2017 December 11
یہاں بادشاہت نہیں جسکو مرضی چاہا اٹھا لیا، ناصر شیرازی کی بازیابی کیلئے مشترکہ اقدامات کئے جائیں، ہائیکورٹ
مندرجات: ١١٦٢ تاریخ اشاعت: ٢٩ November ٢٠١٧ - ١٢:٤٨ مشاہدات: 11
خبریں » پبلک
یہاں بادشاہت نہیں جسکو مرضی چاہا اٹھا لیا، ناصر شیرازی کی بازیابی کیلئے مشترکہ اقدامات کئے جائیں، ہائیکورٹ

 لاہور ہائیکورٹ میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی کے اغواء کیس کی سماعت ہوئی۔ ہائیکورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین احمد نے کیس کی سماعت کی۔ لاہور پولیس کی جانب سے ایس پی رضوان گوندل اور ایس پی لیگل رانا لطیف عدالت میں پیش ہوئے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شان گل پیش ہوئے۔ لاہور پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ناصر شیرازی کو بازیاب نہیں کروا سکے، اس لئے مزید مہلت دی جائے۔ عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی کے ڈائریکٹرز کو طلب کر لیا۔ ایم آئی کے کرنل احمد نے عدالت کو بتایا کہ ناصر شیرازی ان کی تحویل میں نہیں۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم پاک فوج کی صلاحیتوں کے معترف ہیں، دھرنے کا مسئلہ حل کرکے پاک فوج نے بہت بڑا کام کیا اور ملک کو خانہ جنگی سے بچا لیا ہے، دھرنے کا معاملہ حل نہ ہوتا تو لاشیں گرتیں۔ جسٹس قاضی محمد امین احمد نے کہا کہ یہاں بادشاہت نہیں، جس کو چاہا اٹھا لیا، ناصر شیرازی کی بازیابی ناممکن معاملہ نہیں۔ جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ ناصر شیرازی کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے، ہماری ایجنسیوں کیلئے لاپتہ شخص کو بازیاب کرانا کوئی مشکل بات نہیں، ہم ایجنسیوں کی صلاحیتوں سے آگاہ ہیں۔ جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ تمام ایجنسیاں مربوط انداز میں ناصر شیرازی کی بازیاب کیلئے اقدامات کریں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے ناصر شیرازی کی بازیابی کیلئے خصوصی اقدامات کی ہدایت کی۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی