2017 December 12
ناصر شیرازی کا جرم کیا؟
مندرجات: ١١٠٤ تاریخ اشاعت: ٠٥ November ٢٠١٧ - ١٣:٠٧ مشاہدات: 15
خبریں » پبلک
ناصر شیرازی کا جرم کیا؟

افسوس اور دکھ کے اسباب تو اور بھی بہت ہیں اور ان میں برادر ناصر شیرازی کے جبری اغواء کا معاملہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ 48 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن تاحال رہائی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی.

 پاکستان کے غدار اور دہشت گرد آزاد ہیں اور احسان اللہ احسان جیسا ہزاروں افراد کا قاتل ٹالک شو کی زینت بنتا ہے، دوسری جانب ناصر شیرازی جیسے محب وطن عظیم افراد کو جبری طور پر اغواء کیا جا رہا ہے۔ رہائی کے لئے عدالت نے سی پی او کو سوموار کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے، آج ملک بھر میں احتجاج بھی کیا گیا، جس میں وکلاء شیعہ سنی علماء کرام نے شرکت کی۔
 سوموار کو گرفتاری ظاہر نہ کی گئی تو لاہور میں بھرپور احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملت تشیع پاکستان کے ساتھ مضافاتی شہریوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایک جانب ایران عراق جانے کے لئے زائرین تفتان باڈر پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، کچھ زائرین لاہور میں ایرانی قونصلیٹ کے باہر خوار ہو رہے ہیں، 130 سے زائد شیعہ جوانوں کو جبری طور پر اسیر کیا گیا ہے۔ اسیران کی رہائی کے لئے کوشاں ناصر شیرازی کو بھی اغواء کر لیا گیا ہے۔
محرم میں مجالس و جلوس کے 800 بانیان و عزاداران کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی، ملت تشیع پاکستان نے 24 ہزار افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے باوجود قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا۔ پارا چنار تو کبھی ڈی آئی خان میں جنازے اٹھائے گئے، لیکن مظلومیت اور صبر کا دامن نہ چھوڑا، پھر بھی ملت تشیع پاکستان کے ساتھ ایسا رویہ کیوں؟ ہمارا قصور کیا ہے؟ آج لاہور میں شیعہ سنی علماء کرام، وکلاء، سیاستدانوں اور طلبہ کو ناصر شیرازی کے ساتھ جذباتی تعلق کا اظہار کرتے دیکھا۔ یہاں مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں کیجانب سے ناصر شیرازی کی بے باک شخصیت کے حوالے سے احساسات اور جذبات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ طلبہ کے مطابق عالمی حالات پر ان جیسا تجزیہ نگار نہیں، علماء کا کہنا تھا کہ شیعہ سنی اتحاد کے لئے شیرازی صاحب کی کاوشیں عملی اور مثالی ہیں، تو پھر محب وطن شہری کو بیوی بچوں کے سامنے اسلحہ کے زور پر کس جرم میں اغواء کیا گیا ہے۔؟
توقیر کھرل




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی