2017 November 24
داعش، عصر حاضر کے خوارج ہیں
مندرجات: ١٠٨٨ تاریخ اشاعت: ٢٢ October ٢٠١٧ - ١٣:٠٤ مشاہدات: 28
خبریں » پبلک
داعش، عصر حاضر کے خوارج ہیں

مرکز الاشعاع الاسلامی کے مدیر حجت الاسلام صالح کرباسی نے حوزه علمیہ خاتم الاوصیاء میں ہونے والی ایک علمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: قران کریم کا ارشاد ہے کہ الھی تعلیمات کی تبلیغ کرنے والے ہرگز کسی کا پاس و لحاظ نہیں کرتے بلکہ ان کی تمام تر توجہات خدا کی رضایت کے حصول پر ہوتی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: طلاب و اہل حوزہ انبیاء اور اوصیاء الھی کی پیروی کرتے ہوئے خدا کی رضایت اپنا مقصد قرار دیں اور یقین رکھیں کہ اگر انہوں ںے اس کے سوا کوئی اور مقصد نگاہ میں رکھا تو خسارہ میں رہیں گے ۔

مرکز الاشعاع الاسلامی کے مدیر نے تعلیم و تعلّم کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: روایتیں اس بات کی بیان گر ہیں ملائکہ طلاب کے قدموں کے نیچے اپنے پر بیچھاتے ہیں اور زمین و آسمان کی تمام موجودات پروردگار عالم کی بارگاہ میں ان کے لئے رحمت و مغفرت کی درخواست کرتی ہیں نیز طالب کی اس منزل کو دیکھ کر وجد میں آجاتے ہیں ۔

حجت الاسلام کرباسی نے انسانوں کی ہدایت کے آثار و اہمیت کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اگر ہم دینی و الھی علوم کی تبلیغ و ترویج میں کوتاہی کریں گے تو ہمیں داعش جیسے افراد کے وجود میں آنے کے انتظار رکھنا چاہئے ، کتنے مسلمان جوان موجود ہیں جو تعصب ، شدت پسندی ، غلط افکار و انحرافات کی وجہ سے خطرناک انسان بن چکے ہیں ۔

داعش، عصر حاضر کے خوارج ہیں

انہوں نے باعلم طلاب کی جانب سے ہونے والی تبلیغ دین کے آثار کی جانب اشارہ کیا اور کہا: داعش، عصر حاضر کے خوارج ہیں ، اگر اہل حوزہ ، علماء و طلاب و جاہل اور نادان مسلمان جوانوں کو منحرف ہونے سے پہلے ہدایت کردیں تو یقینا اس طرح کے فرقہ وجود میں نہ آئیں گے ۔

مرکز الاشعاع الاسلامی کے مدیر نے دنیا ، اسلام اور شیعت کے روشن مستقبل میں طلاب اور اہل حوزہ کے موجود کردار کی جانب اشارہ کیا اور کہا: دنیا کے انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کے ذریعہ حضرت ولی عصر(عج) کے ظھور کا زمنیہ فراہم کریں ۔

انہوں نے مزید کہا: طلاب اپنی تعلیم کے تمام لمحات کی قدر کریں ، اس موقع سے بخوبی استفادہ کریں نیز خود کسی خاص میدان سے محدود نہ کریں بلکہ ہر اس میدان میں جس میں ان کی ضرورت ہے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے کے تیار کریں ۔

حجت الاسلام کرباسی نے سوشل میڈیا کی ترقی اور اس میدان میں علماء کی موجودگی ضروری جانا اور کہا: ان تمام وسائل کے ذریعہ ہم پر حجت تمام ہے ، جو بھی اپنے گھر میں بیٹھ کر معاشرے پر اثر انداز ہوسکتا ہے وہ اقدام کرے اور دین اسلام کی تبلیغ کرے ۔

انہوں نے آخر میں یاد دہانی کی: وہابیت کا دور ختم ہوچکا ہے اس کے پیرو پوری دنیا میں بے آبرو ہوچکے ہیں ، وہابیت چکنا چور ہوچکی ہے ، وہ دین جس میں ایک بادشاہ کے حکم سے حرام ، حلال بن جائے وہ دین پیروی کے لائق نہیں رہا ، آج سعودیہ کے قلب میں موجود افراد وہابیت سے متنفر ہوکر شیعہ ہو رہے ہیں اور وہابیت کے دشمن بن رہے ہیں ، ہمیں اس موقع سے بخوبی استفادہ کرنا چاہئے کیوں کہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو وہ کسی اور دین کی جانب رغبت حاصل کرلیں گے ۔/ ۹۸۸/  ۹۷۱

 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی