2017 December 11
9 ربیع الاول، عید الزہرا (س) روز آغاز ولایت و امامت امام زمان حضرت مہدی (عج)، عید اہل بیت (ع)
مندرجات: ١١٥٧ تاریخ اشاعت: ٢٨ November ٢٠١٧ - ١٣:٣٨ مشاہدات: 135
یاداشتیں » پبلک
جدید
9 ربیع الاول، عید الزہرا (س) روز آغاز ولایت و امامت امام زمان حضرت مہدی (عج)، عید اہل بیت (ع)

عظیم اور مقدس ایام اللہ میں سے ایک ربیع الاول کی 9 تاریخ ہے۔ یہ مقدس اور مبارک دن حضرت ولی اللہ الاعظم، امام مبین، بقیۃ اللہ فی الارضین، موعود الانبیاء و المرسلین کی ولایت و امامت کے آغاز کا دن ہے۔

ظلم و استکبار اور استضعاف سے رہائی اور نجات و خلاص کے منتظرین پر لازم ہے کہ اس روز کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائیں اور اس کی تعظیم کو اپنے لیے فخر و اعزاز سمجھیں، حقیقت یہ ہے کہ اس روز سے ہجری تاریخ کے اندر اب عصر مہدوی کا آغاز ہوتا ہے۔ گویا نو ربیع الاول کو عید منانے کا حقیقی فلسفہ آغاز ولایت امام زمانہ (ع) ہے، اسی روز سے مولائے عصر و زمان (عج) کی ولایت و امامت کا آغاز ہوا ہے اور آپ علیہ السلام ہمارے زمانے کے امام ہیں تو نو ربیع الاول یوم اللہ کیوں نہ ہو، یہ دن ہماری خوشی کے آغاز کا دن کیوں نہ ہو۔

ویسے ربیع الاول کا مہینہ بھی نہایت عجیب مہینہ ہے، رسول اللہ (ص) کی ولادت کا مہینہ، امام صادق علیہ السلام کی ولادت کا مہینہ، بعض روایات کے مطابق رسول اللہ (ص) کی ہجرت مدینہ کا مہینہ، اسی مہینے رسول اللہ (ص) کی ولادت ہوئی، گویا دین خاتم کا آغاز بھی اسی مہینے سے ہوا اور اسی مہینے امام حسن عسکری علیہ السلام خونخوار عباسی بادشاہ کے ہاتھوں 8 ربیع الاول کو شہید ہوئے تو 9 ربیع الاول کی رات امام زمانہ کی امامت و ولایت کا آغاز ہوا۔

سلام ہو اس مبارک مہینے پر جس کی ابتداء میلاد خاتم الانبیاء کی رسالت سے ہوئی اور اس کی انتہاء ولایت خاتم الاوصیاء (ص) پر ہوئی۔

امام زمان (عج) کے دور ولایت و امامت کے آغاز کی کیفیت ؟ عباسی سلاطین نے امام صادق سے امام عسکری علیہما السلام تک (چھ اماموں) کو شہید کر دیا تھا۔ معتصم عباسی نے امام عسکری علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد امام عصر (عج) کا تعاقب بھی شروع کیا۔ کئی لوگ امام (ع) کے گھر میں تعینات کیے اور انہیں ہدایت کی کہ فرزند عسکری (ع) کو ڈھونڈ لائیں۔ جاہلیت کی بے رحم قوت امامت کی جڑیں اکھاڑنے کا منصوبہ بنا چکی تھی لیکن خداوند نے اپنا ذخیرہ محفوظ کر لیا تھا۔

پیغمبر (ص) نے فرمایا کہ میرے فرزند امام مہدی (عج) میرے ہم نام ہیں اور آپ کی کنیت بھی میری کنیت ہے اور صورت و سیرت میں دوسروں سے بہت زیادہ مجھ سے مشابہت رکھتے ہیں۔ آپ (ع) کے لیے لمبی غیبت (غیبت کبری) ہے جس میں بہت سے لوگ گمراہ ہو جائیں گے اور تھوڑے سے لوگ باقی رہیں گے اور اس کے بعد میرے یہ فرزند چمکتے ستارے کی مانند طلوع کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کر دیں گے جس طرح کہ یہ ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی۔

آج 9 ربیع الاول ہے، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہلِ بیت (ع) نے سانحہ کربلا کے بعد اپنا سوگ ختم کیا تھا۔ اسے عیدِ زہراء سلام اللہ علیہا بھی کہتے ہیں اور عیدِ شجاع بھی، تمام مسلمانوں کو یہ عید بہت بہت مبارک ہو۔

مؤرخین کا اتفاق ہے کہ جناب مختار نے حضرت حنفیہ کی خدمت میں قاتلان امام علیہ السلام کے سروں کے ساتھ ایک خط بھی اس مضمون کے ساتھ لکھ کر بھیجا تھا کہ:

میں نے آپ کے مددگاروں اور ماننے والوں کی ایک فوج آپ کے دشمنوں کو قتل کرنے کے لِیے موصل بھیجی تھی ، اس فوج نے بڑی جوانمردی اور بہادری کے ساتھ آپ کے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور بے شمار دشمنوں کو قتل کیا جس سے مؤمنین کے دلوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور آپ کے ماننے والے نہایت خوش اور مسرور ہوئَے ، اس سلسلے میں سب سے بڑا کردار ابراہیم ابن مالک اشتر نے ادا کیا جو سب سے زیادہ تحسین و آفرین کے مستحق ہیں ۔

جناب محمد حنفیہ کے سامنے جب وہ تمام سر پیش کیے گئے تو دیکھتے ہی سجدہ شکر میں جھک گئے اور جناب مختار کے حق میں دعا کی کہ: خداوند مختار کو جزائَے خیر دے جس نے ہماری طرف سے واقعہ کربلا کا بدلہ قاتلان حسین علیہ السلام سے لیا ہے۔

پھر اس کے بعد آپ نے سجدہ شکر سے سر اٹھا کر عرض کیا: پالنے والے تو ابراہیم ابن مالک اشتر کی ہر حال میں حفاظت فرما اور دشمنوں کے مقابلے میں ہمیشہ اسکی مدد کرتا رہ اور انہیں ایسے امور کی توفیق عطا فرما جو تیری مرضی کے مطابق ہوں اور جن سے تو راضی ہو اور ان کو دنیا و آخرت میں بخش دے۔

سر ابن زیاد ملعون امام زینُ العابدین (ع) کی خدمت میں:

جناب حنفیہ نے ابن زیاد ، عمر سعد ، حسین بن نمیر اور شمر ذی الجوشن وغیرہ کے سروں کو امام زینُ العابدین علیہ السلام کی خدمت میں ارسال فرمایا ، اُن دنوں حضرت مکہ معظمہ میں ہی مقیم تھے ۔ حضرت کی خدمت میں اُن ملعونوں کے سر پہنچے اور آپ کی نگاہ اُن سروں پر پڑی ، آپ علیہ السلام نے فوراً سجدہ شکر میں اپنا سر رکھ دیا اور بارگاہ احدیت میں عرض کی:

پالنے والے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے ہمارے دشمنوں سے انتقام لیا ہے، پھر سجدے سے سر اٹھا کر آپ علیہ السلام نے فرمایا خدایا مختار کو جزائے خیر دے کہ اُس نے ہمارے دشمنوں کو قتل کیا ہے۔

جس وقت ابن زیاد کا سر آپ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا آپ ناشتہ تناول فرما رہے تھے ۔ اُن سروں کو دیکھ کر آپ نے سجدہ شکر کیا پھر سر اٹھا کر فرمایا کہ: خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے میری وہ دعا قبول کر لی جو میں نے دربار کوفہ میں کی تھی۔ جب میرے پدر بزگوار کا سر طشت میں رکھا ہوا تھا اور اُس وقت ابن زیاد ملعون ناشتہ کر رہا تھا، یعنی خداوندا مجھے اُس وقت تک موت نہ دینا جب تک مجھے ابن زیاد ملعون کا کٹا ہوا سر نہ دکھا دے۔

اس کے بعد حضرت زینُ العابدین علیہ السلام نے داخل خانہ ہو کر مخدرات عصمت و طہارت سے فرمایا کہ اب لباس ماتم تبدیل کرو ، آنکھوں میں سرمہ لگاو ، بالوں میں کنگھی کرو ۔ چنانچہ آپ کے ارشاد کے مطابق اہل حرم نے عمل کیا۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد سے آج تک اہلبیت رسول صلی اللہُ علیہ و آلہ وسلم میں نہ کسی نے سرمہ لگایا تھا اور نہ ہی بالوں میں تیل ڈالا تھا۔

کتاب امیر مختار، مصنف سید بشارت حسین کامل مرزا پوری

9 ربیع الاول اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ 9 ربیع الاول سن 260 ہجری کو حضرت حجت قائم آل محمد حضرت صاحب العصر و الزمان نے امامت کا منصب پوری ذمہ داری کے ساتھ سنبھالا۔

امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشريف کے القاب:

مہدی، قائم، منتظر، خاتم، حجۃ، صاحب اور منصور۔

1۔ مہدی:

مہدی ہیں کیونکہ امام صادق علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق: جب ہمارے قائم قیام فرمائیں گے تو لوگوں کو ایک بار پھر اسلام کی دعوت دیں گے اور انہیں دین کے فراموش ہونے والے احکام سے روشناس کرائیں گے اور ناپید ہونے والے احکام کو زندہ کریں گے اور چونکہ خدا کی طرف سے گمشدہ اور نابود شدہ امور کی طرف ہدایت پائیں گے۔ اسی لیے آپ مہدی ہیں۔

2۔ قائم:

ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے پوچھا: اے فرزند رسول خدا (ص) ! کیا آپ سارے آئمہ قائم بالحق نہیں ہیں ؟

فرمایا: کیوں نہیں !

میں نے عرض کیا: تو پھر صرف امام مہدی (عج) کیوں قائم قرار دیئے گئے ہیں اور صرف امام مہدی (عج) کو ہی کیوں قائم کہا جاتا ہے ؟

فرمایا: جب میرے جد امجد امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے تو کائنات کے فرشتوں کے رونے کی صدائیں بلند ہوئیں اور سارے فرشتے بارگاہ الہی میں شدت سے روئے اور عرض کیا: پروردگارا ! کیا آپ بہترین بندے اور اشرف مخلوقات کے فرزند اور مخلوقات میں پسندیدہ ترین ہستی کے قاتلوں کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دے گا ؟

اللہ تعالی نے انہیں وحی فرمائی کہ: میرے فرشتو ! پر سکون ہو جاؤ۔ میں اپنی عزت و جلال کی قسم کھاتا ہوں کہ ان سے انتقام لونگا خواہ یہ انتقال طویل زمانہ گذرنے کے بعد ہی کیوں نہ ہو، اس کے بعد خداوند نے فرشتوں کو امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے آنے والے آئمہ کا دیدار کرایا تو فرشتے مسرور ہوئے اور سب نے اچانک دیکھا کہ آئمہ میں سے ایک امام کھڑے ہوئے ہیں اور نماز ادا کر رہے ہیں۔ خداوند نے فرشتوں سے خطاب کر کے فرمایا: میں اس قائم کے ذریعے ان سے انتقام لوں گا۔

صقر ابن دلف کہتے ہیں کہ: میں نے امام محمد تقی الجواد (ع) سے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا (ص) ! امام زمانہ (عج) کو امام قائم کیوں کہا گیا تو امام (ع) نے فرمایا: اس لیے کہ امام زمانہ (عج) ایسے وقت قیام فرمائیں گے کہ آپ (عج) کی یاد اکثریت کی یادوں سے مٹ چکی ہو گی اور آپ (عج) کی امامت کے معتقدین کی ایک بڑی تعداد بھی دین الہی سے منحرف ہو چکی ہو گی۔

امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا کہ آپ (عج) کو قائم کا لقب عطا ہوا ہے، کیونکہ آپ حق کی بنیاد پر قیام کریں گے۔

3۔ منتظر:

صقر ابن دلف امام جواد (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (ع) نے فرمایا: آپ طویل مدت تک غائب رہیں گے اور مخلص لوگ آپ (عج) کا انتظار کریں گے (اسی لیے آپ منتظر ہیں)، شک و تردید والے آپ (عج) کے وجود کا انکار کریں گے اور جب منتظرین کے آپ (عج) کو یاد کریں گے تو منکرین ان کا مذاق اڑائیں گے۔ آپ (عج) کے ظہور کا وقت متعین کرنے والے جھوٹے ہیں، جلد بازی کرنے والے ہلاکت میں پڑ جائیں گے اور تسلیم کے مقام پر فائز مومنین فلاح پائیں گے۔

4۔ منصور:

امام محمد باقر (ع) نے و من قُتِلَ مظلوماً کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: آیت کے اس حصے کے مصداق حسین بن علی (ع) ہیں اور پھر فرمایا:

فقد حعلنا لولیہ سلطاناً فلا يسرف في القتل انہ كان منصورا،

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں نے مظلوم قتل ہونے والے کے لیے قصاص و انتقام کا حق قرار دیا ہے اور تم قتل میں اسراف نہ کرو،

کیونکہ وہ (ولی اور وارث) منصور ہے (اور میں اس کی نصرت کرنے والا ہوں)، چنانچہ امام مہدی (ع) کو منصور کا لقب ملا۔

انتظار کی فضیلت:

حضرت عبد العظيم حسنی (ع) سے روایت ہے کہ امام محمد تقی الجواد علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے پیروکاروں اور شیعوں کا بہترین عمل امام زمان (عج) کے ظہور کا انتظار کرنا ہے۔

ورد في التوقيع بخط مولانا صاحب الزمان (ع) ۔۔۔ اكثروا الدعاء بتعجيل الفرج، فان ذلك فرجكم۔۔۔۔

امام عصر (عج) کی جانب سے صادر ہونے والی توقیع (خط) میں آیا ہے: تعجیل فرَج کے لیے زیادہ دعا کرو کیونکہ یہی جو تم ہماری فراخی کے لیے دعا کرتے ہو بذات خود تہمارے لیے فراخی ہے۔

بحارالانوار۔ ج 51، ص 154، ح 4، بہ نقل از كمال الدين و عيون اخبار الرضا (ع)

امام زمان ( عج ) کی الہی حکومت اہل سنت کے حوالوں سے:

صحیح العقیدہ مسلمان امام مہدی (عج) کی ولایت کا قائل ہے کیونکہ آپ (عج) کی ولایت قرآن مجید اور سنت نبوی کی بے شمار دلیلوں سے ثابت ہے ان دلیلوں میں امام مہدی کی امامت، آپ (عج) کا زمانہ ظہور، ان کے زمانے میں حق و عدالت کا قیام اور اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں کا نازل ہونا بیان ہوا ہے۔ ہم یہاں امام مہدی (عج) کی الہی حکومت کے حوالے سے کچھ عناوین کے تحت چند با برکت احادیث پیش کرتے ہیں:

(1)۔ امام مہدی (عج) کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص) کی بشارت:

عن ابی سعید الخدری قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ: ابشرکم بالمھدی یبعث فی امتی علی اختلاف من الناس و زلزال فیملا الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا یرضی عنہ ساکن السماء و ساکن الارض یقسم المال صحاحا فقال لہ رجل وما صحاحا قال السویة بین الناس۔

ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں کہ وہ اس وقت میری امت میں آئیں گے جب وہ امت کے افراد آپس میں اختلاف کررہے ہوں گے اور لڑکھڑا رہے ہوں گے تو آپ (عج) زمین کو اسی طرح انصاف و عدالت سے پر کرے گے جیسے کہ وہ ظلم و ستم سے پر ہوچکی ہوگی اس سے آسمان و زمین والے راضی ہوں گے وہ مال کو صحیح تقسیم کریں گے۔

حضرت امام زمان (عج) کی کمسنی میں امامت پر تحقیق:

شیعہ امامیہ کے عقیدے کے مطابق حضرت امام مہدی، امام حسین علیہ السلام کی نویں نسل میں سے اور حضرت امام حسن عسکری کے فرزند ہیں، 255 ہجری کے ماہ شعبان کی 15 تاریخ کی شب میں پیدا ہوئے اور اپنے والد بزرگوار کے انتقال کے بعد کہ جب آپ کی عمر مبارک پانچ سال سے زیادہ کی نہیں تھی منصب امامت پر فائز ہوئے اور اب تک زندہ و جاوید ہیں تا کہ آخری زمانے میں ظہور کریں اور زمین کہ جو ظلم و جور سے بھری ہو گی، اس کو عدل و داد سے پر کر سکیں۔ 

قدیم الایام ہی سے حضرت امام مہدی (ع) کی امامت خصوصا بچپنے میں اس عہدہ پر فائز ہونے کے متعلق بہت سے سوالات اٹھتے آئے ہیں، کہ جن میں سے بعض سوالات حسب ذیل ہیں مثلا:

ایک چھوٹا سا بچہ کس طرح امامت و ولایت الہی کے عظیم مقام پر فائز ہو سکتا ہے ؟ کیا آپ اس کمسنی میں عقلی اعتبار سے رشید و کامل ہیں کہ جو معاشرے و سماج کی رہبری کر سکیں ؟ اس میں کیا راز ہو سکتا ہے کہ خداوند عالم ایک کمسن بچے کو مقام امامت اور امت کی رہبری کے لیے انتخاب کرے ؟

یہ سوالات ہیں کہ جو حضرت امام زمان (عج) کی امامت کے متعلق اٹھتے ہیں کہ جن کے علمی و تحقیقی جوابات دینے کی ضرورت ہے۔

یہ ایک مسلّم حقیقت ہے کہ امام زمان کی امامت کا آغاز کمسنی میں ہوا ہے ، لیکن عقلی منابع اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اس واقعہ کو قرآنی و حدیثی اور عقلی و تاریخی دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے ۔ اب یہاں پر ان دلائل میں سے بعض کو کہ جو اس سلسلے میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں، بیان کیے جا رہے ہیں:

الف : دلیل عقلی:

عقلائے عالم کے عقیدے کے مطابق انسان کی رشد عقلی کے لیے کسی سن و سال کو معین نہیں کیا جا سکتا، اسی وجہ سے سب نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ نبوت و امامت پر کمسنی و بچپنے میں فائز ہونا محال نہیں ہے  ، لہذا خداوند عالم بھی اس بات پر قادر ہے کہ نبوت و امامت کی تمام شرائط کو معاشرے و سماج کی رہبری کی خاطر کسی ایک بچے میں قرار دے۔ تاریخ انسانیت میں اس بات پر بہت سے شواہد موجود ہیں اور یہ وہی چیز ہے کہ جس کو حکماء نے اس طرح تعبیر کیا ہے اور کہا ہے : کسی بھی چیز کے امکان و وجود پر بہترین دلیل اس چیز کا موجود ہونا ہے۔

ب: دلیل قرآنی:

قرآن کریم میں بعض پیغمبروں کی کمسنی و بچپنے میں نبوت و امامت پر تصریح ہوئی ہے، کہ مذکورہ ذیل موارد اس واقعیت کے بعض نمونے ہیں :

1- نبوت حضرت یحیی ابن زکریا (ع):

خداوند عالم نے حضرت یحی سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا کہ:

یا یحیى خُذِ الکتابَ بقوّةٍ وآتیناه الحُکمَ صبیّا ،

اے یحی آپ ہماری آسمانی کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور ہم نے اس کو کمسنی و بچپنے میں مقام نبوت عطا کیا ۔ 

فخر رازی کہتا ہے کہ : مذکورہ آیت میں حکم سے مراد ، نبوت ہے، اس لیے کہ خداوند عالم نے ان کی عقل کو کمسنی ہی میں کامل کر دیا اور آپ پر وحی نازل فرمائی ، اور حضرت یحیی ہی کی طرح حضرت عیسی کو بھی بچپن میں ہی نبوت سے سرفراز فرمایا جب کہ حضرت موسی اور حضرت محمد (ص) بزرگی و بڑے ہونے کے بعد رسالت پر مبعوث فرمایا۔

2- نبوت حضرت عیسی ابن مریم (ع):

حضرت عیسی ابن مریم کی ولادت کے بعد ، آپ کی والدہ گرامی جناب مریم نے طعنہ دینے اور برا بھلا کہنے والوں  کو ایک تین دن کے بچے کے حوالے کر دیا ، انہوں نے کہا: ہم کس طرح اس بچے سے کہ جو ابھی گہوارے میں ہے، گفتگو کریں اور اپنا جواب حاصل کریں؟! لیکن اچانک حضرت عیسی گہوارے سے بولنا شروع ہوئے ، اپنا تعارف کرایا اور اپنی ماں کی پاکدامنی و بے گناہی پر گواہی دی ، قرآن کریم اس سلسلے میں ارشاد فرماتا ہے:

قال إنّی عبدُ اللّه آتانیَ الکتابَ وجَعَلنی نبیًّا وجَعَلنی مُبارکًا ،

آپ نے فرمایا : میں اللہ کا بندہ ہوں کتاب آسمانی لے کر آیا ہوں اور خداوند عالم نے مجھ کو نبی بنایا اور مجھ کو مبارک قرار دیا ہے۔

یزید کناسی حضرت امام محمد باقر (ع) سے ایک روایت میں نقل کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا: حضرت عیسی ابن مریم جس وقت گہوارے میں گفتگو کر رہے تھے، اس وقت خدا کے نبی اور تمام لوگوں پر خدا کی حجت تھے کہ جن میں سے حضرت زکریا بھی ہیں۔ منتہی یہ کہ اس واقعہ کے بعد حضرت عیسی نے حضرت زکریا کی زندگی اور نبوت کے دوران کہ جو صرف دو سال زندہ رہے اور اسی طرح آپ کے فرزند حضرت یحیی کی نبوت کے دوران کہ جو پانچ سال تک زندہ رہے خاموش رہے اور کسی کو بھی اپنی طرف دعوت نہیں دی اور پھر ان کے انتقال کے بعد اپنی نبوت کو ظاہر فرمایا۔

یزید کناسی نے کہا ہے کہ : میں حضرت سے عرض کی : کیا حضرت علی ابن ابی طالب حضرت رسول اکرم کے زمانے میں امت مسلمہ پر حجت نہیں تھے ؟ امام نے فرمایا : کیوں نہیں، ایسا ہی ہے اور آپ کی اطاعت حضرت رسول اکرم کی زندگی ہی میں تمام لوگوں پر واجب تھی، لیکن حضور اکرم کی موجودگی میں آپ نے سکوت اختیار فرمایا اور کسی چیز کا اظہار نہیں کیا۔

3- دلیل روائی و حدیثی:

حضرت امام مہدی (عج) کے بارے میں احادیث نبوی اہل سنت کی معتبر کتابوں میں اسقدر موجود ہیں کہ شاید ہی کسی اور موضوع کے متعلق اس قدر فراوان احادیث موجود ہوں کہ ان احادیث شریفہ میں تھوڑا سا غور و فکر اور تامل ہی کافی ہے کہ انسان کو ان احادیث کے متواتر ہونے پر یقین حاصل ہو جاتا ہے اور ذرا  بھی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہے گی، جیسا کہ خود اہل سنت کے محدثین و مورخین نے اپنی اپنی عظیم کتابوں میں ان احادیث کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے ، بطور نمونہ حافظ ابو عبد اللہ شافعی گنجی نے لکھا ہے کہ:

احادیث نبوی ، حضرت امام مہدی کے بارے میں راویوں کی کثرت کی وجہ سے حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں۔

اسی طرح حضرت رسول اکرم کی احادیث اپنے جانشین و خلیفہ کے مصادیق اور آخری زمانے میں اپنے آخری وصی کے ظہور کے متعلق  اہل سنت و شیعہ کتب احادیث میں کثرت سے موجود ہیں۔  یہاں پر صرف دو احادیث بطور مثال پیش کی جا رہی ہیں:

قندوزی حنفی نے اپنے اسناد کے ساتھ کتاب مناقب خوارزمی سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے اجداد طاہرین سے نقل فرمایا ہے کہ:

رسول خدا  نے ایک حدیث میں تمام جانشینوں کے نام حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام سے لے کر حضرت امام مہدی (عج) تک موجود ہیں۔

اسی طرح وہ جناب جابر ابن عبد اللہ انصاری سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے فرمایا :

اے جابر میرے وصی اور اسلامی امت کے رہبر میرے بعد علی ہیں اور پھر ان کے بعد حسن ابن علی ، حسین ابن علی ، علی ابن الحسین، و ۔۔۔ آن میں سب سے آخری محمد ابن حسن عسکری ہوں گے۔

مذکورہ احادیث کے علاوہ ، حضرت علی (ع) کا اپنے جانشین کے طور پر حضرت امام حسن کے لیے صراحت کرنا اور اسی طرح حضرت امام حسن (ع) کا حضرت امام حسین (ع) کی امامت پر تصریح کرنا اور امام حسین (ع) کا امام زمان (ع) تک صراحت کرنا اور اسی طرح ہر امام کا اپنے بعد والے امام کے لیے تصریح کرنا، یہ سب حضرت امام مہدی (عج) کی امامت پر ہر ایک اپنے طور پر ایک مستقل دلیل اور نص صریح ہیں۔

4- تاریخی شواہد:

امامت کے اثبات کے سلسلے میں ایک مہم ترین اور متقن ترین دلیل کمسنی اور بچپنے میں تاریخی شواہد ہیں۔ ان شواہد میں سے بعض موارد کو حسب ذیل بیان کیا جا رہا ہے:

الف- کمسنی میں عقل و فکر کی تکمیل:

تاریخ میں بہت سے ایسے افراد ملتے ہیں کہ جو کمسنی و بچپنے ہی میں عقل و فکری اعتبار سے سرفراز ہوئے ہیں ، عظیم و سنگین اور پیچیدہ ترین علوم و فنون کو حاصل کیا ہے اور بہت ہی پختگی کے ساتھ مہارت حاصل کی ہے ، کہ جس سے عقل ، حیرت میں پڑ گئی ہے۔

ب- حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کی خلافت و امامت:

حضرت علی ابن ابی طالب (ع) وہ پہلی شخصیت ہیں کہ سب سے پہلے ایمان کا اعلان فرمایا جب کہ آپ کی عمر صرف دس سال کی تھی، کہ پیغمبر اکرم نے سب سے پہلی مرتبہ جب آیت " وأنذِر عشیرتَک الأقربین " ، نازل ہوئی تو رسول اکرم نے دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر تقریبا چالیس مہمانوں کے درمیان آپ کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو پکڑا اور بہت محبت بھرے انداز میں فرمایا: یہ علی میرا بھائی اور تمہارے درمیان میرا وصی و جانشین ہے، آپ سب اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا ۔

شیخ مفید بھی اس سلسلے میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

تمام ہی شیعہ اور اہل سنت اس مسئلہ میں متفق ہیں کہ رسول خدا نے حضرت علی کو اپنے خلیفہ و وصی کے طور پر منصوب فرمایا جب کہ آپ کی عمر بہت کم تھی اور کسی دوسرے بچے کی اطاعت کا حکم نہیں فرمایا۔

ج- حضرت امام محمد تقی (ع) کی امامت:

ان افراد میں سے ایک کہ جو کمسنی اور بچپنے میں منصب امامت پر فائز ہوئے ، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام ہیں کہ ابھی آپ کی عمر آٹھ سال کی تھی کہ آپ مسند امامت پر جلوہ افروز ہوئے۔ صفوان ابن یحیی نے کہا ہے کہ:

میں ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ حضرت امام علی رضا (ع) نے حضرت امام محمد تقی کی جانب اشارہ فرمایا اور آپ کی امامت کے بارے میں تصریح فرمائی یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب آپ کی عمر فقط تین سال تھی، میں نے حضرت سے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہو جاؤں ! آپ کے فرزند ارجمند کی عمر ابھی تین سال سے زیادہ نہیں ہے ؟ حضرت نے جواب دیا : کوئی حرج نہیں ہے چونکہ حضرت عیسی ابن مریم صرف تین دن کے تھے اور حجت خدا بن گئے تھے۔

دوسری روایت میں مذکور ہے کہ حضرت امام محمد تقی سے سوال کیا گیا کہ: لوگ آپ کی کمسنی کی وجہ سے آپ کی امامت کے بارے میں مشکوک ہیں تو آپ نے فرمایا: مشکوک و منکر ہیں جب کہ خداوند عالم نے اپنے نبی سے ارشاد فرمایا ہے : اے ہمارے پیغمبر اپنی امت سے کہدیجیے :

میرا اور میرے ماننے والوں کا یہی طریقہ ہے کہ مخلوق کو بینائی اور بصیرت کے ساتھ خداوند عالم کی طرف دعوت دیں، پس خدا کی قسم ! ان کی بھی اس وقت کسی نے پیروی نہیں کی مگر صرف حضرت علی نے جب کہ اس وقت اپ کی عمر صرف 9 سال تھی، اور میں بھی نو سال کا ہوں۔

د- حضرت امام علی نقی (ع) کی امامت:

حضرت امام علی نقی بن محمد تقی (ع) بھی ان ہی شخصیتوں میں سے ہیں کہ جو تقریبا 9 سال کی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوئے اور خدا کی جانب سے امت کی رہبری کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا۔

منابع:

1. محمد باقر مجلسی، بحار الأنوار، تهران: المکتبه الاسلامیه،1366ش ج51، ص 85.

2. مریم(19)، آیة12.

3. فخر رازی، التفسیرالکبیر، چاپ الشرقیه، 1304ه، ج 11، ص192. .

4. مریم(19)، آیة29.

5 .  محمد یعقوب کلینی، اصول کافی، دار الکتب الاسلامیه، 1389ه، ج1، ص 382.

6 . گنجی شافعی، البیان، به اهتمام محمد جواد الحسینی الجلالی، قم: موسسه النشر الاسلامی،1405ه، ص521.

7. بعض منابع اہل سنت: ینابیع الموده قدنوزی، ص440، صحیح مسلم، ج2، ص115؛ صحیح بخاری،ج4، ص 164؛ فرائد السبطین، ج2 ، ص 133، چاپ بیروت.

8.  سلیمان بن ابراهیم قندوزی، ینابیع الموده، ج3، ص161.

9. سلیمان بن ابراهیم قندوزی، ینابیع الموده  ، ص 170.

10. در باره نبوغ فکری زود هنگام، نک: عبد العزیز جودو، العوده الی التجسد، مصر، مطبعه الوادی، ص106؛ سید عدنان البکاء، الامام المهدی المنتظر، بیروت، الغدیر،1419ه، ص 144- 135.

11. محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم و الملوک، بیروت،  دارالتراث،1408ه، ج2، ص62و63.

 12. شیخ مفید، الفصول المختاره، قم، المؤتمر العالمی، 1413ه، ص316.

13. الکافی، ج1، ص 383.  . محمد بن یعقوب کلینی،

14. الکافی ، ص 384.

امام زمان علیہ السلام کی امامت کا آغاز:

نرجس خاتون محرم اسرار آل محمد (ص) وہ روم میں ملکہ یا ملیکا کہی جاتی تھیں، لیکن جب قیدی بنائی گئیں تو اپنی حقیقت کو چھپانے کے لیے خود کو کنیزوں کے روپ میں نرجس کے نام سے متعارف کرایا۔ بعض نے ان کو سوسن اور ریحانہ بھی کہا ہے ۔ ان کے باپ یوشعا مشرقی روم کے سلطان کے بیٹے اور ماں ، حضرت عیسی ابن مریم کے خاص صحابی اور وصی و جانشین شمعون کے خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ وہ سلطنت روم کے شاہی ماحول میں نرگسی پھول کی مانند کھلیں اور اپنی عفت و پاکدامنی کی عطری مہک سے ہر ایک کو اپنا والاؤ گرویدہ بنا لیا انہیں بھی اپنی ماں کی طرح ، عفت و حیا، جناب شمعون کے خاندان سے وراثت میں ملی تھی اور ان کی زندگی کے تمام گوشے معنویت سے معمور تھے ۔ ملیکا ابھی نوعمر تھیں اور بہار حیات کی چودہویں دہلیز پر قدم رکھے ہی تھے کہ سلطان نے اپنے بڑے بھتیجے کی طرف سے شادی کا پیغام دے دیا اب بھلا کس میں مجال تھی جو سلطان وقت کے حکم کی خلاف ورزی کرتا، شاہی محلوں میں شادیانے بجنے لگے ، عقد خوانی کے لیے پورے شکوہ و عظمت کے ساتھ محل کو دلہن بنا دیا گیا سونے چاندی اور طرح طرح کے جواہرات عقیق و زمرد سے مزین ایک تخت بچھا دیا گیا اور روم کی شہزادی، ملیکا خاتون پانچ ہزار رومی امیروں ، شریف زادوں ، پادریوں، فوجی افسروں ، شاہی معتمدوں اور دولتمند تاجروں کے درمیان یاقوت کے دمدماتے ہوئے نگینے کی مانند درخشاں اور نمایاں تھیں اور آپ کے برابر میں ہی ایک طرف سلطان روم اور دوسری طرف سلطان کے بھتیجے خوش و خرم پورے شکوہ و جلال کے ساتھ متمکن تھے۔ عقد خوانی کے مراسم ادا ہونے لگے حسین و جمیل ہاتھوں میں مرصع سینیوں میں سجی سونے اور چاندی کی شمعیں اور خوبصورت قندیلیں یہاں سے وہاں تک پورے راہرو میں پھیلی ہوئی تھیں۔ پوپ نے تلاوت کے لیے انجیل مقدس اپنے ہاتھ میں اٹھائی مگر عین اسی وقت زمین میں ایک لرزہ پیدا ہوا اور سلطنت روم کے شاہی محل کے بام و در تیزی سے ہلنے لگے اس ناگہانی افتاد پر پورے دربار اور درباریوں میں ہلچل مچ گئی۔ سلطان روم، تخت پر اوندھے پڑے یہ سوچ رہے تھے کہیں یہ جشن شادی " خدایان ثلاثہ " کی ناراضگی کا سبب تو نہیں ہے آخر اس بلائے ناگہانی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟ اور جب ہوش سنبھلے تو پوپ اور بڑے بڑے پادریوں کی فرمائش پر شاہ روم نے عقد کے مراسم ملتوی کرتے ہوئے دربار برخواست کر دیا۔ روم کی شاہزادی نہایت ہی سکون و اطمینان کے ساتھ قدرت کا یہ تماشا دیکھ رہی تھی اور معصومانہ وقار و بردباری پورے وجود پر حکمراں تھا۔ کچھ دن گزر گئے اور سلطانی نے اپنا نیا فیصلہ جاری کر دیا اور اس دفعہ بھی شادی جیسے اہم فیصلے میں روم کی دوشیزہ سے کوئی رائے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ ایک بار پھر شاہانہ کر و فر کے ساتھ، پورے محل کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور پہلے سے بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ تمام اعیان روم کو جشن شادی میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس بار سلطنت روم کے مطلق العنان حکمران نے ملیکا کا عقد اپنے دوسرے بھتیجے سے کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ شاید اس طرح پہلے بھتیجے سے شادی کے اہتمام کی نحوست برطرف ہو جائے۔ پوپ نے دوبارہ انجیل کھولی اور ابھی آیات کی تلاوت شروع ہی کی تھی کہ ایک بار پھر شاہی محل کے بام و در ہلنے لگے تخت میں زلزلہ پیدا ہوا اور سلطان روم اپنے بھتیجے سمیت تخت سے نیچے آ گئے شادی کا جشن ، خوف و وحشت میں تبدیل ہو گیا۔ شاہ نے دوبارہ دربار برخواست کر دیا اور پردے گرا کر گم صم سے کسی سوچ میں بیٹھ گیا۔  اس حادثے کے بعد کسی گل کی طرح ہمیشہ شاداب و معطر رہنے والا چہرہ ایک ان جانے تصور سے کھلا کھلا سا نظر آنے لگا تھا، اگرچہ ملیکا کے دل و دماغ دنیا داری کی تمام بوالہوسیوں سے پاک و صاف تھے، لیکن یہ کانٹوں سے گھری زندگی ، ناگوار محسوس ہونے لگی تھی ، آرزو تھی کہ نور و معنویت سے سرشار کسی ایسے باغ میں پہنچ جائیں جہاں جھوٹی کبریائی کا کوئی وجود نہ ہو ۔ نوجوانی کی امنگیں ، غیر مترقبہ حادثوں سے متاثر ہوئے بغیر کیسے رہ سکتی تھیں، درباری رسم و رسومات سے آزادی ملی تو تنہائی میں اپنے معبود کے سامنے دست دعا بلند کر دئیے ۔ بار الہا ! میری مدد فرما، اور چند لمحوں کے راز و نیاز سے ہی فکر و اندوہ کے تمام بادل چھٹ گئے اور پر سکون انداز میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گئیں اور کچھ ہی دیر میں نیند لوریاں دینے لگی اور خوابوں کی ملکہ نے انہیں ایک حسین دنیا میں پہنچا دیا انہوں نے دیکھا ان کے نانا شمعون (ع) حضرت عیسی مسیح (ع) کے ساتھ حواریوں کے درمیان ایک عالیشان محل میں تشریف فرما ہیں ان کا تخت سلطنت روم کے شاہی تخت سے بھی زیادہ مرصع وجیہ اور باوقار تھا ۔ تھوڑی دیر بعد اس سے بھی زيادہ بلند و ارفع ایک نورانی تخت ظاہر ہوا جس پر کچھ نورانی چہرے جلوہ افروز تھے اور ایک منبر رکھا ہوا تھا، جس کے زینے ساق عرش کو چھو رہے تھے ۔ اس نورانی تخت کی طرف دیکھ کر سب کی نگاہیں خیرہ ہوئی جا رہی تھیں حضرت عیسی مسیح (ع) اور ان کے تمام ساتھیوں نے بڑی ہی گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا۔ وہ کوئی اور نہیں مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم تھے کہ جن کے ساتھ ان کے معصوم اہلبیت اطہار (ع) اور ان کے فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام بھی تشریف فرما تھے۔ پیغمبر اسلام (ص) نے جناب عیسی مسیح (ع) سے فرمایا:

اے روح اللہ ! میں آپ کے پاس اپنے بیٹے امام حسن عسکری کے لیے آپ کے وصی شمعون (ع) کی بیٹی ملیکہ کا رشتہ مانگنے آیا ہوں۔ حضرت عیسی مسیح (ع) نے شمعون کی طرف دیکھ کر فرمایا شمعون! خداوند نے آپ پر بڑا لطف و احسان کیا ہے آپ فخر مرسلین کے خاندان کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ لیں۔ جناب شمعون کی آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے فرمایا: میرے لیے اور میری بیٹی کے لیے اس سے زیادہ شرف و منزلت کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ رسول اعظم (ص) نے ہم کو بھی اپنے نورانی شجر طیبہ کے ساتھ منسلک کر لیا ہے ۔ یہ سنکر ، نبی اکرم (ص) نے ملیکہ کی طرف دیکھا اور پوچھا: کیا تمہیں یہ رشتہ منظور ہے ؟ جناب ملیکہ نے ایک سرسری نگاہ امام حسن عسکری (ع) کی طرف اٹھائی اور شرم و حیا کے ساتھ نظریں جھکا کر اپنی منظوری کا اظہار کر دیا۔ مرسل اعظم (ص) منبر پر تشریف لے گئے اور خداوند کی حمد و ستائش اور انبیاء (ع) اولیاء (ع) کی تعریف و توصیف کے بعد اپنے فرزند امام حسن عسکری (ع) اور ملیکہ خاتون کے درمیان عقد نکاح جاری کر دیا اور حضرت عیسی مسیح (ع) اور جناب شمعون (ع) نے گواہی دی۔ ملیکہ کی آنکھ کھلی ، تو خواب کے تمام مناظر آنکھوں کے سامنے ایک زندہ حقیقت کی صورت میں مجسم ہو گئے وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر اپنے گم شدہ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھیں دل جذبۂ عشق سے سرشار اپنے دلنشیں کی حسین یادوں میں غرق تھا، تجسس بھری نگاہیں چاروں طرف اٹھتیں اور دید یار کی حسرتیں لیے واپس پلٹ آتیں ، اس کے سوا کر بھی کیا سکتی تھیں کسی سے کچھ کہنے اور سننے کا یارا نہیں تھا، خدا کا یہ لطف کیا کم تھا کہ اب وہ آل محمد (ص) کی محرم اسرار بن چکی تھیں۔ سینے میں ایک ایسا راز تھا جس کی حفاظت انہیں اب خود کرنا تھی ۔ فرزند زہرا (س) کا عشق ، اپنے وجود کے تمام تار و پود میں وہ محسوس کر رہی تھیں مگر کسی سے کچھ نہیں کہہ سکتی تھیں۔ وصال کا شوق تھا، مگر نفسانی خواہشات سے پاک ، منتہائے معنویت کے پہلو میں زندگی بسر کرنے کا شوق اور اسی لیے نگاہوں سے دوری دل کا درد بنتی جا رہی تھی برگ گل حیات پژمردہ ہوتا نظر آ رہا تھا اور کسی کو خبر نہیں تھی کہ ملیکہ کی باغ و بہار زندگی پر خزاں کا رنگ کیوں غالب ہے ۔ گویا پرندۂ وجود، ماحول کی تاریکیوں سے تنگ آ کر خورشید عشق کی جانب پرواز کے پر تول رہا تھا۔ جی ہاں، ملیکہ کے حال کی کسی کو خبر نہیں تھی، حتی وہ اطباء بھی جو سلطان روم کی سفارش پر ملیکۂ روم کے معائنے کے لیے آئے ، حال دل سے بے خبر تھے ۔ بالآخر سلطان روم کی انانیت پر بیٹی کی محبت غالب آ گئی اور سلطان نے ملیکہ کے سر پر دست شفقت پھیرتے ہوئے کہا ! بیٹی اگر دل میں کوئی آرزو ہے جو تم کو بے چین کیے ہوئے ہے، تو اپنے دادا سے بیان کرو۔ میں تمہارے لیے آسمان سے تارے بھی توڑ کر لا سکتا ہوں۔ ملیکہ نے سلطان کی آغوش میں اپنا سر رکھ دیا اور لبوں پر مسکراہٹ کی کرنیں بکھیرتے ہوئے کہا : میں اپنی صحت خدا کی رضا میں دیکھ رہی ہوں، خدا کی مرضی یہ ہے کہ آپ مسلمان قیدیوں کو قید سے آزاد کر دیں ۔ اگر رومیوں کے تازیانوں اور شکنجوں سے انہیں رہائی مل جائے تو شاید حضرت مسیح (ع) اور ان کی ماں مریم (ع) کا لطف ہمارے شامل حال ہو اور مجھے صحت حاصل ہو جائے ۔ سلطان روم نے مسلمان قیدیوں کی عمومی معافی کا اعلان کر دیا اور ملیکہ کے نرگسی رخساروں پر پھر سے تر و تازگی پھیل گئی۔

خود نرجس خاتون بیان کرتی ہیں کہ: عالم خواب میں ، فرزند رسول (ص) کے ساتھ میرے عقد کو چودہ دن گزر چکے تھے ۔ میں ہر روز خیالوں ہی خیالوں میں اپنے در مقصود کے رخ زیبا کو مجسم کرتی اور دیدار دوست کے خوشگوار تصورات کے ساتھ آنکھ بند کر کے سو جاتی تھی مگر چودہویں شب میں ایک بار پھر میں نے خواب میں دیکھا جناب مریم ایک بڑی ہی نورانی خاتون کے ساتھ کہ جن کے پیچھے پیچھے جنت کی ہزاروں حوریں کنیزوں کی شکل میں چل رہی تھیں تشریف لائیں اور مجھے گلے لگا کر کہا: بیٹی سلام کرو، یہ رسول اعظم (ص) کی دختر حضرت فاطمہ زہرا (س) تمہارے شوہر امام حسن عسکری (ع) کی ماں ہیں ۔ میں نے بڑھ کر سلام کیا اور ان کے ہاتھوں کے بوسے لیے ان کی نورانی شکل دیکھ کر ایک بار پھر اپنے خوابوں کے شہزادے کی یاد تازہ ہو گئی اور نہ جانے کیسے ایک ہی جھٹکے میں ، میں کہہ گئی : اے بانوئے مہربان ! مجھے آپ کے فرزند سے شکوہ ہے انہوں نے مجھے بھلا دیا ہے ، ان سے دوری دل پر بہت شاق ہے یہ کہتے کہتے میری آنکھیں چھلک اٹھیں، میری حالت دیکھ کر مادر مہربان نے مجھے گلے سے لگا لیا اور مسکراتے ہوئے فرمایا: اگر چاہتی ہو خدا اور ان کے نبی عیسی مسیح (ع) اور میرے بابا مرسل اعظم (ص) نیز میرا بیٹا حسن عسکری (ع) تم سے راضی و خوشنود رہیں تو دین اسلام قبول کر لو، تمہاری نگاہیں جمال عسکری (ع) سے روشن اور تمہاری پیشانی نور مہدی (ع) سے تابندہ ہو جائے گی ۔ میں نے عرض کی میں تو آپ کے بابا کو پہلی مرتبہ دیکھ کر ہی ان پر ایمان لا چکی ہوں البتہ آپ مناسب سمجھیں تو مجھے کلمۂ شہادتین پڑھا دیں اور پھر میں نے مادر مہربان کی تعلیم کے مطابق کلمہ پڑھا: لا الہ الّا اللّہ ، محمد رسول اللہ علی ولی اللہ ۔یہ سن کر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا: اب میرے بیٹے کی آمد کا انتظار کرو میں اسے جلد ہی تمہارے پاس بھیج دوں گی اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔ خوشی سے دل سینے میں نہیں سما رہا تھا ، دل ہی دل میں ، میں نے کئی مرتبہ کلمۂ طیبہ دہرایا اور انتظار کی گھڑیاں طے کرنے لگی ۔ دن گزرا اور رات ہو گئی اور خیال محبوب میں بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں اور میٹھے میٹھے تصورات کے ساتھ نہ جانے کب سو گئی کہ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا ان کا خورشید جمال طلوع ہوا ، میری نگاہیں ان کے نور وجود میں خیرہ ہو گئیں ، سارے گلے شکوے جو سوچ رکھے تھے، بھول گئی ، چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کہہ سکی آنے والے کو شاید میرے دل کے حالات معلوم تھے کچھ کہے بغیر ہی وہ سب کچھ سمجھ گئے اور مجھے تشفی دیتے ہوئے فرمایا: اب تم دین اسلام قبول کر چکی ہو اور میں تم سے اسی طرح ملاقات کے لیے آتا رہوں گا یہاں تک کہ خداوند عالم ہماری ظاہری ملاقات کے حالات فراہم کر دے اور اس کے بعد ملیکہ خاتوں ستاروں بھری چاندنی راتوں میں ہمیشہ اپنے ماہتاب دل کی زیارت کر لیا کرتی تھیں۔ اس طرح ملیکہ کی دنیا سنہرے خواہوں اور حسین و جمیل آرزوؤں سے معمور ہو گئی۔ اگر بیتابی تھی تو صرف روم کی ظلمتوں سے نکل کر آلودگیوں سے پاک و صاف عصمت کدہ رسول (ص) تک پہنچنے کی اور خاندان نبوت و رسالت میں زندگی بسر کرنے کی۔  وہ جنگ و خونریزي کا زمانہ تھا امن و آشتی کی دور دور تک کوئی خبر نہیں تھی ، جنگی مورچوں سے مقتولوں کی لاشیں یا پھر اسیروں کی کھیپ غلاموں اور کنیزوں کی شکل میں ہر روز ادھر سے ادھر بھیجی یا تبادلہ کی جاتی تھی۔ ملیکہ خاتون بھی ذہنی طور پر جنگ و خونریزی کے اس ماحول سے بری طرح پریشان تھیں اور جب عالم رویا میں ان کی امام حسن عسکری (ع) سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس صورت حال کو ناگوار قرار دیا ، اس وقت امام (ع) نے ملیکہ خاتون سے کہا: میں آج سے تمہارا نام نرجس قرار دیتا ہوں، اب تم ہم تک پہنچنے کے لیے سامرا کے سفر کی تیاری کرو، اور خود کو کنیزوں اور خدمتگاروں کے لباس میں اس طرح تبدیل کر لو کہ کوئی تمہیں پہچان نہ سکے اور فلاں فلاں راستے سے ہو کر مسلمانوں کے خلاف عازم رومیوں کے لشکر کے ساتھ ملحق ہو جاؤ، اور نرجس خاتون نے جس طرح ان سے کہا گیا تھا مو بہ مو عمل کیا رومیوں کے لشکر کو مسلمانوں کے خلاف شکست ہوئی اور رومی کنیزوں اور خدمتگاروں کے ساتھ مسلمانوں نے انہیں بھی اسیر کر لیا ۔ امام حسن عسکری (ع) کے والد امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے ایک معتمد بشر ابن سلیمان کو جو رسول اسلام (ص) اور ان کے اہلبیت سے خاص عقیدت رکھنے والے جناب ابو ایوب انصاری کے خاندان سے تھے، اپنے گھر بلایا اور فرمایا: اے بشر ، میں آج تم کو ایک بہت ہی اہم ذمہ داری سونپ رہا ہوں ، یہ کام تمہاری عزت و شرافت میں مزید اضافے کا باعث بنے گا ۔ یہ کہہ کر آپ نے رومی زبان میں لکھے گئے ایک سر بہ مہر خط پر دستخط کیے اور بشر کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا: دو سو بیس اشرفیوں کی یہ تھیلی لے جاؤ اپنے پاس رکھو اور جس دن میں کہوں گا بغداد جا کر صبح سویرے ، پل پر کھڑے ہو جانا وہاں دریا کے کنارے تم کو نظر آئے گا کہ کنیزیں کشتی سے اتاری اور بیچی جا رہی ہیں ۔ تم بھی وہاں پہنچ جانا، لوگ آئیں گے کنیزوں کی خریداری کریں گے اور چلے جائیں گے یہاں تک کہ ایک کشتی سے جس کے مالک کا نام عمرو ابن یزید ہو گا ایک لڑکی جو ان ان اوصاف کی حامل ہو گی بیچنے کے لیے لائی جائے گی وہ حریر کے دوہرے لباس میں ملبوس ہو گی اور قیمتی کھال کی ایک شال کاندھے پر پڑی ہو گی باوجودیکہ بردہ فروش تمام کنیزوں کو خریداروں کے سامنے کھڑا کر دیں گے مگر وہ دوسری کنیزوں کے برخلاف کسی خریدار کو صورت و بدن چھونے کی اجازۃ نہیں دے گی اور عفت و حیا کی پیکر بنی کسی بھی خریدار کے ہاتھ خود کو بیچے جانے پر تیار نہیں ہو گی ۔ یہ دیکھ کر تمام خریدار اس کے گرد جمع ہو جائیں گے اور وہ بے بسی کے ساتھ ایک آہ سرد بھر کر کہے گی: خدایا! میری مدد کر میری عفت اور حجاب خطرے میں ہے۔ ایک خریدار آواز دے گا: میں اس کنیز کو تین سو دینار میں خریدنے پر تیار ہوں اس کی عفت نے مجھے اس کی خریداری پر مجبور کر دیا ہے اور وہ لڑکی جواب دے گی: اگر ملک سلیمان کا تمام خزانہ میرے سامنے ڈال دو تب بھی تمہاری کنیزی قبول نہیں کروں گی ۔ عمرو ابن یزید ، اس لڑکی سے کہے گا: اب میرے پاس تجھے بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ جواب میں لڑکی کہے گی: نہیں ابھی ٹہرو، کوئی نہ کوئی ایسا خریدار آئے گا کہ جس کی وفاداری اور دینداری پر میں اعتماد کر سکوں ۔ اس وقت عمرو ابن یزید کے پاس جانا اور کہنا : میں اس لڑکی کے لیے ایک خط لایا ہوں جو رومی زبان میں لکھا ہوا ہے یہ خط اس کو دیدو وہ اگر خط پڑھ کر راضی ہو تو میں اس لڑکی کو صاحب خط کے لیے ، جس کے اوصاف خط میں مذکور ہیں ، خرید لوں گا۔ اس طرح میرا خط پڑھ کر جب وہ لڑکی راضی ہو جائے تو عمرو ابن حجاج کو اس کی قیمت دے کر ، لڑکی کو میرے پاس یہاں لے آنا۔ بشر ابن سلیمان ، جیسا کہ امام علی نقی علیہ السلام نے کہا تھا عمل کیا، خط دیکھتے ہی نرجس کا چہرہ کھل اٹھا آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور عمرو سے کہہ دیا میں جس امین کی منتظر تھی آ گیا مجھے اس مرد دیندار کے حوالے کر کے اپنی قیمت لے لو۔ بشر کہتے ہیں : میں نے دو سو بیس اشرفیاں عمرو ابن یزید کے ہاتھوں پر رکھدیں اور نرجس کو لے کر، وہاں سے روانہ ہو گیا ۔ میں نے دیکھا: وہ بار بار خط کو نکالتی ہیں پڑھتی ہیں اور آنکھوں سے لگا لیتی ہیں ۔ مجھے تعجب ہوا اور میں نے کہا: تم نے تو ابھی خط لکھنے والے کو دیکھا بھی نہیں ہے ، یہ بار بار خط کے بوسے کیوں لے رہی ہو ؟ وہ کہنے لگی: لگتا ہے تم کو ابھی پوری طرح ان کی معرفت نہیں ہے اگر نبیوں اور اماموں کی معرفت ہوتی تو یوں نہ کہتے اور پھر اپنی پوری داستان شروع سے آخر تک بیان کر دی، اس کے بعد میں پورے ادب و احترام کے ساتھ انہیں لے کر امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ امام کے لبوں پر مسکراہٹ کی کرنیں بکھر گئیں انہوں نے اپنی بہن حکیمہ خاتوں کو آواز دی اور فرمایا: لیجئے یہی وہ بانوئے محترم ہے جس کا آپ کو شدت سے انتظار تھا۔ حکیمہ خاتوں نے بڑھکر نرجس خاتون کو گلے سے لگا لیا۔ امام علی نقی علیہ السلام نے حکیمہ خاتون سے کہا: اس کو عصمت کدہ میں لے جایئے اور دلہن بنا دیجئے یہی میرے بیٹے حسن عسکری (ع) کی بیوی اور مہدی آل محمد (ع) کی ماں بنے گی ۔

اللّہم صل علی محمد(ص) و آل محمد(ص)    

فرزند رسول امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتوں سے روایت ہے کہ :

امام علی نقی علیہ السلام کی فرمائش کے مطابق نرجس خاتون کو میں اپنے گھر لے آئی اور لباس عروسی میں آراستہ و پیراستہ کیا، ان کے عادات و اطوار سے محسوس ہوتا تھا وہ سر سے پاؤں تک عفت و پاکدامنی کا گلدستہ ہوں اگرچہ ملیکۂ روم تھیں اور سلطنت روم کے شاہانہ کر و فر میں پلی بڑھی تھیں، مگر ان کا پورا وجود تواضع اور انکساری کا پیکر تھا ۔ ان کے معصوم سے چہرے پر عفت و حیا کی ایسی سرخی تھی کہ دیکھنے والا ایک ہی نگاہ میں قربان ہو جائے ۔ امام حسن عسکری علیہ السلام گھر میں آئے تو انہیں دیکھ کر نرجس کا چہرہ کھل اٹھا۔ میری نگاہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے چہرے پر مرکوز تھیں میں نے ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک کا مشاہدہ کیا تو مسکراتے ہوئے پوچھا: بیٹے کیا آپ کو نرجس پسند ہیں ، آپ کے بابا امام علی نقی علیہ السلام نے انہیں آپ کے لیے پسند کیا ہے ؟ امام حسن عسکری علیہ السلام نے جواب دیا: پھوپھی کیا آپ کو بابا نے نہیں بتایا کہ ہمارے جد امجد رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ہمارا عقد پڑھ چکے ہیں ، اور میں نرجس کی پیشانی میں اپنے فرزند امام مہدی (عج) کا نور دیکھ رہا ہوں جو جلد ہی دنیا میں آ کر عدل و انصاف کی حکمرانی قائم کریں گے اور روئے زمین سے ظلم و جور کا خاتمہ ہو جائےگا ۔ میں نے پوچھا کیا نرجس خاتون کو آپ کے گھر روانہ کر دوں ؟ تو امام (ع) نے فرمایا، اس سلسلے میں بابا کی اجازت مقدم ہے یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ امام علی نقی علیہ السلام کاشانہ عصمت میں داخل ہوئے اور جناب نرجس اور امام حسن عسکری علیہ السلام کو ساتھ بٹھا کر، دونوں کی مرضی سے عالم ظاہر میں بھی عقد نکاح پڑھا اور جناب حکیمہ سے کہا نرجس کو میرے بیٹے کے گھر پہنچا دیجئے ۔ خداوند عالم نے اس عمل کے ذریعے آپ کو بھی خیر و برکت سے سرشار عظیم ثواب میں شریک قرار دیا ہے۔ اب جناب نرجس کاشانۂ نبوت و امامت کا ایک حصہ بن چکی تھیں۔ ایک دن امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں پہنچیں تو آپ نے اپنی بہو کی قلبی کیفیت کا اندازہ لگانے کے لیے فرمایا: میں تمہیں آج ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں کیا چاہتی ہو، یہ دس ہزار اشرفیوں کی تھیلی تم کو ہدیہ کروں یا ایک ابدی شرف و منزلت کی بشارت دوں ؟ جناب نرجس نے جو امام حسن عسکری علیہ السلام کی رفاقت کے سبب معنویت کے بلند درجے پر فائز ہو چکی تھیں اور مادیت سے ان کا دل بھرا ہوا تھا ، بڑے ادب و احترام کے ساتھ فرمایا آپ کی نظر محبت ہی میرے لیے عظيم سرمایہ ہے، مال دنیا کے بجائے ابدی شرف کی خواستگار ہوں۔ امام علی نقی علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: میں تمہیں بشارت دیتا ہوں عنقریب ہی خداوند منان تم کو ایک ایسا فرزند عطا کرے گا جو عدل و انصاف سے اس دنیا کو اسی طرح بھر دے گا کہ جیسے یہ ظلم و جور سے بھری ہو گی ۔ ظاہر ہے عظمت و منزلت خدا کی اطاعت و بندگی کے بغیر ممکن نہیں ہے، ولی خدا کی ماں بننے کا شرف نفسانی ملکات کا طالب ہے در حقیقت جناب نرجس کا وجود اسرار الہی کا مخزن بن چکا تھا کیونکہ امام مہدی موعود، خود سرّ خدا ہیں اور جناب نرجس اسی سر الہی کی امانتدار بن چکی تھیں ۔ جناب نرجس نے اپنے دامن عفت کو معصومین سے اس قدر قریب کر لیا تھا کہ امام (ع) نے آپ کو اپنی زيارت میں " تقیہ " کی صفت سے یاد کیا ہے اور گلزار ہدایت میں کسی پھول کی طرح فضائے عالم کو وہ عطر و زيبائی عطا کی کہ آپ کو "نقیہ" کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔ مہدی موعود کی مادر گرامی کو کاشانہ امامت میں رہائش کے دوران جن دنوں امام علی نقی (ع) اور امام حسن عسکری علیہما السلام ، عباسی حکمرانوں کے ظلم و زیادتی کے سبب سامرا کے قید خانے نما گھر میں سخت نظر بندی کی زندگی بسر کر رہے تھے ، طرح طرح کی سختیوں اور زحمتوں کا سامنا تھا، خصوصا جس وقت امام حسن عسکری (ع) کے لیے سرکاری پہرے سخت کر دیئے گئے کہ امام مہدی (عج) کی پیدائش کے تمام راستے بند کر دیئے جائیں۔ جناب نرجس کی زندگی عظیم مصیبتوں سے دوچار تھی لیکن روایات کی روشنی میں آپ کا گلستان وجود مقام رضا کے اس درجے پر فائز تھا کہ آپ نہایت ہی صبر و سکون کے ساتھ سرّ خدا کی حفاظت و پاسبانی میں مشغول رہیں اور اسی لیے آپ کو " مرضیہ " کے خطاب سے تاریخ نے یاد کیا ہے ۔ امام معصوم زیارت میں فرماتے ہیں :

اشہد انّک احسنت الکفالۃ وادّیت الامانۃ و اجتہدت فی مرضات اللہ و صبرت فی ذات اللہ ،

میں گواہی دیتا ہوں آپ نے بہترین انداز میں کفالت کی امانتداری سے کام لیا رضائے الہی کی راہ میں جہاد و کوشش کی اور صرف خدا کے لیے صبر آزما مرحلوں سے گزریں۔

امام عصر کی مادر گرامی خاندان امامت کی حقانیت سے آشنا تھیں اور تمام سختیاں انہوں نے دل و جان سے قبول کی تھیں، ان کے امر امامت سے آگاہ تھیں ان کے دریائے ولایت میں ڈوب کر خطرناک موجوں سے مقابلے کا عزم کر چکی تھیں چنانچہ انہوں نے اپنا پورا وجود اسی راہ میں وقف کر دیا اور نرگس گلزار بہشت بن گئیں ۔

اللہ نے آپ کو وہ شرف و مقام عطا کیا ہے کہ روز قیامت شفاعت کرنے والوں میں آپ کا نام بھی آتا ہے اور مومنین آپ کے زيارت نامے میں خدا سے دعا کرتے ہیں ۔

ولا تحرمنی شفاعتھا ،

خدایا ہم کو اس بانوئے بزرگوار کی شفاعت سے محروم نہ کرنا۔

وارزقنی مرافقتہا و احشرنی معھا ،

خدایا ہم کو ان کی رفاقت اور ان ہی کے ساتھ محشور کرنے کی سعادت و کرامت عطا فرما،

مہدی موعود امام عصر علیہ السلام کی مادر گرامی جناب نرجس خاتوں کی قبر اطہر سامرا میں امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے قبۂ مبارک کے ساتھ ملحق ہے اور جناب حکیمہ خاتوں کے پہلو میں آپ بھی آرام فرما رہی ہیں۔

السلام ُ علیک یا صا حبُ آلعصر والزمان عجل اللہ ُ تعالٰی فرجہ۔

گلشن میں جیسے بہار لوٹ کے آئی ہے

مختار نے خبر ہی کچھ ایسی سنائی ہے

خوب آج ہنسو عید کا دن ہے حسینیوں

دختر زہرا آج کے دن مسکرائی ہے

ہر دم اس کی عنایت تازہ ہے

اس کی رحمت بغیر اندازہ ہے

جتنا ممکن ہے کھٹکھٹاتے جاؤ

یہ دستِ دعا خدا کا دروازہ ہے

ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

ملے نہ تم کو کوئی غم، غم حسین کے بعد

عید زہرا بھی مناؤ، غم حسین کے بعد

لے آئے  کاٹ کر مختار سر لعینوں کے

ہے آج رخ پے تبسم، غم حسین کے بعد

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی