2017 December 11
نام نہادوہابی ملٹری الائنس کی حقیقت آشکار ، ویب سائٹ پہ بھی تکفیری مقاصد بیان کر دئیے
مندرجات: ١١٥٨ تاریخ اشاعت: ٢٨ November ٢٠١٧ - ١٦:٤٣ مشاہدات: 10
خبریں » پبلک
نام نہادوہابی ملٹری الائنس کی حقیقت آشکار ، ویب سائٹ پہ بھی تکفیری مقاصد بیان کر دئیے

 شیعت نیوز: سعودی عرب میں قائم ہونے والے اکتالیس ملکی نام نہاد اسلامی ملٹری الائنس نے اپنی ویب سائٹ متعارف کروا دی ہے۔شیعت نیوز مانیٹرنگ ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں قائم کئے گئے نام نہاد اسلامی ملٹری الائنس کی ویب سائٹ متعارف کی گئی ہے جس میں اس الائنس کے بارے میں تفصیلات اور اغراض و مقاصد کو بیان کیا گیا ہے۔اس ویب سائٹ کو تین زبانوں میں تیار کیا گیا ہے جن میں عربی انگلش اور فرانسیسی شامل ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق www.imctc.org نامی یہ ویب سائٹ اکتالیس ممالک کے اس نام نہاد ملٹری الائنس کی خبریں عام لوگوں کو فراہم کرنے میں کردار ادا کرے گی جبکہ اس اتحاد کے مختلف شعبوں کا ڈیٹا دیکھا جاسکے گا۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے اکتالیس ممالک کا ملٹری الائنس ایک طرف شام وعراق میں سعودی حمایت یافتہ گروہوں کی مسلسل شکست اور دوسری طرف یمن میں سعودی جنگ میں و جارحیت او ر ناکامی کے بعد تشکیل دیا تھا تا کہ خطے میں سعودی مفادات کو پھیلانے کے لئے ان تمام اسلامی ممالک کی افواج اور وسائل کا استعمال کیا جائے جو کسی بھی طرح سعودی ہتھکنڈوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ نام نہاد اسلامی ملٹری الائنس میں کئی ایک مسلمان ممالک شامل نہیں ہیں اور بالخصوص ایسے ممالک کہ جو خود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار کر رہے ہیں جیسا کہ شام و عراق و دیگر تک کو اس الائنس کا حصہ نہیں بنایا گیا جبکہ ایران بھی اس نام نہاد الائنس سے باہر ہے۔اس سعودی نام نہاد ملٹر ی الائنس پر غور کیا جائے تو حقیقت آشکار ہو گی کے اسکے اصل اہداف کیا ہیں اور سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے اکتالیس مسلما ن ممالک کے نام نہاد اسلامی ملٹری الائنس کی ویب سائٹ متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ سائٹ پر اس اتحاد کے اغراض ومقاصد اور اہم عناصر بھی بیان کئے گئے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔۱۔آئیڈیالوجی /نظریات۲۔کمیونیکیشن/روابط/سوشل وغیرہ ۳۔ دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے سرمائے کی روک تھام ۴۔فوج ۔

ویب سائٹ کے تعارف میں نظریات کے حصے میں کہا گیا ہے کہ اسلام کے اصولوں کو عام کیا جائے گا یا ان کا پھیلاؤ اور پرچار درست انداز سے کیا جائے گا جبکہ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ آخر سعودی عرب کون سے خود ساختہ اسلامی اصولوں کے پرچار کی ضرورت محسوس کر رہا ہے اور ا س کام کے لئے اکتالیس ممالک کا فوجی اتحاد بنانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔محققین اور تضزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق دراصل سعودی عرب برطانوی سامراج کے ہاتھوں ایجاد پانے والے ایک جدید مذہب یا مسلک جسے وہابیت کہا جاتا ہے اس کے نظریات کا پرچار کرنے اور اس کام کے لئے دیگر ممالک کو اپنی ان کھوکھلے نظریات پر پابند کرنے کی کوشش کررہا ہے۔واضح رہے کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور وہابی نظریات کی ایجاد برطانوی سامراج کے آپس میں ربط کئے ہوئے منصبوں کی ایک ہی شکل ہے جبکہ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ وہابیت کی ایجاد کے بعد سے ہمیشہ خالص اسلام محمدی (ص) اور آپ کے سنہرے اصولوں کی جس حد تک پائمالی وہابی نظریات کے ہاتھوں ہوتی رہی ہے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔دوسرے نقطہ میں کمیونیکیشن کی بات کی گئی ہے ، اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں وہابی نظریات کی پرچار کرنے کے لئے ٹی وی چینلز اور جدید دور کے تقاضوں کے تحت وسائل سے استفادہ کیا جائے گا، یعنی ٹی وی چینلز کا قیام جیسا کہ پہلے ہی سعودی عرب کی جانب سے قائم کئے گئے العربیہ نامی ٹی وی چینل کی نشریات مسلمانوں کے درمیان کس طرح شر انگیزی پھیلانے میں مصروف عمل ہے تاہم مزید اس طرح کے ذرائع کو تقویت دی جائے گی۔حالیہ دور میں واضح طور پر مشاہدہ میں آیاہے کہ سعودی عرب کی فنڈنگ پر چلنے والے العربیہ سمیت دیگر ذرائع ابلاغ نے کس طرح شام و عراق و دیگر ممالک میں دہشت گرد گروہوں کی معاونت کی ہے ، تاہم ا س بات کا اندیشہ موجود ہے کہ اکتالیس ممالک کے اس نام نہاد ملٹری الائنس کے اغراض و مقاصد میں بھی اگر ذرائع ابلاغ کا استعمال منفی طریقے سے جاری رہا تو مسلمانوں کے اتحاد و یگانگت کو شدید خطرات لا حق ہو سکتے ہیں۔اکتالیس ممالک کے نام نہاد اسلامی ملٹری الائنس کی آفیشل ویب سائٹ کے تیسرے نقطہ میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے سرمائے کی روک تھام کی بات کی گئی ہے جو بظاہر تو بہت اچھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب جو کہ خود ایک طرف یمن میں جارحیت اور دہشت گردی کا مرتکب ہے اور اربوں ڈالر کا اسلحہ یمن کے معصوم اور نہتے عوام کے خلاف استعمال کرنے میں مشغول ہے کس طرح سے دوسرے ممالک میں دہشت گردی کی روک تھام اور اس کے لئے استعمال ہونے والے سرمائے کی روک تھام کی بات کرسکتا ہے اور جبکہ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں سعودی فنڈڈ دہشت گرد گروہ موجود ہیں جن کے خلاف افواج پاکستان مسلسل آپریشن کر رہی ہیں ۔عالمی اداروں کی رپورٹس اور بالخصوص حالیہ دنوں میں قطر کے شہزادے حمد بن جاسم کی جانب سے بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹر ویو کے وہ الفاظ سعودی اور اس کی قیادت میں بنائے جانے والے اس نام نہاد الائنس کے جھوٹے دعووں کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی ہیں، حمد بن جاسم نے کہا ہے کہ سعودی عرب براہ راست شام و عراق میں داعش اور النصرۃ نامی دہشت گرد گروہوں سمیت دہشت گرد گروہ القاعدہ اور دیگر کی مالی ومسلح معاونت میں مشغول ہے انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب کی ایماء اور دباؤ پر ہی قطر نے بھی اس مالی امداد میں حصہ لیا تھا تاہم اب قطر اس اتحاد سے باہر نکل چکا ہے اور دہشت گردگروہوں سے کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کر رہا ہے۔اکتالیس ممالک کی آفیشل ویب سائٹ کا چوتھا حصہ افواج سے متعلق ہے ۔جس میں افواج کے آپس کے تعلق کو مزید مستحکم کرنے کی بات کی گئی ہے لیکن عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے مایہ ناز سیاسی ماہرین اور محققین کا کہنا ہے کہ درا صل سعودی عرب کے ہاتھوں بنائے گئے اس اکتالیس ملکی اسلامی فوجی اتحاد کے ظاہری مقاصد کے پس پردہ کچھ ایسے مقاصد بھی ہیں کہ جن کا ہد ف و مقصد ایسے اسلامی اور مسلمان ممالک کی افواج کو کمزور کرنا یا متنازع بنانا ہے جو قوت رکھتے ہیں جن میں پاکستان ، ترکی اور دیگر ممالک کی افواج یقیناًقابل ذکر ہیں، بہر حال سیاسی تجزیہ نگاروں کی نگاہ میں اس اتحاد کو مسلم دنیا کی طاقت ور افواج کے خلاف صیہونیوں کے منفی ہتھکنڈوں کا ایک حصہ ہی قرار دیا جا رہاہے۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی