2017 December 12
چارداعشی دہشتگردوں کیساتھ شادی کرنے والی فرانسیسی خاتون کی کہانی
مندرجات: ١١٠٨ تاریخ اشاعت: ٠٦ November ٢٠١٧ - ١٢:٤٥ مشاہدات: 17
خبریں » پبلک
چارداعشی دہشتگردوں کیساتھ شادی کرنے والی فرانسیسی خاتون کی کہانی

مارگو کہتیں ہیں کہ مجھے یہ شادیاں کرنے پر افسوس ہے، پسند تھا کہ زندگی آرام دہ ہو اور ایک آدمی سے شادی کروں اور میرے بچے ایک شوہر سے ہوں۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے یورو نیوز کے حوالے کہا ہے کہ فرانس کی ستائیس سالہ خاتون مارگو کہ جس کے اب تین بچے ہیں، کو الرقہ میں داعش کے نام نہاد خلیفہ کے ہیڈکوارٹر سے گرفتار کیا گیا جو اب فرانس واپس جانے کی تیاری میں ہے۔   

مارگو کو الرقہ شہر کو آزاد کرانے کے دوران شام کی کرد فورسز نے گرفتار کیا اور اب وہ شام کے شمال میں فورسز کے زیر حراست ہے۔

مارگو نے فرانسیسی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ الرقہ میں کافی عرصہ سے قید رہی۔"کیونکہ داعشیوں کے مطابق ایک تنہا عورت کو ایک ایسی جگہ قید رکھنا چاہئے جو  اس طرح کی عورتوں کے لئے مختص ہو۔

مارگو  چار سال داعشی دہشتگردوں کے درمیان رہیں اور ایک فرانسیسی دہشتگرد کے ساتھ شام میں شادی کی اور ان میں سی تین افراد جنگ میں مارے گئے ہیں۔

مارگو نے کہا کہ مجھے شادیاںکرنے پر افسوس ہے، مجھے پسند تھا کہ میری زندگی میں آرام ہو اور ایک شخص سے شادی کروں اور میرے بچے بھی ایک ہی شوہر سے ہوں اور میں مسلمان ملک میں آرام سے زندگی گزارنا کی آرزومند تھیں۔

مارگو کا کہنا تھا کہ اگر وہ شام میں مزید رہے تو اس کی موت واقع ہوسکتی ہے۔

مارگو نے مزید کہا کہ ایک دفعہ کوشش کی کہ داعش کے قبضے سے فرار کروں لیکن یہ بہت زیادہ خطرناک تھا۔

انہوں نے کہا کہ داعشی جنگجو بھاگنے والے پر فائرنگ شروع کردیتے ہیں اور ان خواتین کی جن کے درمیان وہ رہتی تھی، اگر کوئی چاہتی کہ فرار کریے تو اس کو بے نقاب کیا جاتا اور اسے فورا گرفتار کیا جاتا۔

مارگو اب آمادہ ہے کہ فرانس واپس جانے کی صورت میں  جیل جائے۔ وہ فرانس کے صدر سے صرف اتنا چاہتی ہے کہ اس  کے بچوں کو فرانس واپس آنے کی اجازت دے دیں۔

اس حال میں مارگو کہتی ہے کہ "آپ کو پتہ ہے کہ مجھے فرانس کے موجودہ صدر کا نام تک نہیں معلوم اور جس وقت میں الرقہ میں قید تھی اس وقت اولینڈ فرانس کے صدر تھے اور اس کے بعد اب تک مجھے خبروں تک رسائی نہیں ملی۔"

داعش نے جب شام اور عراق میں حملوں کا آغاز کیا تو متعدد فرانسیسی شہری بھی اس گروہ میں شامل ہو گئے اور اب اس گروہ کے کمزور ہونے کے بعد اب واپس اپنے ملک لوٹنے کے درپے ہیں۔

فرانس کے بیس سے زیادہ  خاندانوں نے ملک کے صدر ایمنوئل ماکرون کو خط میں لکھا ہے کہ مارگو اور اس کے بچوں کو جو داعش میں شمولیت کے بعد اب پشیمان ہیں،  فرانس واپس آنے کی اجازت دی جائے اور فرانس کی عدالت میں ان پر کیس چلایا جائے۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی