ہونے کو اس طرح سے بیان کیا ہے:

الطبقة الثانية عشرة صبيان وأطفال رأوا رسول الله صلى يوم الفتح وفي حجة الوداع وغيرها وعدادهم في الصحابة... ومنهم أبو الطفيل عامر بن واثلة وأبو جحيفة وهب بن عبد الله فإنهما رأيا النبي في الطواف وعند زمزم وقد صحت الرواية عن رسول الله أنه قال: لا هجرة بعد الفتح وإنما هو جهاد ونية.

بارواں طبقہ (اصحاب کا) وہ بچے ہیں کہ جہنوں نے فتح مکہ اور حجۃ الوداع کے دن رسول خدا کو دیکھا تھا، اسی وجہ سے انکو اصحاب کے ساتھ شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک ابو الطفيل عامر ابن واثلہ اور ابو جحيفہ وہب ابن عبد الله ہیں کہ انھوں نے زمزم کے کنویں کے نزدیک طواف کرتے وقت رسول خدا کو دیکھا تھا۔ رسول خدا نے صحیح روایت میں فرمایا ہے کہ: فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہو گئی ہے اور بے شک فتح مکہ جہاد اور نیت ہے۔

الحاكم النيسابوري، أبو عبد الله محمد بن عبد الله (متوفي405 هـ)، معرفة علو الحديث، ج1، ص24، تحقيق: السيد معظم حسين،‌ الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت،‌ الطبعة: الثانية، 1397هـ - 1977م

ابو نعيم اصفہانى نے بھی لکھا ہے کہ:

عامر بن واثلة البكري: يكنى أبا الطفيل وهو عامر بن واثلة بن عبد الله بن حميس بن جدي بن سعد بن ليث... مولده عام أحد أدرك من زمان النبي ثمان سنين... آخر من مات من الصحابة...

عامر ابن واثلہ بكرى کہ اسکی کنیت ابو طفيل ہے۔۔۔۔۔ وہ جنگ احد والے سال پیدا ہوا تھا اور وہ 8 سال تک رسول خدا کے زمانے میں موجود تھا۔ وہ آخری صحابی تھا کہ جو دنیا سے رخصت ہوا تھا۔

الأصبهاني، لأبي نعيم (متوفي430هـ)، معرفة الصحابة، ج4، ص2067، دار النشر: طبق برنامه الجامع الكبير.

ابراہيم شيرازى نے کتاب الطبقات الفقہاء میں لکھا ہے کہ:

وكان أبو الطفيل عامر بن وائلة رأى النبي آخر من رآه موتا مات بعد سنة مائة وكان صاحب راية المختار.

ابو الطفيل عامر ابن واثلہ نے رسول خدا کو دیکھا تھا اور وہ آخری صحابی تھا کہ جو سن 100 ہجری کے بعد والے سال میں دنیا سے گیا تھا اور وہ لشکر مختار کا علمدار تھا۔

الشيرازي الشافعي، ابو إسحاق إبراهيم بن علي بن يوسف (متوفى 476هـ)، طبقات الفقهاء،‌  ج1، ص34،‌ تحقيق: خليل الميس، ناشر: دار القلم - بيروت.

نووى شافعى نے اہل سنت کے سب علماء کے اتفاق کو نقل کیا ہے کہ ان سب نے کہا ہے کہ دنیا سے جانے والا آخری صحابی ابو طفیل تھا:

وآخرهم وفاة أبو الطفيل عامر بن واثلة رضي الله عنه توفي سنة مائة من الهجرة باتفاق العلماء واتفقوا على انه آخر الصحابة رضي الله عنهم وفاة.

ابو الطفيل فوت ہونے والا آخری صحابی تھا۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سن 100 ہجری میں فوت ہوا تھا اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ وہ سب صحابہ کے آخر میں فوت ہوا تھا۔

النووي الشافعي، محيي الدين أبو زكريا يحيى بن شرف بن مر بن جمعة بن حزام (متوفى676 هـ)، تهذيب الأسماء واللغات، ج1، ص44، تحقيق: مكتب البحوث والدراسات، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1996م.

مقالے کے طولانی ہونے کی وجہ سے ابو طفیل کے صحابی ثابت کرنے کے لیے اہل سنت کے علماء کے اتنے ہی اقوال کافی ہیں۔ جیسا کا پہلے ذکر کیا گیا کہ اہل سنت کے نزدیک ہر صحابی عادل اور ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک ہوتا ہے۔ اب ابو طفیل بھی جب صحابی ہے تو وہ بھی عادل اور ہر عیب و نقص سے پاک ہو گا، اور اسی ابو طفیل نے مختار کے قیام میں بھی شرکت کی تھی، بلکہ یہ لشکر مختار کا علمدار تھا، پس اس سے واضح اور معلوم ہوتا ہے کہ مختار ایک شریف، اپنی نبوت اور وحی کے نازل ہونے کا دعوی کرنے اور اس جیسی تہمتوں سے پاک انسان ہے۔

ابن عبد البر مالكى نے ابو الطفيل ایک فاضل اور عاقل انسان قرار دیا ہے:

وقد ذكره ابن أبي خيثمة في شعراء الصحابة وكان فاضلا عاقلا حاضر الجواب فصيحا وكان متشيعا في علي ويفضله.

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج4،‌ ص1697، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

ابو عبد الله الجدلی، مختار کی پولیس کا نگران تھا:

ابن حجر نے کتاب تہذيب التہذيب میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

أبو عبد الله الجدلي الكوفي اسمه عبد بن عبد... وقال النسائي في الكنى ثنا يعقوب بن سفيان ثنا آدم ثنا شعبة ثنا الحكم بن عتيبة سمعت أبا عبد الله الجدلي وكان المختار يستخلفه انتهى. قلت كان بن الزبير قد دعا محمد بن الحنفية إلى بيعته فأبى فحصره في الشعب وأخافه هو ومن معه مدة فبلغ ذلك المختار بن أبي عبيد وهو على الكوفة فأرسل إليه جيشا مع أبي عبد الله الجدلي إلى مكة فاخرجوا محمد بن الحنفية من محبسه وكفهم محمد عن القتال في الحرم فمن هنا أخذوا على أبي عبد الله الجدلي وعلى أبي الطفيل أيضا لأنه كان في ذلك الجيش ولا يقدح ذلك فيهما إن شاء الله تعالى ،

ابو عبد الله البجلى اہل كوفہ اور اسکا نام عبد ابن عبد ہے ... نسائى نے کتاب كنى میں کہا ہے کہ: میں نے اس بات کو ابو عبد الله جدلى سے سنا ہے کہ جسکو مختار اپنا جانشین قرار دیا کرتا تھا۔

ابن زبير نے محمد حنفيہ کو بیعت کرنے کے لیے اپنے پاس بلایا، لیکن اس نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا، اور اسی وجہ سے اس نے محمد حنفیہ کو شعب میں قید کر دیا اور تھوڑے عرصے تک وہ محمد حنفیہ اور اسکے ساتھیوں کو ڈراتا رہا۔ یہ خبر حاکم کوفہ مختار تک پہنچی، اس پر مختار نے ابو عبد اللہ جدلی کی سالاری میں ایک لشکر کو مکہ روانہ کیا اور انھوں نے محمد حنفیہ کو قید سے باہر نکالا اور محمد حنفیہ نے انکو حرم امن الہی میں جنگ کرنے سے منع کیا، اسی وجہ سے وہ ابو عبد الله جدلى اور ابو الطفيل پر اعتراض کرتے ہیں، کیونکہ وہ بھی اسی لشکر میں تھا۔

 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، تهذيب التهذيب، ج12، ص165، ش705، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1404 - 1984 م.

کتاب الاصابۃ میں اسکے نام کو صحابہ میں ذکر کیا گیا ہے:

10326 أبو عبد الله الجدلي اسمه عبد بن عبد ذكره بن الكلبي.

ابو عبد الله جدلى، کہ اسکا نام عبد بن عبد ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج7، ص298، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

رسول خدا (ص) اور علی مرتضی (ع) کے اصحاب کی ضمانت پر مختار کا زندان سے رہا ہونا:

بعض صحابہ کے لشکر مختار کے علمدار اور بعض صحابہ کے مختار کی پولیس کے نگران ہونے کے علاوہ، بعض صحابہ نے مختار کے ابن زبیر کے زندان سے رہا ہونے کے لیے اسکی ضمانت بھی دی تھی۔

وضاحت: ابن زبیر کے عاملوں کے ذریعے سے مختار جب کوفہ میں دوسری مرتبہ زندان میں ڈالا گیا تو رسول خدا کے صحابی عبد اللہ ابن عمر کی ضمانت پر وہ زندان سے رہا ہو گیا، لیکن عبد الله ابن يزيد اور ابراہيم ابن محمد، اسکے باوجود کہ عبد اللہ ابن عمر نے انکو مختار کی رہائی سلسلے میں خط بھی لکھا تھا، لیکن پھر بھی ان دونوں نے رسول خدا کے بعض صحابہ اور حضرت امیر کے شیعیان سے مختار کی رہائی کے لیے ضمانت مانگی اور انھوں نے بھی مختار کی ضمانت دیدی۔

 عالم اہل سنت بلاذرى نے کتاب انساب الاشراف میں لکھا ہے کہ:

فكتب ابن عمر إليهما: " أما بعد فقد علمتما الذي بيني وبين المختار بن أبي عبيد من الصهر، وما أنا عليه لكما من الود فأقسمت عليكما بما بيني وبينكما لما خليتما سبيله "، فلما أتى الكتاب عبد الله بن يزيد، وإبراهيم بن محمد دعوا المختار وقالوا: هات بكفلاء يضمونك فضمنه زائدة بن قدامة الثقفي، وعبد الرحمن بن أبي عمير الثقفي، والسائب بن مالك الأشعري وقيس بن طهفة النهدي، وعبد الله بن كامل الشاكري من همدان، ويزيد بن أنس الأسدي، وأحمر بن شميط البجلي ثم الأحمسي، وعبد الله بن شداد الجشمي ورفاعة بن شداد البجلي، وسليم بن يزيد الكندي ثم الجوني، وسعيد بن منقذ الهمذاني ثم الثوري أخو حبيب بن منقذ، ومسافر بن سعيد بن عمران الناعطي وسعر بن أبي سعر الحنفي.

ابن عمر نے عبد الله ابن يزيد اور ابراہيم ابن محمد (عاملان ابن زبير در كوفہ) کو لکھا کہ: تم لوگ میری مختار ابن ابى عبيد کے ساتھ رشتے داری کو جانتے ہو ، میں اسکی بہن کا شوہر ہوں، پس تم کو اپنی اور میری دوستی کی قسم ہے کہ مختار کو زندان سے آزاد کر دو۔

جب ابن عمر کا خط انکو ملا تو انھوں نے مختار کو اپنے پاس بلایا اور اس سے کہا کہ: اپنے ضامن لاؤ کہ جو تمہاری رہائی کے لیے ضمانت دیں، پس زائده ابن قدامہ، عبد الرحمن ابن ابى عمير،‌ سائب ابن مالک اشعرى، قيس ابن طہفۃ، عبد الله ابن كامل، ‌يزيد ابن انس، احمر ابن شميط، عبد الله ابن شداد،‌ رفاعۃ ابن شداد،‌ سليم ابن يزيد كندى، وغیرہ وغیرہ نے اسکی ضمانت دی۔

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج2، ص350، طبق برنامه الجامع الكبير.

عاملان مختار، امیر المؤمنین علی (ع) کے مخلص شیعہ تھے:

مختار کے بعض عاملان کا صحابی ہونے کے علاوہ ، اسکے بعض عامل امیر المؤمنین علی (ع) کے مخلص شیعہ اور تحریک توّابین کے بعض بزرگان بھی تھے۔ تحریک توّابین کے ان بزرگان نے عین الوردہ کی جنگ میں شکست کھانے کے بعد ، مختار کی بیعت کی اور مرتے دم تک اپنی اس بیعت پر ثابت قدم رہے۔

 طبرى نے ابو مخنف کی نقل کے مطابق، انکے ناموں کو ذکر کیا ہے:

قال [ابومخنف] ولما نزل المختار داره عند خروجه من السجن اختلف إليه الشيعة واجتمعت عليه واتفق رأيها على الرضا به وكان الذي يبايع له الناس وهو في السجن خمسة نفر السائب بن مالك الأشعري ويزيد بن أنس وأحمر بن شميط ورفاعة بن شداد الفتياني وعبدالله بن شداد الجشمي.

ابو مخنف نے کہا ہے کہ: مختار جب زندان سے آزاد ہو گیا تو وہ اپنے گھر آیا۔ کوفہ کے شیعہ اسکے پاس آئے اور سب نے مختار کی رائے پر اتفاق کر لیا۔ مختار ایسا شخص تھا کہ جب وہ زندان میں تھا تو پانچ بندوں نے اسکی بیعت کر لی تھی، وہ بندے سائب ابن مالک اشعرى، يزيد ابن انس، احمر ابن شميط ، رفاعہ ابن شداد فتيانى اور عبد الله ابن شداد جشمى تھے۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفى310)، تاريخ الطبري، ج3، ص434، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

سائب ابن مالک:

سائب ابن مالک نے مختار کی بیعت کی تھی اور وہ شیعیان علی میں سے تھا۔ جب ابن زبیر کی طرف سے ابن مطیع کوفے کا حاکم بن کر آیا تو اس نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: مجھے ابن زبیر نے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کے درمیان سیرت شیخین (ابوبکر و عمر) اور سیرت عثمان کے مطابق عمل کروں۔ یہ سن کر سائب ابن مالک کھڑا ہوا اور کہا:

 فقال: لا نرضى إلا بسيرة على بن أبى طالب التى سار بها فى بلادنا ولا نريد سيرة عثمان وتكلم فيه ولا سيرة عمر وان كان لا يريد للناس إلا خيرا وصدقه على ما قال بعض أمراء الشيعة فسكت الأمير وقال إنى سأسير فيكم بما تحبون من ذلك وجاء صاحب الشرطة وهو إياس بن مضارب البجلى إلى ابن مطيع فقال: إن هذا الذى يرد عليك من رؤس أصحاب المختار ولست آمن من المختار فابعث إليه فاردده إلى السجن.

ہم علی ابن ابی طالب کی وہ سیرت کہ جو ہمارے شہروں میں رائج تھی، اسی پر ہی ہم راضی ہیں، اور اگر تم لوگوں سے نیک سلوک کرنا چاہتے ہو تو عثمان اور عمر کی سیرت کے بارے میں بات نہ کرو۔ اسکی اس بات کی بعض شیعہ بزرگان نے بھی تصدیق کی اور اس پر ابن مطیع خاموش ہو گیا اور کہا: جس سیرت کو تم پسند کرتے ہو، میں بھی اسی کے مطابق تہمارے ساتھ عمل کروں گا۔ اسی جگہ پر لشکر کے سالار اياس ابن مضارب نے ابن مطیع سے کہا: یہ جو تم پر اعتراض کر رہا ہے، یہ مختار کے دوستوں میں سے ہے اور مجھے مختار پر کوئی اعتماد نہیں ہے، لہذا کسی کو مختار کے پیچھے بھیجو تا کہ وہ اسے دوبارہ زندان میں لا کر ڈال دے۔

ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، البداية والنهاية، ج8، ص265،‌ ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.

احمد اندلسى نے كتاب العقد الفريد میں بھی سائب ابن مالک کے بارے میں لکھا ہے کہ:

ومن أشراف الأشعريين أبو موسى الأشعري عبد الله بن قيس، صاحب النبي ،... ومنهم السائب بن مالك، كان على شرطة المختار وهو الذي قَويَ أمره.

اشعریوں کے بزرگان میں سے ابو موسى اشعرى عبد الله ابن قيس صحابی رسول خدا ہے۔۔۔ اور اشعریوں میں سے ایک سائب ابن مالک ہے کہ جو مختار کی پولیس کا مدیر تھا اور اسی نے ہی مختار کی حکومت کو تقویت بخشی تھی۔

الأندلسي، احمد بن محمد بن عبد ربه (متوفى328هـ)، العقد الفريد، ج3، ص366،‌ ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الثالثة، 1420هـ - 1999م.

قابل ذکر ہے کہ شیعہ علمائے علم رجال جیسے نجاشی اور شیخ طوسی نے بھی سائب کو رسول خدا (ص) کے اصحاب میں سے شمار کیا ہے:

وكان السائب بن مالك وفد إلى النبي صلى الله عليه وآله وأسلم، وهاجر إلى الكوفة، وأقام بها.

سائب ابن مالک رسول خدا کے پاس آیا اور اسلام لے آیا اور ہجرت کر کے کوفہ چلا گیا اور وہاں ہی رہنے لگا۔

النجاشي الأسدي الكوفي، ابو العباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفى450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب‍ رجال النجاشي، ص82،‌ تحقيق: السيد موسي الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ.

 

الطوسي، الشيخ ابو جعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفى460هـ)، الفهرست، ص 68،‌ تحقيق: الشيخ جواد القيومي،‌ ناشر: مؤسسة نشر الفقاهة،‌ چاپخانه: مؤسسة النشر الإسلامي، الطبعة الأولى1417

اسی سائب ابن مالک کو اہل سنت کے علمائے علم رجال نے فرد موثق و قابل اعتماد قرار دیا ہے:

352 وسألته عن السائب بن مالك فقال ثقة.

عثمان دارمى نے کہا ہے کہ: میں نے يحیى ابن معين سے سائب ابن مالک کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ ثقہ و قابل اطمینان ہے۔

يحيى بن معين أبو زكريا ( متوفي233هـ)، تاريخ ابن معين (رواية عثمان الدارمي)، ج1، ص115، تحقيق: د. أحمد محمد نور سيف، دار النشر: دار المأمون للتراث - دمشق - 1400

ابن حبان نے بھی اسکو كتاب الثقات میں ذکر کیا ہے، (یعنی ثقہ ہے تو اس کتاب میں ذکر کیا ہے)

1039 سائب بن مالك والد عطاء بن السائب... حدثنا عبد الرحمن يعقوب بن إسحاق الهروي فيما كتب إلى قال نا عثمان بن سعيد قال سألت يحيى بن معين عن السائب بن مالك فقال ثقة.

سائب ابن مالک، عطاء ابن السائب کا باپ ہے۔۔۔ عثمان ابن سعيد نے کہا ہے کہ: میں نے يحیى ابن معين سے سائب ابن مالک کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ ثقہ ہے۔

ابن أبي حاتم الرازي التميمي، ابو محمد عبد الرحمن بن أبي حاتم محمد بن إدريس (متوفى 327هـ)، الجرح والتعديل، ج4،‌ ص242، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1271هـ ـ 1952م.

مزّى نے کتاب تہذيب الكمال میں لکھا ہے کہ:

2173 - بخ 4: السائب بن مالك،.... قال أحمد بن عَبد الله العِجْلِيّ: كوفي، تابعي، ثقة. وذكره ابنُ حِبَّان في كتاب"الثقات.

احمد ابن عبد الله عجلى نے کہا ہے کہ: سائب اہل کوفہ، تابعی اور ثقہ ہے اور ابن حبان نے اسکو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے۔

المزي، ابو الحجاج يوسف بن الزكي عبد الرحمن (متوفى742هـ)، تهذيب الكمال، ج1، ص192، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م.

رفاعۃ ابن شداد:

رفاعہ ابن شداد وہ ہے کہ جس نے کوفہ سے امام حسین (ع) کو کوفہ آنے کی دعوت دینے کے لیے خط لکھا تھا۔ وہ امیر المؤمنین علی (ع) کے خاص شیعوں میں سے تھا کہ جس نے واقعہ عاشورا کے بعد سلیمان ابن صرد خزاعی اور اسکے ساتھیوں (گروہ توابین) کے ساتھ مل کر ابن زیاد سے جنگ کی تھی۔

توابین کی شکست کھانے کے بعد رفاعہ اس حادثے سے زندہ بچ جانے والوں میں سے تھا کہ جس نے بعد میں مختار کی بیعت کر لی تھی۔

 نمازى شاہرودى نے رفاعہ کے علی (ع) کا صحابی ہونے کے بارے میں صراحت سے بیان کرنے کے بعد، لکھا ہے کہ:

رفاعة بن شداد البجلي: من أصحاب أمير المؤمنين عليه السلام وشهد معه في حرب الجمل... وهو ممن كتب إلى الحسين عليه السلام من أهل الكوفة. ولما ورد الحسين عليه السلام كربلاء، دعا بدواة وبيضاء وكتب إلى أشراف الكوفة: بسم الله الرحمن الرحيم من الحسين بن علي إلى سليمان بن صرد، و المسيب بن نجية، ورفاعة بن شداد، وعبد الله بن وأل، وجماعة المؤمنين - الخ.

قيام هؤلاء الجماعة لطلب ثار الحسين عليه السلام. وكانوا رؤساء على جند المختار وجاهدوا، وله أشعار في الرجز. قاتل رفاعة، قتال الشديد البأس، القوى المراس، حتى قتل.

رفاعہ ابن شداد بجلى، امیر المؤمنین علی (ع) کے شیعوں میں سے تھا کہ جس نے جنگ جمل میں علی (ع) کے ساتھ شرکت کی تھی۔ رفاعہ ان لوگوں میں سے تھا کہ جس نے امام حسین (ع) کو خط لکھا تھا اور جب امام حسین (ع) کربلا پہنچ گئے تو امام نے کوفہ کے بزرگان کے نام لکھا کہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ خط حسین ابن علی کی طرف سے سلیمان ابن صرد، مسيب ابن نجيہ، رفاعۃ ابن شداد، عبد الله ابن وال اور دوسرے مؤمنین کے نام ہے۔۔۔۔۔ وہ ایسے لوگ تھے کہ جہنوں نے امام حسین (ع) کے خون کا انتقام لینے کے لیے قیام کیا اور وہ لشکر مختار کے سالار تھے اور انھوں نے مختار کے ساتھ مل کر جہاد کیا۔ رفاعہ کے جنگوں کے رجز کے بارے میں اشعار بھی ہیں، رفاعہ نے زبردست جنگ کی، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔

الشاهرودي، الشيخ علي النمازي (متوفي1405هـ )، مستدركات علم رجال الحديث، ج3، ص403،‌ رقم 5647، ناشر: ابن المؤلف، چاپخانه: شفق – طهران، الأولى 1412هـ

آيت الله العظمى خوئى نے بھی لکھا ہے کہ:

رفاعة بن شداد: رجال الشيخ في أصحاب علي عليه السلام، وفي أصحاب الحسن عليه السلام.

رفاعہ ابن شداد شیخ طوسی کے نقل کردہ راویوں میں سے ہے اور شیخ طوسی نے اسکو حضرت علی (ع) اور امام حسین (ع) کے اصحاب میں سے شمار کیا ہے۔

الموسوي الخوئي، السيد أبو القاسم (متوفى1411هـ)، معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواة، ج8، ص203، الطبعة الخامسة، 1413هـ ـ 1992م

اہل سنت کے بعض علماء نے بھی کہا ہے کہ: رفاعہ ابن شداد علی (ع) کے اصحاب میں سے تھا اور اس نے ان حضرت کے ساتھ جنگ صفین میں شرکت کی تھی۔

خير الدين زركلى نے لکھا ہے کہ:

رفاعة بن شداد البجلي: قارئ، من الشجعان المقدمين، من أهل الكوفة. كان من شيعة علي. ولما قتل الحسين وخرج المختار يطالب بدمه انحاز إليه رفاعة.

رفاعۃ‌ ابن شداد بجلى، قارى قرآن، اہل کوفہ کا بہت شجاع اور شیعیان علی (ع) میں سے تھا۔ جب حسین قتل ہو گئے اور مختار نے جب امام حسین کے خون کا بدلہ لینے کے لیے قیام کیا تو رفاعہ بھی اس کے ساتھ آ کر مل گیا۔

الزركلي، خير الدين (متوفي1410هـ)،‌ الأعلام، ج3، ص29،‌ ناشر: دار العلم للملايين - بيروت – لبنان، چاپ: الخامسة، سال چاپ: أيار - مايو 1980 طبق برنامه مكتبه اهل البيت.

عمر ابن ابى جراده نے بھی واضح کہا ہے کہ رفاعہ، علی (ع) کے ساتھ جنگ صفین میں موجود تھا:

رفاعة بن شداد أبو عاصم وقيل رفاعة بن عامر القتباني البجلي وقتبان بطن من بجيلة شهد صفين مع علي رضي الله عنه.

رفاعۃ‌ ابن شداد، اسکی كنيت ابو عاصم ہے ، اور کہا گیا ہے کہ رفاعہ ابن عامر قتبانی بجلی، جنگ صفین میں علی (ع) کے ساتھ موجود تھا۔

كمال الدين عمر بن أحمد بن أبي جرادة (متوفي660هـ)، بغية الطلب في تاريخ حلب، ج8، ص3672، تحقيق: د. سهيل زكار، دار النشر: دار الفكر،

1. مختار ، صحابی رسول خدا (ص):

موضوع کی مناسبت سے بہتر ہے کہ پہلے اہل سنت کے نزدیک صحابہ کے مقام و مرتبے کو ذکر کیا جائے:

اہل سنت اور صحابہ:

بخاری نے صحابہ کی تعریف میں کہا ہے کہ:

وَمَنْ صَحِبَ النبي أو رَآهُ من الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ من أَصْحَابِهِ.

جو مسلمان نے بھی رسول خدا کے ساتھ رہا ہو، یا انکو دیکھا ہو، وہ مسلمان انکے اصحاب میں شمار ہوتا ہے۔

البخاري الجعفي، ابو عبد الله محمد بن إسماعيل (متوفى256هـ)، صحيح البخاري، ج3، ص1335، (كتاب فضائل الصحابة بَاب فَضَائِلِ أَصْحَابِ النبي و رضي الله عنهم)،‌تحقيق د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

 حنبلی مذہب کے پیشوا احمد ابن حنبل نے بھی کہا ہے کہ:

أصحاب رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلّم كلّ من صحبه شهرا أو يوما أو ساعة أو رآه.

اصحاب رسول خدا (ص) وہ ہیں کہ جنہوں نے ایک مہینہ یا ایک دن یا ایک گھنٹہ انکے ساتھ رہے ہوں یا انھوں نے انکو دیکھا ہو !

 ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفى630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج1، ص12، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

احمد ابن حنبل کی تعریف کے مطابق، ایک شخص فقط رسول خدا کو دیکھنے سے صحابی بن جاتا ہے، اگرچہ اس شخص نے ان حضرت سے روایت کو نقل نہ بھی کیا ہو۔

تمام صحابہ عادل اور خداوند کے انتخاب کردہ ہیں:

اہل سنت اپنے عقیدے کے مطابق صحابہ کا خاص احترام کرتے ہیں اور انکو ہر عیب اور نقص سے پاک و منزہ جانتے ہیں۔ وہ تمام صحابہ کو عادل، اہل جنت، اولیائے خداوند اور انبیاء کے بعد سب سے برترین مخلوق جانتے ہیں۔

اہل سنت کے معروف و مشہور مفسر قرآن نے لکھا ہے کہ:

فالصحابة كلهم عدول أولياء الله تعالى وأصفياؤه وخيرته من خلقه بعد أنبيائه ورسله. هذا مذهب أهل السنة والذي عليه الجماعة من أئمة هذه الأمة.

تمام صحابہ عادل، اولیاء اللہ، خداوند کے برگزیدہ اور انبیاء و مرسلین کے بعد بہترین مخلوق ہیں۔ یہی اہل سنت کا مذہب ہے اور یہ وہ مذہب ہے کہ جس پر اس امت کے آئمہ بھی اعتقاد رکھتے تھے۔

الأنصاري القرطبي، ابو عبد الله محمد بن أحمد (متوفى671هـ)، الجامع لأحكام القرآن، ج16، ص299، ناشر: دار الشعب – القاهرة.

ب. اہل سنت کے اعتقاد کے مطابق مختار کے صحابی ہونے پر دلائل:

اہل سنت کی نگاہ میں صحابی کی تعریف جاننے کے بعد، اب مختصر طور پر مختار کے صحابی ہونے پر دلائل کو ذکر کیا جا رہا ہے:

1. تمام اہل ثقیف اور تمام اہل قریش حجۃ الوداع میں حاضر تھے:

اہل سنت کے بہت ہی معروف عالم ابن حجر عسقلانى نے اپنی كتاب الاصابۃ في تمييز الصحابہ کو صحابہ کے بارے میں لکھا ہے۔

اس کتاب میں بعض افراد کے صحابی ہونے پر خاص دلائل کو ذکر کیا گیا ہے، مثال کے طور پر مثلا روایت میں آیا ہے کہ اس نے رسول خدا کو دیکھا ہے۔

اسی طرح بعض افراد کے صحابی ہونے کو خاص قواعد کے ساتھ کلی طور پر ذکر کیا گیا ہے، ان قواعد میں سے ایک یہ ہے کہ اہل سنت کے دلائل کے مطابق قبیلہ ثقیف کے تمام افراد اور تمام اہل قریش حجۃ الوداع میں حاضر تھے، اور اہل سنت کی صحابہ کی تعریف کے مطابق، حجۃ الوداع میں وہ تمام صحابی بن گئے تھے۔

اس معیار و میزان کے مطابق، اہل سنت نے بہت سے اشخاص کو صحابہ میں سے شمار کیا ہے۔ فقط چند نمونوں کو ذکر کیا جا رہا ہے:

1. جبير ابن حيۃ:

اہل سنت کے اس معیار کے مطابق جبیر ابن حیۃ کا صحابی ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔ ابن حجر عسقلانى نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

قوله عن جبير بن حية... وهو من كبار التابعين واسم جده مسعود بن معتب بمهملة ومثناة ثم موحدة ومنهم من عده في الصحابة وليس ذلك عندي ببعيد لأن من شهد الفتوح في وسط خلافة عمر يكون في عهد النبي مميزا وقد نقل بن عبد البر أنه لم يبق في سنة حجة الوداع من قريش وثقيف أحد الا أسلم وشهدها وهذا منهم وهو من بيت كبير فإن عمه عروة بن مسعود كان رئيس ثقيف في زمانه والمغيرة بن شعبة بن عمه.

بخاری کا یہ قول جبیر ابن حیۃ سے نقل کیا گیا ہے۔۔۔ وہ بزرگ تابعین میں سے تھا، اسکے دادا کا نام مسعود ابن متعب تھا۔ بعض نے اس (جبیر) کو اصحاب میں سے شمار کیا ہے، مجھ ابن حجر کی نگاہ میں یہ بعید نہیں ہے، کیونکہ وہ عمر کی خلافت کے دوران ہونے والی فتوحات میں شامل تھا، رسول خدا کے زمانے میں وہ ایک سمجھ دار بچہ تھا۔

ابن عبد البر نے نقل کیا ہے کہ حجۃ الوداع کے سال میں قبیلہ ثقیف اور اہل قریش میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا تھا، مگر یہ وہ مسلمان ہو گیا تھا اور وہاں پر حاضر بھی تھا، اور یہ (جبیر) بھی انہی افراد میں سے ہے، اسکا خاندان بہت شریف و بزرگوار تھا، کیونکہ اسکا چچا عروة ابن مسعود اپنے زمانے میں قبیلہ ثقیف کا رئیس تھا۔ مغيرة ابن شعبۃ بھی اسکا چچا تھا۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 6، ص263، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

2. حبيب ابن اوس:

دوسرا شخص حبيب ابن اوس ہے کہ ابن حجر نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

1568 حبيب بن أوس أو بن أبي أوس الثقفي ذكره بن يونس فيمن شهد فتح مصر فدل على أن له إدراكا ولم يبق من ثقيف في حجة الوداع أحد إلا وقد أسلم وشهدها فيكون هذا صحابيا وقد ذكره بن حبان في ثقات التابعين.

حبيب ابن أوس يا إبن أبى اوس ثقفى، یونس نے اسکے نام کو فتح مصر میں شرکت کرنے والوں میں ذکر کیا ہے، پس اس سے یہ مراد ہے کہ اس نے رسول خدا کو دیکھا ہے، کوئی بھی قبیلہ ثقیف میں سے ایسا نہیں تھا، مگر یہ کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہاں حاضر تھا، پس یہ شخص صحابی ہے۔ ابن حبان نے اسے ثقہ تابعین میں سے ذکر کیا ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج2، ص1568، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

3. حفص ابن ابی العاص:

ابن حجر نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

حفص بن أبي العاص بن بشر بن عبد بن دهمان بن عبد الله بن أبان الثقفي أخو عثمان بن أبي العاص الصحابي المشهور ذكره بن سعد في الطبقات الصغرى فيمن نزل البصرة من الصحابة وقال في الكبرى كتبناه مع إخوته عثمان والحكم ولم يبلغنا أن له صحبة وذكره خليفة في التابعين،

قلت: قد تقدم غير مرة أنه لم يبق قبل حجة الوداع أحد من قريش ومن ثقيف إلا أسلم وكلهم شهد حجة الوداع وهذا القدر كاف في ثبوت صحبة هذا.

حفص ابن ابى العاص ابن بشر ابن عبد ابن دہمان... ثقفى کہ جو عثمان ابن ابى العاص کا بھائی تھا، وہ مشہور صحابى ہے۔

ابن سعد نے اسکو کتاب طبقات صغرى میں، بصرہ میں آنے والے اصحاب میں سے شمار کیا ہے۔

اور کتاب طبقات کبری میں کہا ہے کہ: میں نے اسکو اسکے بھائی (کہ وہ خود بھی صحابی تھا) عثمان اور حکم کے ساتھ لکھا ہے، لیکن مجھ تک یہ بات نہیں پہنچی کہ وہ رسول خدا کے ساتھ بھی رہا ہے۔ خلیفہ نے اسکو تابعین میں سے شمار کیا ہے۔

ابن حجر کہتا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ: یہ بات بہت دفعہ کہی جا چکی ہے کہ سن 10 ہجری میں حجۃ الوادع سے پہلے قبیلہ ثقیف اور قریش میں سے کوئی فرد بھی ایسا باقی نہیں بچا تھا، مگر یہ کہ وہ اسلام لا چکا تھا اور وہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول خدا کے ساتھ شریک تھے اور یہ بات اسکے صحابی ثابت ہونے کے لیے کافی ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج2، ص98 تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

4. ربيعۃ ابن اميۃ:

اس قسم کے صحابہ میں سے ایک ربيعۃ ابن اميہ ہے۔

2592 ربيعة بن أمية بن أبي الصلت الثقفي ذكره المرزباني... وقد تقدم غير مرة أنه لم يبق أحد من ثقيف وقريش بمكة والطائف في حجة الوداع إلا شهدها مسلما.

ربيعۃ ابن اميۃ ابن أبى صلت الثقفى، کہ مرزبانى نے اسکو صحابہ میں ذکر کیا ہے، اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان ہو چکا ہے کہ مکہ اور طائف میں، قبیلہ ثقیف اور قریش میں سے کوئی فرد بھی ایسا باقی نہیں بچا تھا، مگر یہ کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا اور حجۃ الوداع میں حاضر ہوا تھا۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج2، ص461، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

5. قارظ ابن عتبۃ:

7054 قارظ بن عتبة بن خالد... وقد تقدم غير مرة انه لم يبق في حجة الوداع قرشي ولا ثقفي الا اسلم وشهدها.

قارظ ابن عتبۃ ابن خالد... اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان ہو چکا ہے کہ مکہ اور طائف میں، قبیلہ ثقیف اور قریش میں سے کوئی فرد بھی ایسا باقی نہیں بچا تھا، مگر یہ کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا اور حجۃ الوداع میں حاضر ہوا تھا۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج5، ص405، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

6. القاسم ابن اميۃ:

قاسم ابن اميہ کہ یہ اسی اميۃ ابن ابى صلت ثقفى کا بیٹا ہے کہ جو اپنے آپکو پیغمبر کہتا تھا اور اسی وجہ سے وہ رسول خدا پر ایمان نہیں لایا تھا اور آخر کار سن 9 ہجری کو کافر ہی دنیا سے چلا گیا۔

ابن حجر عسقلانى کی نقل کے مطابق، قاسم ابن اميہ کا شمار اصحاب میں سے ہوتا ہے:

7055 القاسم بن أمية بن أبي الصلت الثقفي وكان أبوه يذكر النبوة والبعث فأدرك البعثة فغلب عليه الشقاء فلم يسلم... اما ولده القاسم فذكره المرزباني في معجم الشعراء وهو على شرطهم في الصحابة لأنا قدمنا غير مرة انه لم يبق بمكة والطائف في حجة الوداع أحد من قريش وثقيف الا اسلم وشهدها حكاه بن عبد البر.

قاسم ابن اميۃ ابن‌ أبى صلت ثقفى کہ اسکے باپ نے نبوت کا دعوی کیا تھا، اس نے رسول خدا کے زمانے کو دیکھا تھا، لیکن اس پر شقاوت اور بدبختی کے غالب آنے کی وجہ سے، وہ اسلام نہ لایا۔۔۔۔۔ لیکن اسکے بیٹے کو مرزبانی نے کتاب معجم الشعراء میں ذكر کیا ہے اور وہ انکی شرط و قاعدے کے مطابق صحابہ میں سے ہے، اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان ہو چکا ہے کہ مکہ اور طائف میں، قبیلہ ثقیف اور قریش میں سے کوئی فرد بھی ایسا باقی نہیں بچا تھا، مگر یہ کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا اور حجۃ الوداع میں حاضر ہوا تھا۔ اس قول کو ابن عبد البر نے نقل کیا ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج5، ص405، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

7. محيريز ابن جنادة:

ابن حجر نے اس شخص کو بھی اہل سنت کے معیار کے مطابق صحابہ میں سے شمار کیا ہے:

7829 محيريز بن جنادة بن وهب الجمحي والد عبد الله استدركه الذهبي في التجريد وقال أراه من مسلمة الفتح فإن ولده عبد الله من كبار التابعين.

 قلت... وقد نقلنا مرارا أنه لم يبق بمكة في حجة الوداع من قريش ولا من ثقيف أحد إلا أسلم وشهدها فمقتضاه أن يكون محيريز من أهل هذا القسم.

محيريز ابن جناده ابن وہب جمحى، عبد الله کا باپ ہے۔

ذہبى نے اسکو كتاب التجريد میں دوباره ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ: میں اسکو فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہونے والوں میں شمار کرتا ہوں، کیونکہ اسکا بیٹا عبد اللہ بزرگ تابعین میں سے ہے۔

میں کہتا ہوں اور ‎ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان ہو چکا ہے کہ مکہ اور طائف میں، قبیلہ ثقیف اور قریش میں سے کوئی فرد بھی ایسا باقی نہیں بچا تھا، مگر یہ کہ وہ حجۃ الوداع میں حاضر ہوا تھا۔ پس اس قاعدے کے مطابق، محيريز بھی اس قسم میں سے ہے، یعنی یہ بھی صحابی ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج6، ص44، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

8. معاويۃ الثقفی:

اہل سنت کے معیار کے مطابق رسول خدا (ص) کے اصحاب میں شمار ہونے والوں میں ایک فرد معاویہ ثقفی بھی ہے:

8090 معاوية الثقفي من الأحلاف... ونسبه عقيليا وكأنه من عقيل ثقيف وقد تقدم التنبيه على أن من كان شهد الحروب في أيام أبي بكر وما قاربها من قريش وثقيف يكون معدودا في الصحابة لأنهم شهدوا حجة الوداع.

معاویہ ثقفی ہم پیمانان میں سے ہے۔۔۔۔۔ اسکا نسب عقیلی ہے، گویا وہ عقیل ثقفی کے خاندان میں سے ہے۔ اس سے پہلے آپ آگاہ ہوئے ہیں کہ قبیلہ ثقیف اور قریش کا ہر وہ شخص کہ جو ابوبکر کے دور میں ہونے والی جنگوں میں شریک ہوا ہو، اسکا شمار صحابہ میں سے ہوتا ہے، کیونکہ ایسے لوگ حجۃ الوداع کے موقع پر وہاں حاضر تھے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج6، ص162، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

مختار قبیلہ ثقیف میں سے ہے، لہذا حجۃ الوداع کے موقع پر حاضر تھا:

گذشتہ مطالب کی روشنی میں مختار قطعا رسول خدا کے اصحاب میں سے ہے، کیونکہ اسکا تعلق قبیلہ ثقیف سے ہے اور حجۃ الوداع میں بھی حاضر تھا۔ اسی وجہ سے ابن حجر عسقلانى نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

وقد تقدم غير مرة أنه لم يبق بمكة ولا الطائف أحد من قريش وثقيف إلا شهد حجة الوداع فمن ثم يكون المختار من هذا القسم.

اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان ہو چکا ہے کہ سن 10 ہجری میں مکہ اور طائف میں، قبیلہ ثقیف اور قریش میں سے کوئی فرد بھی ایسا باقی نہیں تھا کہ جو حجۃ الوداع میں رسول خدا کے ساتھ شریک نہ ہوا ہو، اسی وجہ سے مختار اس قسم کے اصحاب میں شمار ہوتا ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج6، ص350، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

اور اسی طرح ابن حجر نے دوسروں کے بارے میں کہا تھا کہ:

وهذا القدر كاف في ثبوت صحبة هذا.

اور یہ بات اسکے صحابی ثابت ہونے کے لیے کافی ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج2، ص98 تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

پس اہل سنت کے صحابہ کے بارے میں عقیدے کے مطابق، مختار رسول خدا (ص) اصحاب میں سے ایک صحابی ہے۔

پیدا ہونے والے ہر بچے کو خیر و برکت کے لیے، رسول خدا (ص) کی خدمت میں لایا جاتا:

ابن حجر عسقلانى نے اپنی كتاب «الاصابۃ في تمييز الصحابہ» میں کہا ہے کہ: میں نے صحابہ کا ترجمہ (زندگی نامہ و تعارف) حروف تہجی کی ترتیب پر ذکر کیا ہے اور ہر حرف کے ذیل میں چار قسم کے صحابہ کو ذکر کیا گيا ہے:

فالقسم الأول - فيمن وردت صحبته بطريق الرواية عنه أو عن غيره، سواء كانت الطريق صحيحة أو حسنة أو ضعيفة، أو وقع ذكره بما يدل على الصحبة بأي طريق كان....

القسم الثاني - من ذكر في الصحابة من الأطفال الذين ولدوا في عهد النبي صلي الله عليه وسلم لبعض الصحابة من النساء والرجال، ممن مات صلي الله عليه وسلم وهو في دون سن التمييز؛ إذ ذكر أولئك في الصحابة، إنما هو على سبيل الإلحاق: لغلبة الظن على أنه صلي الله عليه وسلم رآهم لتوفر دواعي أصحابه على إحضارهم أولادهم عنده عند ولادتهم ليحنكهم ويسميهم ويبرك عليهم.

قسم اول: میں ان صحابہ کا تعارف ہے کہ جہنوں نے بصورت مستقیم یا واسطے کے ساتھ رسول خدا سے روایت کو نقل کیا ہے، چاہے روایت کا طریق و سند صحیح ہو یا حسن ہو یا ضعیف ہو۔

یا قسم اول ان صحابہ کے تعارف کے بارے میں ہے کہ جنکے بارے میں کوئی ایسی چیز نقل ہوئی ہو کہ جو دلالت کرے کہ فلاں شخص صحابی ہے۔۔۔۔۔

 قسم دوم : میں بعض صحابہ کے ذکر کے بارے میں ہے۔ جیسے صحابہ کے وہ بچے کہ جو رسول خدا کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ بچے کہ جو رسول خدا کی شہادت کے وقت ممیّز نہیں تھے۔ (یعنی انکی عمر ابھی زیادہ نہیں تھی) ایسے بچوں کو صحابہ کے دائرے میں شمار کرنا، یہ ملحق کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ غالب گمان یہ ہے کہ رسول خدا نے انکو دیکھا ہے، اسلیے کہ اصحاب اپنے بچوں کو مختلف مقاصد اور بہانوں سے رسول خدا کے پاس لے جایا کرتے تھے، جیسے ولادت کے وقت صحابہ اپنے بچوں کو ان حضرت کے پاس لے جاتے تھے، تا کہ وہ خیر و برکت کے لیے انکو گھٹی دیں اور خود ان بچوں کا نام رکھیں۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج1، ص3، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى1412هـ - 1992م.

مختار اصحاب کی اس قسم میں بھی داخل ہے:

اصحاب کی اس تقسیم بندی کی بناء پر ابن حجر نے بہت سے مردوں اور عورتوں کو صحابہ کے دائرے میں ذکر کیا ہے، کہ ان میں سے ایک مختار ابن عبيد ثقفى بھی ہے۔ وہ جب مختار کے تعارف کو ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ: ابن عبد البر نے اسی دلیل کی وجہ سے اسکو صحابہ میں شمار کیا ہے:

... وكان المختار ولد بالهجرة وبسبب ذلك ذكره بن عبد البر في الصحابة لأنه له رؤية في ما يغلب على الظن.

مختار ہجرت کے پہلے سال پیدا ہوا، اسی وجہ سے ابن عبد البر نے اسے صحابہ کے دائرے میں ذکر کیا ہے، کیونکہ بہت غالب امکان ہے کہ اس نے رسول خدا کو دیکھا ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852 هـ)، لسان الميزان، ج6، ص6، تحقيق: دائرة المعرف النظامية - الهند، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1406هـ – 1986م.

سعد ابن حذيفۃ ابن اليمان:

سعد ابن حذيفہ بھی توابین اور سلیمان ابن صرد خزاعی کے ساتھیوں میں سے تھا کہ جو عین الوردہ کی جنگ کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدائن واپس چلا گیا، لیکن بعد میں مختار کے ساتھ جا کر مل گیا۔

ابن كثير نے کتاب البدايہ میں لکھا ہے کہ:

وكتب سليمان بن صرد إلى سعد بن حذيفة بن اليمان وهو أمير على المدائن يدعوه إلى ذلك فاستجاب له ودعا إليه سعد من أطاعه من أهل المدائن فبادروا إليه بالاستجابة والقبول وتمالؤا عليه وتواعدوا النخيلة فى التاريخ المذكور.

سليمان ابن صرد نے مدائن کے امیر سعد ابن حذيفہ کو خط لکھا اور اسکو امام حسین کے خون کا انتقام لینے کے لیے دعوت دی۔ سعد نے اسکی دعوت کو قبول کر لیا اور سعد نے اپنے یمنی پیروکاروں کو سلیمان کی طرف آنے کی دعوت دی، تو انھوں نے بھی اسکی دعوت کو قبول کر لیا اور سب کا سلیمان پر اتفاق ہو گیا اور ایک مقررہ تاریخ کو نخیلہ کے مقام پر جمع ہونے کا وعدہ کیا۔

ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، البداية والنهاية، ج8، ص247،‌ ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.

طبرى اور دوسرے مؤرخین نے لکھا ہے کہ سعد ابن حذيفہ مختار کی طرف سے شہر مدائن کا قاضی منصوب ہوا:

وبعث سعد بن حذيفة بن اليمان على حلوان.

مختار نے سعد ابن حذيفہ ابن يمان کو شہر حلوان بھیجا۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفى310)، تاريخ الطبري، ج4،‌ ص509،‌ ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي  بن ثابت الخطيب (متوفى463هـ)، تاريخ بغداد، ج9، ص123، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت.

سعد ، اصحاب امام علی (ع) میں سے تھا:

بزرگ شیعہ علماء نے لکھا ہے کہ سعد ابن حذيفہ امیر المؤمنین علی (ع) کے اصحاب میں سے تھا۔

نمازى شاہرودى نے لکھا ہے کہ:

سعد بن حذيفة بن اليمان: من أصحاب أمير المؤمنين عليه السلام.

الشاهرودي، الشيخ علي النمازي ( متوفي1405هـ ) ، مستدركات علم رجال الحديث، ج4 ، ص 27،‌ ناشر : ابن المؤلف ، چاپخانه: شفق – طهران، الأولى 1412هـ

آيت الله العظمى خويى نے بھی لکھا ہے کہ:

5026 - سعد بن حذيفة: اليمان، من أصحاب علي عليه السلام، رجال الشيخ.

الموسوي الخوئي، السيد أبو القاسم (متوفى1411هـ)، معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواة، ج9، ص59، الطبعة الخامسة، 1413هـ ـ 1992م

ابراہيم ابن مالک اشتر:

جیسا کہ بیان ہوا کہ قیام مختار میں بہت سے شیعہ بزرگان کا بہت کلیدی کردار تھا، لیکن جرات سے کہا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی چہرہ بھی ابراہیم ابن مالک اشتر کی طرح مختار کے دوستوں اور لشکر میں نہ تھا کہ جس نے مختار کے قیام میں سے سب سے زیادہ جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔

ابن نماى حلى نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْتَرُ مُشَارِكاً لَهُ فِي هَذِهِ الْبَلْوَى وَمُصَدِّقاً عَلَى الدَّعْوَى وَلَمْ يَكُ إِبْرَاهِيمُ شَاكّاً فِي دِينِهِ وَلَا ضَالًّا فِي اعْتِقَادِهِ وَيَقِينِهِ وَالْحُكْمُ فِيهِمَا وَاحِد.

ابراہيم ابن اشتر تمام حالات میں مختار کے ساتھ شریک تھا اور وہ مختار کے دعووں کی تصدیق کرتا تھا۔ ابراہیم اپنے دین میں شک نہیں کرتا تھا اور وہ اپنے اعتقاد اور یقین میں گمراہ نہیں تھا۔ مختار اور ابراہیم ایک ہی تھے۔

ابن نما الحلي، جعفر بن محمد بن جعفر بن هبة الله (متوفي645هـ)، ذوب النضار في شرح الثار،‌ ص58، تحقيق: فارس حسون كريم، ناشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة،‌ الطبعة‌ الاولي 1416

   ابراہيم امیر المؤمنین علی (ع) کا باوفا اور مخلص صحابی تھا کہ جس نے اپنے والد کے ساتھ جنگ صفین میں شرکت کی تھی اور دشمن کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔

سيد محسن نے كتاب اعيان الشيعہ میں کہا ہے کہ:

إبراهيم بن مالك بن الحارث الأشتر النخعي قتل سنة 71.... وكان مع أبيه يوم صفين مع أمير المؤمنين عليه السلام وهو غلام وابلى فيها بلاء حسنا وبه استعان المختار حين ظهر بالكوفة طالبا بثار الحسين عليه السلام وبه قامت امارة المختار وثبتت أركانها.

ابراہيم ابن مالک ابن حارث اشتر نخعى سن 71 ہجری میں قتل ہوا اور اپنے والد کے ہمراہ جنگ صفین میں اس حال میں کہ وہ نوجوان تھا امیر المؤمنین کے لشکر میں شریک ہو کر جنگ کی اور اس نے وہ اس امتحان سے سرخرو ہوا تھا اور جب مختار نے کوفہ میں قیام کیا تو اس نے امام حسین کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے، ابراہیم سے مدد مانگی اور اسی کے ذریعے سے مختار کی حکومت قائم اور محکم ہوئی۔

محسن (متوفي1371هـ)، أعيان الشيعة، ج2، ص 200، تحقيق وتخريج: حسن الأمين، ناشر: دار التعارف للمطبوعات - بيروت – لبنان، سال چاپ: 1403 - 1983 م

مؤرخین کے مطابق ابراہیم نے جب عبید اللہ ابن زیاد کو واصل جہنم کیا تو مختار نے اسکو شہر موصل اور آذربائیجان کا والی مقرر کر دیا:

وأقام واليا على الموصل وأرمينية وأذربيجان من قبل المختار وهو على العراق وال.

ابراہيم شہر موصل ، ارمنيہ اور آذربيجان پر مختار کی طرف سے والی کے عنوان سے انتخاب کیا گیا در حالیکہ خود مختار اس وقت عراق کا والی تھا۔

اليعقوبي، أحمد بن أبي يعقوب بن جعفر بن وهب بن واضح (متوفى292هـ)، تاريخ اليعقوبي، ج2، ص259، ناشر: دار صادر – بيروت.

عبد الله ابن حارث:

امیر المؤمنین کے اصحاب میں سے ایک مالک اشتر کا بھائی، عبد الله ابن حارث ہے۔

شيخ طوسى نے اسکو امیر المؤمنین علی کے اصحاب میں سے شمار کیا ہے:

7 - عبد الله بن الحارث، أخو مالك الأشتر.

الطوسي، الشيخ ابو جعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفى460هـ)، رجال الطوسي، ص70، تحقيق: جواد القيومي الأصفهاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الأولى، 1415هـ.

آیت اللہ خويى اور علم رجال کے دوسرے علماء نے لکھا ہے کہ:

عبد الله بن الحارث أخو مالك: الأشتر: من أصحاب علي (عليه السلام)، رجال الشيخ.

الموسوي الخوئي، السيد أبو القاسم (متوفى1411هـ)، معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواة، ج11، ص164، الطبعة الخامسة، 1413هـ ـ 1992م

الشاهرودي، الشيخ علي النمازي (متوفي1405هـ )، مستدركات علم رجال الحديث، ج4، ص508، ناشر: ابن المؤلف، چاپخانه: شفق – طهران، الأولى 1412هـ

یہ مختار کے قیام میں اسکے ساتھ شریک تھا اور اسکے بعد مختار کی طرف سے ارمنیہ کا والی مقرر ہوا۔

طبرى نے نقل كیا ہے کہ:

قال أبو مخنف حدثني حصيرة بن عبد الله الأزدي وفضيل بن خديج الكندي والنضر بن صالح العبسي قالوا: أول رجل عقد له المختار راية عبد الله بن الحارث أخو الأشتر عقد له على أرمينية..

ابو مخنف نے حصیرہ، فضیل اور نضر سے نقل کیا ہے کہ مالک اشتر کا بھائی عبد اللہ ابن حارث وہ پہلا بندہ ہے کہ جسکو مختار نے ارمینہ کا والی منصوب کیا تھا۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفى310)، تاريخ الطبري، ج3، ص448، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

احمر ابن شميط البجلی:

مختار کے ایک دوسرے لشکری کا نام احمر ابن شمیط بجلی ہے۔ جاحظ اور بلاذری کی نقل کے مطابق یہ بھی امیر المؤمنین علی (ع) کے شیعوں میں سے تھا کہ ان حضرت کی خلافت کے دوران اس نے بہت سے فرائض کو انجام دیا تھا۔

جاحظ اور بلاذرى نے شبيب ابن كريب کے بارے میں بیان کرتے ہوئے، احمر ابن شميط کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ:

وقال أبو الحسن عن علي بن سليمان كان شبيب بن كريب الطائي يصيب الطريق في خلافة علي بن أبي طالب كرم الله تعالى وجهه فبعث اليه احمر بن شميط العجلي واخاه في فوارس فهرب شبيب.

ابو الحسن (مدائنی) نے على ابن سليمان سے نقل کیا ہے کہ شبيب ابن كريب طائى على ابن ابى طالب عليہ السلام کی خلافت کے زمانے میں ڈاکے مارا کرتا تھا۔ ان حضرت نے احمر ابن شميط عجلى اور اسکے بھائی کو ایک لشکر کے ساتھ ، اسکے پیچھے بھیجا، اس پر شبیب فرار ہو گیا۔

الجاحظ (متوفي255هـ)، البيان والتبيين، ج1، ص430، تحقيق: فوزي عطوي،‌ دار النشر: دار صعب - بيروت

بلاذرى نے بھی اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

المدائني عن عوانة بن الحكم قال: كانت شبيب بن عمرو بن كريب الطائي يصيب الطريق، فبعث إليه علي أحمر بن شميط وأخاه فنذر بهم فركب فرساً له يقال له العصا وهرب.

شبيب ابن عمرو ڈاکے مارتا تھا، حضرت على عليہ السلام نے احمر ابن شميط کو اسکے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا، جب احمر وہاں پہنچا تو شبیب اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر فرار کر گیا۔

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج1، ص292، طبق برنامه الجامع الكبير.

صحابہ کا مختار کی اقتداء میں نماز ادا کرنا:

ابن تیمیہ اور اسکے پیروکاروں کی مختار پر بہت سی تہمتوں میں سے ایک تہمت یہ ہے کہ اس نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ لیکن اہل سنت کی روایات اور انکے علماء کے اقرار کے مطابق ، صحابہ مختار کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے ! کیا نبوت کا دعوی کرنے والے ایک کافر کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟

كافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کا حکم:

اہل سنت کے مذہب کے مطابق کافر کی امامت میں نماز پڑھنے کے شرعی حکم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تمام مذاہب اسلامی میں امام جماعت کی خاص شرائط کو ذکر کیا گیا ہے۔ ممکن ہے بعض شرائط مختلف ہوں، لیکن تمام مذاہب اسلامی کا اتفاق ہے کہ امام جماعت کو مسلمان ہونا چاہیے۔

امام شافعى نے کہا ہے کہ:

إمَامَةُ الْكَافِرِ - ( قال الشَّافِعِيُّ ) رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا كَافِرًا أَمَّ قَوْمًا مُسْلِمِينَ ولم يَعْلَمُوا كُفْرَهُ أو يَعْلَمُوا لم تَجْزِهِمْ صَلَاتُهُمْ

امامت كافر: شافعى نے کہا ہے کہ اگر ایک کافر مسلمانوں کے امام جماعت بننے کا عہدہ اپنے ذمہ لے لے، مسلمان اسکے کافر ہونے کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، تو انکی نماز اس کافر کے پیچھے صحیح نہیں ہے !

الشافعي، محمد بن إدريس أبو عبد الله (متوفي204هـ)، الأم، ج1، ص 168، دار النشر: دار المعرفة - بيروت، الطبعة: الثانية 1393 

آبى ازہرى نے لکھا ہے کہ:

فاعلم أن الذكورة المحققة شرط في صحة الإمامة، ويزاد على هذا الشرط شروط أخر وهي: الاسلام، فلا تصح إمامة الكافر.

آگاہ ہو جاؤ کہ امام جماعت کی امامت کے صحیح ہونے کے لیے اس کا مرد ہونا، شرط (ضروری) ہے۔ اس شرط کے علاوہ دوسری شرائط کا بھی امام جماعت میں ہونا ضروری ہے۔ ان شرائط میں سے ایک، اسلام ہے، پس امام جماعت کا کافر ہونا صحیح نہیں ہے۔

الآبي الأزهري، صالح عبد السميع (متوفي9999هـ)، الثمر الداني في تقريب المعاني شرح رسالة ابن أبي زيد القيرواني،‌ ص148، دار النشر: المكتبة الثقافية - بيروت

ابراہيم شيرازى نے بھی شافعى کے قول کو اس بارے میں بیان کیا ہے کہ:

ولا تصح إمامة الكافر لانه ليس من أهل الصلاة فلا يجوز أن يعلق صلاته على صلاته...

کافر کا امام جماعت ہونا صحیح نہیں ہے، کیونکہ وہ اہل نماز نہیں ہے، پس کسی مسلمان کا اپنی نماز کو اس (کافر) کی نماز پر موقوف کرنا، جائز نہیں ہے۔۔۔۔۔

الشيرازي الشافعي، ابو إسحاق إبراهيم بن علي بن يوسف (متوفى 476هـ)، المهذب في فقه الإمام الشافعي، ج1، ص97، ناشر: دار الفكر – بيروت.

سيف الدين شاشى نے کتاب حليۃ العلماء فى معرفۃمذاہب الفقہاء، میں کہا ہے کہ:

ولا تصح إمامة الكافر فإذا صلى بقوم لم يحكم بإسلامه.

کافر کا امام جماعت ہونا صحیح نہیں ہے۔ وہ جب بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھے تو اس سے اس پر مسلمان ہونے کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔

الشاشي، سيف الدين أبي بكر محمد بن أحمد الشاشي القفال (متوفي507هـ)، حلية العلماء في معرفة مذاهب الفقهاء، ج2، ص169،‌ تحقيق: د. ياسين أحمد إبراهيم درادكة، دار النشر: مؤسسة الرسالة / دار الأرقم - بيروت / عمان،‌ الطبعة: الأولى1980م 

نفراوى مالكى نے بھی لکھا ہے کہ:

وَاعْلَمْ أَنَّ الْإِمَامَةَ لها شُرُوطُ صِحَّةٍ وَشُرُوطُ كَمَالٍ فَشُرُوطُ صِحَّتِهَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ أَوَّلُهَا الذُّكُورَةُ... ثَانِيهَا الْإِسْلَامُ فَلَا تَصِحُّ إمَامَةُ الْكَافِرِ وَإِنْ حُكِمَ بِإِسْلَامِهِ إنْ نَطَقَ بِالشَّهَادَتَيْنِ...

امامت جماعت کے صحیح ہونے کی اور اسکے کامل ہونے کی بھی کچھ شرائط ہیں۔ اسکے صحیح ہونے کی 13 شرائط ہیں، پہلی شرط، مرد ہونا ہے۔۔۔۔۔ دوسری شرط، اسلام ہے، پس کافر کی امامت (امام جماعت) صحیح نہیں ہے، اگرچہ شہادتین کے کہنے کی وجہ سے اسکے مسلمان ہونے کا حکم ہی کیوں نہ کیا جاتا ہو۔ 

النفراوي المالكي، أحمد بن غنيم بن سالم (متوفي1125هـ)، الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني، ج1، ص205،‌ دار النشر: دار الفكر - بيروت – 1415

نبوت کا دعوی کرنے والا كافر ہے:

اسی طرح علمائے اہل سنت کے اعتراف کے مطابق نبوت کا دعوی کرنے والا انسان کافر ہوتا ہے۔ مذہب امامیہ کی طرح دوسرے مذاہب اسلامی بھی منکر نبوت اور مدعی نبوت کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس بارے میں اہل سنت کے بعض علماء کے اقوال کو ذکر کیا جا رہا ہے:

كشميرى عالم اہل سنت کہ جس نے کتاب سنن ترمذی کی شرح بھی لکھی ہے، اس نے کہا ہے کہ علماء کا اجماع (اتفاق) ہے کہ مدعی نبوت کافر ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ اسکو قتل کرنا واجب ہے:

 مدعي النبوة كافر إجماعاً وواجب القتل.

الكشميري، محمد أنورشان ابن معظم شان (الوفاة: لا يوجد)، العرف الشذي شرح سنن الترمذي، ج4، ص11،‌ تحقيق: الشيخ محمود شاكر، دار النشر: دار احياء التراث العربي - بيروت/لبنان،‌ الطبعة: الأولى1425هـ-2004م

يوسف حنبلى نے کہا ہے کہ:

ويحصل الكفر بأحد أربعة أمور:... أو ادعاء النبوة أو الشرك له تعالى...

کفر چار چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ وجود میں آتا ہے:۔۔۔۔۔ ان میں سے ایک نبوت کا دعوی کرنا ہے یا خداوند کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا ہے، (شرک)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الحنبلي، مرعي بن يوسف (متوفي1033هـ)، دليل الطالب على مذهب الإمام المبجل أحمد بن حنبل، ج1، ص317، دار النشر: المكتب الإسلامي – بيروت،‌ الطبعة: الثانية1389

صحابہ کا مختار کی اقتداء میں نماز ادا کرنا:

 اہل سنت کے بہت ہی نامور عالم ابن حزم اندلسى کہ شمس الدين ذہبى نے ان الفاظ میں اسکی شخصیت علمی کا تعارف کرایا ہے:

ابن حزم الإمام الأوحد البحر ذو الفنون والمعارف أبو محمد علي ابن أحمد بن سعيد بن حزم..

قال أبو عبدالله الحميدي كان ابن حزم حافظا للحديث وفقهه مستنبطا للأحكام من الكتاب والسنة متفننا في علوم جمة عاملا بعلمه ما رأينا مثله فيما اجتمع له من الذكاء وسرعة الحفظ وكرم النفس والتدين۔

ابن حزم امام بے مثال، بحر علوم و فنون ہے۔

ابو عبد الله الحميدى: ابن حزم حافظ روايات، علم میں مہارت رکھنے والا، قرآن و سنت سے احکام کو استنباط کرنے والا، علم پر عمل کرنے والا تھا، میں (ذہبی) نے ذہانت، حافظے کے تیز ہونے، شریف النفس ہونے اور دیندار ہونے میں اس جیسا کوئی نہیں دیکھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفى748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج18، ص 188- 184، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

ابن حزم کہ جو علمائے اہل سنت کا مورد اکرام عالم ہے، اس نے اپنی کتاب میں واضح کہا ہے کہ: میں نے کسی صحابی کو نہیں دیکھا کہ جس نے مختار ابن عبید کے پیچھے نماز نہ پڑھی ہو۔ یہ بات اس چیز کی علامت ہے کہ صحابہ مختار کو مسلمان مانتے تھے۔

پس ابن تیمیہ ناصبی اور اسکے پیروکاروں کی طرف سے مختار پر نبوت کا دعوی وغیرہ کرنے والی تمام تہمتیں جھوٹی اور غلط ہیں۔ بنی امیہ کا دفاع کرنے والوں کی طرف سے مختار پر تمام تہمتیں صرف اور صرف اہل بیت (ع) کا دفاع کرنے اور خاص طور پر یزیدیوں سے امام حسین (ع) کے خون کا انتقام لینے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔

ابن حزم اندلسى نے کتاب المحلى میں کہا ہے کہ:

قال عَلِيٌّ: ما نَعْلَمُ أَحَدًا من الصَّحَابَةِ رضي الله عنهم امْتَنَعَ من الصَّلاَةِ خَلْفَ الْمُخْتَارِ وعبيد اللَّهِ بن زِيَادٍ وَالْحَجَّاجِ وَلاَ فَاسِقَ أَفْسَقُ من هَؤُلاَءِ.

على ابن حزم نے کہا ہے کہ: میں صحابہ میں سے کسی صحابی کو نہیں جانتا کہ جس نے مختار، عبيد الله ابن زياد، حجاج اور ان سے بھی فاسق تر بندے کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا ہو۔

إبن حزم الأندلسي الظاهري، ابو محمد علي بن أحمد بن سعيد (متوفى456هـ)، المحلي، ج4، ص214، تحقيق: لجنة إحياء التراث العربي، ناشر: دار الآفاق الجديدة - بيروت.

اسی طرح ابن سعد نے کتاب الطبقات الكبرى میں سند معتبر کے ساتھ نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

قال حدثنا أبو شهاب (الحناط) عن يونس (بن عبيد بن دينار) عن نافع (مولی‌ ابن عمر) قال قيل لابن عمر زمن بن الزبير والخوارج والخشبية أتصلي مع هؤلاء ومع هؤلاء وبعضهم يقتل بعضا قال فقال من قال حي على الصلاة اجبته ومن قال حي على الفلاح أجبته ومن قال حي على قتل أخيك وأخذ ماله قلت لا.

عبد اللہ ابن زبیر، خوارج اور خشبیہ کے زمانے میں عبد اللہ ابن عمر سے کہا گیا کہ: کیا تم ان، ان کے ساتھ نماز پڑھتے ہو، حالانکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں ؟ اس نے جواب دیا: جو بھی کہے: جلدی آؤ نماز کی طرف، میں اسکی آواز پر لبیک کہتا ہوں، اور جو کہے: جلدی آؤ فلاح و کامیابی کی طرف، میں اسکی ندا پر لبیک کہتا ہوں، لیکن جو کہے جلدی آؤ اپنے بھائی کو قتل کرنے کے لیے اور اسکا مال لوٹنے کے لیے، تو میں اسکی بات کو نہیں مانتا۔

الزهري، محمد بن سعد بن منيع ابو عبد الله البصري (متوفى230هـ)، الطبقات الكبرى، ج4، ص 169، ناشر: دار صادر - بيروت.

ان بزرگان کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ:

1- ایک کافر انسان کا امام جماعت بننا جائز نہیں ہے،

2- اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت کا دعوی کرنے والا انسان کافر ہوتا ہے۔

ان دو نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ابن تیمیہ اور ابن کثیر نے کہا ہے کہ مختار نے نبی ہونے کا دعوی کیا تھا، پس وہ کافر ہے، اور اس طرف سے ابن حزم نے صراحت سے کہا ہے کہ مختار کے زمانے میں موجود تمام صحابہ، مختار کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔

ان مطلب کی روشنی میں اب ہم ابن تیمیہ ناصبی اور اسکے کند ذہن پیروکاروں سے سوال کرتے ہیں کہ:

اگر مختار نے واقعا اپنے نبی ہونے کا دعوی کیا تھا اور وہ کافر تھا تو، پھر کیوں تمام صحابہ اسکی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے ؟

کیا مختار نے کسی اندھیری غار میں نبوت کا دعوی کیا تھا کہ کسی کو اسکے نبی ہونے کا علم نہیں تھا ؟ اگر مختار نے کسی دنیاؤی غرض و مال دنیا کے لیے ایسا دعوی کیا تھا تو عقل کہتا ہے کہ اسکو یہ دعوی سب مسلمانوں کے سامنے کرنا چاہیے تھا، تا کہ وہ اپنے مطلوبہ اہداف تک پہنچ پاتا، اور ایسا دعوی اس وقت کے تمام صحابہ کو معلوم ہونا تھا، پس اگر صحابہ کی نظر میں بھی ایسا دعوی کرنے والا شخص کافر ہوتا تو وہ مختار کے پیچھے نماز کیوں پڑھتے ؟

جیسا کہ امام شافعی کا فتوی ذکر ہوا کہ صحابہ کو کسی کے مدعی نبوت ہونے کا علم ہو یا علم نہ بھی ہو تو ، اسکے کفر کی وجہ سے انکی نماز قبول نہیں ہوتی ! کیا کوئی مسلمان یہ بات قبول کرنے کے لیے تیار ہے کہ صحابہ کی نماز قبول نہیں ہوتی ؟!!!

دو صحابہ کا مختار کے ہدئیے کو قبول کرنا:

مؤرخین کے مطابق مختار اپنے دور حکومت میں رسول خدا کے دو صحابہ ابن عباس اور ابن عمر کے لیے ہدایا بھیجا کرتا تھا اور وہ بھی ان ہدایا کو قبول کر لیا کرتے تھے !

 اہل سنت کے سیرت نویس عالم شيبانى نے لکھا ہے کہ:

فكان ابن عباس وابن عمر رضي الله عنهم يقبلان هدية المختار.

ابن عباس اور ابن عمر مختار کے ہدايا کو قبول کیا کرتے تھے۔

الشيباني، محمد بن الحسن(متوفي 198هـ)، السير الكبير، ج1، ص99، تحقيق: د. صلاح الدين المنجد، دار النشر: معهد المخطوطات – القاهرة. طبق بر نامه الجامع الكبير.

عالم بزرگ اہل سنت ابن حزم اندلسى نے حبيب ابن ابى ثابت سے ایسے نقل کیا ہے کہ:

وَمِنْ طَرِيقِ الْحَجَّاجِ بن الْمِنْهَالِ نَا عبد اللَّهِ بن دَاوُد هو الْخُرَيْبِيُّ عن الأَعْمَشِ عن حَبِيبِ بن أبي ثَابِتٍ قال: رَأَيْت هَدَايَا الْمُخْتَارِ تَأْتِي ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ عُمَرَ فَيَقْبَلاَنِهَا.

حبيب ابن ثابت نے کہا ہے کہ: میں نے دیکھا تھا کہ ابن عباس اور ابن عمر کے لیے مختار کی طرف سے ہدایا آتے تھے اور وہ بھی انکو قبول کر لیا کرتے تھے۔

إبن حزم الأندلسي الظاهري، ابو محمد علي بن أحمد بن سعيد (متوفى456هـ)، المحلي، ج9، ص153،‌ تحقيق: لجنة إحياء التراث العربي، ناشر: دار الآفاق الجديدة – بيروت

ابن بطال نے کتاب شرح صحيح البخارى میں اور بدر الدين عينى نے کتاب عمدة القارى شرح صحيح البخاری میں حبيب ابن ثابت سے اسی روایت کو نقل کیا ہے۔

إبن بطال البكري القرطبي، ابو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفى449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج3، ص508، تحقيق: ابوتميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

العيني الغيتابي الحنفي، بدر الدين ابو محمد محمود بن أحمد (متوفى 855هـ)، مغاني الأخيار، ج3، ص508، طبق برنامه الجامع الكبير.

ابن اثير نے کتاب اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ:

وكان يرسل المال إلى ابن عمر، وابن عباس، وابن الحنفية وغيرهم، فيقبلونه منه.

مختار ابن عمر ، ابن عباس اور ابن حنفيہ (محمد ابن علی) وغیرہ کے لیے اموال (ہدایا) آتے تھے اور وہ بھی انکو قبول کر لیا کرتے تھے۔

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفى630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج5، ص128،‌ تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

اہل سنت کے بزرگ علماء سے نقل کردہ ان معتبر روایات کے مطابق، اگر مختار مدعی نبوت اور کافر تھا، تو پھر رسول خدا (ص) کے بزرگ صحابہ ابن عباس اور ابن عمر وغیرہ کو اسکی طرف سے بھیجے گئے ہدایا کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔

بزرگ صحابہ کا مختار کی مدح و ثناء کرنا:

بلاذرى نے مختار کے بارے میں ابن عباس کی رائے کے بارے میں دو روایات کو ذکر کیا ہے:

وقال عبد الله بن الزبير لابن عباس وأخبره بأمر المختار فرأى منه توجعاً وإكباراً لقتله أتتوجع لأبن أبي عبيد وتكره أن تسميه كذاباً؟ فقال له: ما جزاؤه ذلك منا، قتل قتلتنا وطلب بدمائنا وشفى غليل صدورنا.

عبد الله ابن زبير نے ابن عباس سے بات کی اور اسے مختار کے قتل ہونے کے بارے میں خبر دی، ابن زبیر نے دیکھا کہ ابن عباس یہ خبر سن کر غمگین ہو گیا۔ ابن زبیر نے اس سے کہا: کیا تم مختار کے قتل ہونے کی وجہ سے غمگین ہو گئے ہو ؟ اور کیا تم اسکو کذّاب نہیں کہنا چاہتے ؟ یہ سن کر ابن عباس نے کہا: ہمارا اسکو ایسا کہنا بالکل مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور وہ ہمارے خون کا انتقام لینے والا ہے اور اس نے ہمارے سینے میں موجود غموں کو سکون بخشا ہے۔

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج2، ص371، طبق برنامه الجامع الكبير.

وقد روي عن ابن عباس إنه ذكر عنده المختار، فقال: صلّى عليه الكرام الكاتبون.

ابو صالح کہتا ہے کہ: ابن عباس مختار کے بارے میں کہتا تھا کہ: اس نے ہمارے خون کا بدلہ لیا اور ہمارے قاتلوں کو قتل کیا ہے، ہم مختار بہتر جانتے ہیں، پس تم بھی اسکی فقط اچھائی کو بیان کرو۔

روایت نقل ہوئی ہے کہ ابن عباس کے نزدیک مختار کا ذکر ہوا تو اس نے کہا: ملائکہ کراما کاتبین کا درود و سلام ہو مختار پر۔

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج2، ص371، طبق برنامه الجامع الكبير

اسی طرح بلاذرى نے کتاب انساب الاشراف میں اور ابن اثير نے بھی کتاب الكامل فى‌التاريخ میں پہلی روایت کو ایسے نقل کیا ہے:

وقال ابن الزبير لعبد الله بن عباس ألم يبلغك قتل الكذاب قال ومن الكذاب قال ابن أبي عبيد قال قد بلغني قتل المختار قال كأنك نكرت تسميته كذابا ومتوجع له قال ذاك رجل قتل قتلتنا وطلب ثأرنا وشفى غليل صدورنا وليس جزاؤه منا الشتم والشماتة

ابن زبير نے عبد الله ابن عباس سے کہا: کیا تمہیں کذّاب کے قتل ہونے کی خبر ملی ہے ؟ ابن عباس نے کہا: جھوٹا کون ہے ؟ ابن زبیر نے کہا: ابن ابی عبید (مختار)، ابن عباس نے کہا: ہاں مجھے مختار کے قتل ہونے کی خبر ملی ہے۔ ابن زبیر نے اس سے کہا: کیا تم مختار کے قتل ہونے کی وجہ سے غمگین ہو گئے ہو ؟ اور کیا تم اسکو کذّاب نہیں کہنا چاہتے ؟

ابن عباس نے اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور وہ ہمارے خون کا انتقام لینے والا ہے اور اس نے ہمارے سینے میں موجود غموں کو سکون بخشا ہے، لہذا یہ اسکی جزا نہیں ہے کہ اسکو گالی دی اور برا بھلا کہا جائے۔

 البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج1، ص444، طبق برنامه الجامع الكبير

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفى630هـ) الكامل في التاريخ، ج4، ص72، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

اسی طرح علمائے اہل سنت نے کہا ہے کہ: عبد الله ابن عمر، مختار اور اسکے لشکر کو مسلمان اور اہل قبلہ جانتے تھے۔

ولما قتل مصعب المختار ملك البصرة والكوفة... وأن مصعبا لقي عبدالله بن عمر فقال له ابن عمر: أنت القاتل سبعة آلاف من أهل القبلة في غداة واحدة فقال مصعب: إنهم كانوا كفرة سحرة. فقال ابن عمر: والله لو قتلت عدتهم غنما من تراث أبيك لكان ذلك سرفا.

جب مصعب نے مختار کو قتل کر دیا تو وہ شہر بصرے اور کوفے کا حاکم بن گیا،۔۔۔۔۔ اور مصعب نے عبد الله ابن عمر کو دیکھا تو عبد الله ابن عمر نے اس سے کہا: تم وہ ہو کہ جس نے ایک دن صبح کے وقت 7 ہزار اہل قبلہ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا تھا۔ مصعب نے کہا: وہ سب کافر اور جادوگر تھے ! ابن عمر نے کہا: اگر تم نے اپنے باپ کی جائیداد میں سے اتنی ہی تعداد میں بھیڑوں اور بکریوں کو بھی ذبح کیا ہوتا تو یہ بھی اسراف اور فضول خرچی ہوتا !!!

ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفى 597 هـ)، المنتظم في تاريخ الملوك والأمم، ج6، ص 66، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1358.

اسی طرح شعبى کہ جو دشمنان مختار میں سے تھا، اس نے خود کہا ہے کہ:

وعن الشعبي قال: رأيت في النوم كأن رجالا من السماء نزلوا معهم حراب يتتبعون قتلة الحسين فما لبثت أن نزل المختار فقتلهم رواه الطبراني وإسناده حسن.

شعبى سے روايت ہوئی ہے کہ اس نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ چند مرد آسمان سے نازل ہوئے ہیں اور انکے ساتھ تلواریں بھی ہیں اور وہ امام حسین کے قاتلوں کی تلاش میں ہیں۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مختار نے قیام کیا اور ان سب قاتلوں کو قتل کر دیا۔

اس روایت کو طبرانی نے نقل کیا ہے اور اس روایت کی سند حسن ہے۔

الهيثمي، ابوالحسن علي بن أبي بكر (متوفى807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج9، ص 195، ناشر: دار الريان للتراث/‏ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت – 1407هـ.

اس روايت سے معلوم ہوتا ہے کہ مختار ان آسمانی مردوں کی تعبیر ہے کہ جو خواب شعبی نے دیکھا تھا۔

نتيجہ:

خود مختار کے رسول خدا (ص) کے صحابی ہونے سے چشم پوشی کرتے ہوئے، رسول خدا (ص) اور حضرت امیر (ع) کے بہت سے صحابہ مختار کے قیام میں اور امام حسین (ع) کے خون کا انتقام لینے کے لیے، اسکے ساتھ شریک تھے اور مرتے دم تک مختار کے ساتھ رہے اور اسکے فرمان کی اطاعت کرتے رہے۔ حتی یہ صحابہ قیام مختار کی کامیابی کے بعد مختار کی حکومت میں اور لوگوں کی خدمت کرنے میں ساتھ ساتھ رہے، اور اسی طرح کتب اہل سنت میں مختار کی حمایت اور تائید میں صحابہ سے روایات ذکر ہوئی ہیں۔

 

التماس دعا۔۔۔۔۔

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی