2017 August 20
اگر غدیر خم میں ہزاروں لوگ موجود تھے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ابو بکر کی بیعت کیوں کی گئی؟
مندرجات: ١١٦ تاریخ اشاعت: ١٣ September ٢٠١٦ - ١٢:٥١ مشاہدات: 481
سوال و جواب » امام علی (ع)
اگر غدیر خم میں ہزاروں لوگ موجود تھے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ابو بکر کی بیعت کیوں کی گئی؟

سوال: بہرامی

سوال کی وضاحت:

اگر شیعوں کے قول کے مطابق غدیر خم میں ہزاروں لوگ موجود تھے، تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ابو بکر کی بیعت کیوں کی گئی؟

کیا ان سب لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باتوں کو چند دنوں کے بعد بھلا دیا تھا؟

جواب:

جو بھی غدیر خم میں موجود تھے ان میں سے کسی ایک نے بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں کو فراموش نہیں کیا۔ بلکہ بعض لوگ جان و مال کے خوف سے اور بعض دوسرے لوگ حب دنیا اور جاہ و مقام کی وجہ سے، یا امیرالمومنین علیہ السلام سے بغض و کینہ کی وجہ سے، انجان بن گئے تھے؛ چنانچہ غزالی، اہل سنت کے مشہور عالم، عمر بن خطاب کی عہد شکنی کے بارے میں کہتے ہیں:

من خطبته في يوم غديرحم باتفاق الجميع وهو يقول: « من كنت مولاه فعلي مولاه » فقال عمر بخ بخ يا أبا الحسن لقد أصبحت مولاي ومولي كل مولي فهذا تسليم ورضي وتحكيم ثم بعد هذا غلب الهوي تحب الرياسة وحمل عمود الخلافة وعقود النبوة وخفقان الهوي في قعقعة الرايات واشتباك ازدحام الخيول وفتح الأمصار وسقاهم كأس الهوي فعادوا إلي الخلاف الأول: فنبذوه وراء ظهورهم واشتروا به ثمناً قليلا.

سرالعالمین وکشف ما فی الدارین، ابو حامد غزالی، ج۱، ص۴، باب فی ترتیب الخلافۃ والمملکۃ۔

یہ کتاب اس سائٹ پر بھی موجود ہے:

http://www.alwrraq.com

ترجمہ: حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبوں میں سے ایک روز غدیر کا وہ خطبہ ہے جس کو سب لوگ قبول کرتے ہیں جس میں آپ نے فرمایا: جس کا میں مولا اور سر پرست ہوں، علی بھی اس کے مولا اور سرپرست ہیں۔ حضرت عمر نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کے بعد علی علیہ السلام کو اس طرح سے مبارک باد پیش کی:

 

"مبارک ہو مبارک ہو اے ابوالحسن اب آپ میرے اور ہر مولا کے رہبر و مولا بن گئے ہیں۔"

 

حضرت عمر کی ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان اور حضرت علی علیہ السلام کی امامت و رہبری کے سامنے تسلیم تھے، اور امت کے لئے حضرت علی علیہ السلام کے رہبر  منتخب ہونے پر راضی تھے؛ لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد، حضرت عمر جاہ ومقام کے سلسلہ میں خواہش نفسانی کا شکار ہو گئے اور مقام خلافت کو اصل جگہ سے ہٹا دیا اور جنگ و جدال، گروہ بازی اور کشور گشائی کے ذریعہ امت کے درمیان اختلاف اور زمان جاہلیت کی طرف پلٹ جانے کی راہ ہموار کردی [ اور قرآن کی اس آیت کے مصداق بن گئے:]

پھر وہ اس [عہد] سے پھر گئے اور اس عظیم چیز کے مقابلہ میں سستی چیز کا معاملہ کیا اور کتنا برا معاملہ کیا۔

البتہ بزرگان اہل سنت میں شمار ہونے والے ذھبی نے اسی بات کو غزالی سے نقل کیا ہے؛ لیکن ہمیشہ کی طرح ذہبی کے امین ہاتھوں نے عمر بن خطاب کے حق میں کچھ تبدیلیاں کردی ہیں۔

رک: سیر اعلام النبلاء، ج ۱۹، ص ۳۲۸، ترجمہ ابو حامد غزالی۔

جبکہ بہت سے مسلمانوں نے آخر عمر تک حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی جیسے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، سعد بن عبادہ وغیرہ اور بعض دوسرے لوگوں نے مہینوں بعد تک بیعت نہیں کی تھی، لیکن ابوبکر نے اپنے اقتدار کے مضبوط ہونے کے بعد، بزور شمشیر، مخالفین کو بیعت کرنے پر مجبور کیا۔

چنانچہ اہل سنت کے نزدیک قرآن کے بعد سب سے معتبر کتاب صحیح بخاری میں محمد بن اسماعیل بخاری نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ابوبکر سے ناراضگی اور ان کے بیعت نہ کرنے کے بارے میں لکھا ہے:

فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صلي الله عليه وسلم - فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّي تُوُفِّيَت .

صحیح البخاری، ج۴، ص۴۲، ح ۲۸۲۶۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بنت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابوبکر سے ناراض ہوگئیں اور وہ ناراض ہی رہیں یہاں تک کہ دنیا سے سدھاریں۔

نیز دوسرے بہت سے صحابہ کی طرف سے ابوبکر کی بیعت کی مخالفت کے بارے میں لکھتے ہیں:

حِينَ تَوَفَّي اللَّهُ نَبِيَّهُ - صلي الله عليه وسلم - إِلاَّ أَنَّ الأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا .

صحیح بخاری، ج ۸، ص ۲۶، کتاب المحاربین۔

جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئی تو تمام انصار نے ہماری مخالفت کی اور سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو گئے، علی [علیہ السلام]، زبیر اور جو لوگ بھی ان کے ساتھ موجود تھے ان سب نے ہماری مخالفت کی۔

 مزید اطلاع کے لئےاس ایڈرس پر رجوع کریں:

http://valiasr-aj.com/fa/page.php?bank=salam&id=7

[۴۹۵۷]

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی