2018 September 24
بیت المقدس کے معاملے پر سیاست ہورہی ہے، امریکا اسرائیل نے کچھ نہیں کیا،احمد قریشی
مندرجات: ١١٨٩ تاریخ اشاعت: ١٢ December ٢٠١٧ - ١٣:٢٥ مشاہدات: 81
خبریں » پبلک
بیت المقدس کے معاملے پر سیاست ہورہی ہے، امریکا اسرائیل نے کچھ نہیں کیا،احمد قریشی

شیعیت نیوز: سعودی عرب کی فنڈنگ سے چلنے والے جماعت اسلامی سے وابسطہ نیوز چینل نیو ٹی وی کے اینکر پرسن احمد قریشی ، سعودی عرب اور اسکے نام نہاد اتحاد کی بیت المقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ قرار دینے پر مجرمانہ خاموشی کا دفاع کرنے لئے سامنے آگیا ہے۔

 واضح رہے کہ احمد قریشی کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ سعودی سفارت خانے سے باقاعدہ تنخواہ لیتا ہے اور پاکستان میں سعودی عرب کے جرائم اور مظالم دھونے کے کام پر ماممور ہے، پہلے یہ ایکسپریس ٹی وی پر کام کرتا تھا لیکن اسکی سعودی نواز حرکتوں کی وجہ سے وہاں سے  بے دخل کردیا گیا بعداز اسے سعودی فنڈنگ سے چلنے والے جماعت اسلامی سے وابسطہ نیوز چینل نیو ٹی وی پر جگہ دی گئی جہاں سے اب یہ سیٹیلائٹ دہشتگردی کررہا ہے ۔

احمد قریشی  نے اپنے پروگرام میں بیت المقدس کے خلاف امریکی سازش کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معمالے ایسا نہیں جیسا پیش ہورہا ہے،اپنے پروگرام میں امریکی سفیر کی تقریر کو اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کیا  اور یہ ثابت کرنے کی کوشیش کی امریکا بیت المقدس پر فلسطینوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔

دھیاں رہے کہ یہی موقف سعودی عرب کا ہے اور سعودی عرب نے امریکی صدر کو یقین دہانی کروائی تھی کے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ قرار دیے جانے پر انکی جانب سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا جائے گا، چونکہ بیت المقدس کے معمالے پر سعودی عرب اور اسکی فرقہ وارانہ فوجی تنظیم پر عالم اسلام نے کافی تنقید کی جس کے خلاف رائے عامہ بنانے کے لئے دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی سعودی نواز میڈیا پرسن متحرک ہوگئےہیں جن میں احمد قریشی بھی شامل ہے۔

سعودی اینکر پرسن احمد قریشی نے سعودی موقف پر مبنی پروگرام پیش کیا جس میں اس نے اسرائیل سے مراسم رکھنے والے ممالک کا بھی تذکر ہ کیا اور کہا کہ ترکی سمیت تمام ممالک کے اسرائیل سے تعلقات ہیں لیکن اسرائیل کے سب سے بڑے دوست سعودی عرب کا تذکرہ کرنا بھول گیا اور ایک لفظ بھی آل سعود کی فلسطینیوں سے خیانت کے بارے میں نہیں بولا۔

دوسری جانب اسرائیل کے سب سے بڑی حریف جماعت حزب اللہ لبنان کے خلاف بھی بکواس کی گئی جس میں ا س سعودی اینکر پرسن  نے کہا کہ حزب اللہ شام میں مصروف ہیں ،اسرائیل پر کیون بمبار ی نہیں کرتے ، جبکہ احمد قریشی کو پتہ ہونا چاہئے کہ شام میں حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ہی جنگ لڑرہی تھی جس میں انہوں نے اسرائیلی و سعودی حمایت یافتہ داعشی دہشتگردوں کو بری طرح شکست سے دوچار کیا بلکل اُسی طرح جیسے 2006 میں 36 روز جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کو شکست سے دوچار کیا تھا ۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی