2017 December 12
سنی تحریک کے وفد کی وزیر دفاع سے ملاقات، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ
مندرجات: ١١٠٦ تاریخ اشاعت: ٠٦ November ٢٠١٧ - ١٢:٤٣ مشاہدات: 19
خبریں » پبلک
سنی تحریک کے وفد کی وزیر دفاع سے ملاقات، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

سنی تحریک کے وفد نے ایسی حالت میں وفاقی وزیر دفاع سے کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر بالخصوص پنجاب میں یہ تنظیمیں ارباب اختیار کی سرپرستی میں ہی پھل پھولتی آرہی ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وفاقی وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان سے سنی تحریک کے صوبائی رہنما محمد زاہد حبیب قادری سمیت علماء و مشائخ اہلسنّت کے وفد نے ملاقات کی اور خرم دستگیر خان کو اپنے تحریری خدشات و تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے حلف نامے کو اصل اور پرانی حالت میں بحال کیا جائے، الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر بھی اصل، پرانا حلف نامہ بحال کیا جائے، نام بدل کر کام کرنیوالی کالعدم جماعتوں کی سرگرمیاں ملکی سالمیت اور خود مختاری کیلئے خطرناک ہیں، کالعدم جماعتوں کا سرکاری زمینوں پر قبضہ فوری ختم کرایا جائے، بعض مدارس اور دینی جماعتوں کو حکومتی مداخلت کے بغیر ملنے والی غیر ملکی امداد فوری بند کرائی جائے، سعودی عرب سمیت دبئی، کویت، بحرین، برطانیہ، امریکہ، ساؤتھ افریقہ سمیت دنیا بھر سے آنیوالی مالی امداد پاکستان میں فرقہ واریت اور مذہبی بدامنی پھیلانے کیلئے استعمال کی جا رہی ہے، حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ غیر ملکی امداد کے ذریعے پاکستان میں ہونیوالی مداخلت کیخلاف فوری کردار ادا کرے۔

وفد میں شریک پیر علامہ خالد حسن مجددی، علامہ مفتی محمد شعبان، قاری محمد بوٹا جٹ، مولانا محمد رفیق احمد رضوی، چودھری محمد عدیل عارف مہر، چودھری محمد شاذب چٹھہ، مولانا امانت جلالی، حافظ محمد طاہر رضا قادری، محمد شعبان، محمد منظور قادری، محمد جاوید بٹ، ڈاکٹر حبیب الرحمن، مولانا ڈاکٹر محمد اشرف رضوی، غلام دستگیر خان، مولانا محمد یعقوب، مولانا محمد اشرف رضا، محمد فائق قادری، محمد فیصل اقبال سلطانی، محمد احمد نورانی، مولانا محمد عدنان و دیگر نے کہا کہ توہین رسالتؐ کی مجرمہ آسیہ ملعونہ کو فوری پھانسی دلوانے میں حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے، آئندہ انتخابات میں اہلسنّت آزاد حیثیت سے حصہ لیں گے، کسی سیاسی جماعت سے اتحاد ہوا تو دینی، ملی اور قومی مفادات کو ترجیح دی جائے گی، اداروں کو مستحکم کیے بغیر جمہوریت کو مستحکم نہیں بنایا جا سکتا، کراچی سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے فوج کی خدمات اور قوم کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، ریاست کے علاوہ کسی فرد، جماعت یا گروہ کے مسلح ونگ بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کالعدم جماعتوں کی شمولیت ملک و قوم کے مفاد کے منافی ہے، اچھے برے طالبان اور شدت پسند گروہوں میں فرق کیے بغیر غیر ریاستی عناصر اور انتہا پسندوں کو قانون اور انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے علماء ومشائخ کے وفد کو مکمل یقین دہانی کرواتے ہوئے کہاکہ حلف نامہ پہلی اور اصل حالت میں ہی بحال کیا جائے گا، قادیانی غیر مسلم ہیں، اسلام اور ناموس رسالتؐ کے متعلق کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، سازشی عناصر کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، پاکستان کی سالمیت امن و امان کیساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کسی شرپسند کو اب سر اُٹھانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ علماء و مشائخ کے وفد نے وفاقی وزیر دفاع کو مکمل یقین دہانی کرواتے ہوئے کہاکہ وطن عزیز کے دفاع کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا، کالعدم جماعتوں کیخلاف حکومت کارروائی عمل میں لائے، اہلسنت بھرپور تعاون کرینگے۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی