2017 December 12
محمد بن سلمان اپنی پسند کی وہابیت کی بنیاد رکھنے کے درپے
مندرجات: ١٠٧٠ تاریخ اشاعت: ١٤ October ٢٠١٧ - ١١:٢٩ مشاہدات: 26
خبریں » پبلک
محمد بن سلمان اپنی پسند کی وہابیت کی بنیاد رکھنے کے درپے

محمد بن سلمان اپنی طاقت کو مستحکم کرنے اور کم خرچ نیز بہت کامیاب بادشاہت کے حصول کے لئے اپنی مطلوبہ وہابیت کو منظم کررہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ سعودی حکومت کی داخلی سیاست میں دین کا باہم ربط اور حکومت آل سعود اور آل الشیخ کی صورت میں سنہ 1158 ہجری سے قائم ہے۔ آل سعود کے تشدد پسندانہ اور دقیانونسی اصول ہر نئی بادشاہت میں اعتدال، اصلاح اور تبدیلی کی جانب بڑھتے آئے ہیں اور وہابی فرقہ ـ جس کو ایک سیاسی / استعماری / درباری فرقہ کہنا زیادہ مناسب ہے ـ ایک اعتقادی یا فقہی فرقے سے آل سعود کی حکمرانی کا راستہ ہموار کرنے والے ادارے (اور ربڑ اسٹیمپ) میں بدل چکا ہے۔
بایں وجود وہابیت کی جڑیں آج بھی سعودی عرب کی داخلی سیاست میں گہری اور مستحکم ہیں تاہم محمد بن سلمان کے ولیعہد بننے کے بعد آج اس فرقے کو مختلف چیلنجوں کا سمانا ہے۔ محمد بن سلمان کی فردی خصوصیات اور عادات و اطوار کے پیش نظر اور معاشرت اور قومی سلامتی کے حوالے سے اس کی پالیسیاں ویسے ہی بہت سوں کے لئے فکرمندی کا سبب ہوئی تھیں، لیکن چونکہ وہابیت کے لئے بھی اس کے اپنے خاص نظریات ہیں جن کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ وہابیت کے لئے اس کی طرف سے پیدا کردہ مسائل بجائے خود بہت اہم ہیں۔
آل سعود کی تیسری حکومت کے جزیرہ نمائے عرب پر مسلط ہونے کے آٹھ عشرے گذر رہے ہیں اور اب محمد بن سلمان اس حکومت کی سماجی و سیاسی تعمیر نو پر زور دے رہا ہے۔ وہ سرکش وہابی فرقے میں اصلاح کرکے ایسا مطلوبہ نسخہ (Version) منظم کرنے کے درپے ہے جو اس کے مقاصد کے حصول کے لئے مفید ہو۔ یہاں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ "محمد بن سلمان کے نزدیک وہابیت کے مطلوبہ نسخے کی خصوصیات کیا ہیں؟
محمد بن سلمان اپنے مشیروں کی مدد سے جزیرۃ العرب کی معاشرتی ذہنیت بدل کر روایتی، قبائلی اور آرتھوڈاکسی معاشرے کو ایک ترقی پسند، کھلے قوم پرستی معاشرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جس کے بموجب وہ جزیرۃ العرب کے روایتی مذہب میں تبدیلی لا کر اسے "نو وہابیت" (Neo-wahhabism) کی صورت میں لانا چاہتا ہے۔ اسی رو سے بن سلمان کے دور میں یوں لگتا ہے کہ سیاست کے اصلی مرکزے [یعنی بادشاہ اور دربار) اور مذہبی قوت (ملکی مفتی کے زیر قیادت کام کرنے والی "وہابیت") کے درمیان ربط و تعلق میں بھی ڈرامائی تبدیلیاں نمودار ہونگی۔
1۔ محمد بن سلمان اور ویژن 2030 کے ضمن میں ثقافتی انقلاب
سعودی معاشرے کے اندرونی بحرانوں نیز محمد بن سلمان کے اہداف و مقاصد کا صحیح ادراک ان راستوں میں سے ایک ہے جن سے گذر کر بن سلمان کی مطلوبہ وہابیت کی شناخت ممکن ہوجاتی ہے۔ بہت سے مفکرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں تشخص کے سرچشمے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کی رفتار میں حالیہ چند برسوں کے دوران تیزتر ہوچکی ہے اور یہ تبدیلیاں رسمی کیلنڈر، خط، سرزمین وغیرہ جیسے شعبوں میں زیادہ عیاں ہیں۔ (1) سعودی عرب میں وہابی علماء نے دین کی تشریح کا شعبہ اپنے اختیار میں لے رکھا ہے؛ چنانچہ نوجوان نسل کو ایک طرح سے وہابی تشخص کا سامنا ہے اور وہابی تشخص جدید ٹیکنالوجی کے منظر عام پر ‏آنے، عربی اشرافیہ عادات و اطوار کے فروغ اور نئے تشخص کے نمودار ہونے جیسی چیلنجوں کا سامنا کررہا ہے۔
سعودی عرب میں وہابی تشخص کے معرض وجود میں آنے اور ظہور پذیر ہونے کے ساتھ، معاشرتی تشخص کئی عشروں تک بدل گیا اور سعودی معاشرے نے "وہابیت و عربی اشرافیہ" کے دوہرے تشخص کو اپنا لیا۔ وہابی مفتیوں کے متضاد اور غیر معقول (اور عقلیت سے دور) نیز یکطرفہ رویئے جزیرۃ العرب کے عوام نیز بین الاقوامی اداروں کی شدید تنقید پر منتج ہوئے ہیں۔ (2) حالیہ ایک عشرے کے دوران سعودی عرب کے قبائلی اور فرقہ وارانہ جذبات کی بنا پر محمد بن سلمان [کے اندرونی و بیرونی مشیر] بھانپ گئے کہ وہابی تشخص کو ملک کے نوجوانوں کے تشخص کے بنیادی اصول کے طور پر مزید آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ چنانچہ اس نے وہابیت میں تبدیلی لاکر نئے سعودی عرب کے لئے نیا مذہبی تشخص متعارف کرنے کی کوشش کی ہے۔ بن سلمان نے ویژن 2030 نامی پروگرام کا اعلان کرکے سعودی عرب کے لئے نئی اور لچکدار وہابیت متعارف کرانے کو اپنا مطمع نظر بنایا جس کے لئے تین اصول قرار دیئے گئے: "متحرک معاشرہ، پنپتی معیشت، اولوالعزم قوم"۔ (3) (3.1) وہ ان تین اصولوں کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے: اسلام کے اصول اعلی مقاصد کے حصول کی طرف ہمارے محرک ہیں۔ اعتدال پسندی، بردباری، نظم و ضبط، مساوات اور شفافیت ہماری کامیابی کے لئے سنگ بنیاد ہیں۔ (4)
ویژن 2030 کے متن میں مذکورہ ان باتوں کو مد نظر قرار دے کر ہم سعودی عرب کے آرزمندانہ اہداف اور جدیدیت پر مبنی خواہشات کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم ان اہداف کا حصول چنداں آسان بھی نہیں ہے۔ وہابیت کے بہت سے علماء اور دینی مراکز ـ حتی کہ مغربی ممالک کے فکری مراکز ـ "معاشی اصلاحات" کے بھیس میں محمد بن سلمان کا "ثقافتی انقلاب" سمجھتے ہیں۔ (5)
2۔ متشدد وہابیت کو درپیش چیلنجیں اور اسے کمزور کرنے کے لئے بن سلمان کے اقدامات
وہابیت کے مقابلے میں محمد بن سلمان کو درپیش اہم ترین چیلنجیں خواتین، نوجوان اور دینی اقلیتیں ہیں۔ یہ وہ چیلجنیں ہیں جن کا سامنا سعودی عرب کے سابقہ بادشاہوں کو کرنا پڑا ہے اور ہر ایک نے ان تین شعبوں میں اپنے آپ کو مصلح ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی