2017 November 24
محل دفن سر مبارک سید الشہداء، امام حسین ابن علی (ع)
مندرجات: ١٠٥٢ تاریخ اشاعت: ٠٣ October ٢٠١٧ - ١١:٣٧ مشاہدات: 278
یاداشتیں » پبلک
جدید
محل دفن سر مبارک سید الشہداء، امام حسین ابن علی (ع)

عاشورا کے حوادث و واقعات کے بعد سے لے کر اب تک ایک سوال کہ جس نے ہر ذہن کو اپنے ساتھ الجھایا ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ امام حسین (ع) کا مبارک سر کہاں دفن ہوا ہے، اس بارے میں شیعہ اور اہل سنت کی تاریخ کی کتب میں مختلف اقوال کو ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے 6 اہم اقوال کو یہاں پر ذکر کیا جا رہا ہے۔

قول اول:

کربلا میں سر کو بدن مبارک کے ساتھ ملا کر دفن کیا گیا :

یہ قول شیعہ اور اہل سنت کے درمیان مشترک و متفق ہے۔ شیعہ علماء میں سے شيخ صدوق (متوفي 381 ق)، سيد مرتضی (متوفي 436 ق)، فتّال نيشاپوری (متوفي 508 ق)، ابن نما حلی، سيد ابن طاووس (متوفي 664 ق) شيخ بہائی اور علامہ مجلسی نے اس قول کو ذکر کیا ہے۔

مشہور اقوال کی بناء پر امام حسین (ع) کا سر کربلا میں انکے بدن مبارک کے ساتھ ملحق ہو گیا تھا۔

اللهوف على قتلى الطفوف، ص 195

طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری بأعلام الهدی، ج ‏1، ص 477، قم، مؤسسه آل البیت،

مثیر الأحزان، ص 107

مقتل الحسین (ع)، ج ‏2، ص 84

تذکرة الخواص، ص 238

سید ابن طاووس نے کتاب لہوف میں لکھا ہے کہ:

«فَأَمَّا رَأْسُ الْحُسَیْنِ فَرُوِیَ أَنَّهُ أُعِیدَ فَدُفِنَ بِکَرْبَلَاءَ مَعَ جَسَدِهِ الشَّرِیفِ وَ کَانَ عَمَلُ الطَّائِفَةِ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى الْمُشَارِ إِلَیْه»

روایت ہوئی ہے کہ امام حسین (ع) کے سر کو کربلا میں واپس پلٹایا گیا اور بدن مبارک کے ساتھ دفن کیا گیا، اسی قول پر شیعہ امامیہ عمل کرتے ہیں۔

اللهوف على قتلى الطفوف، ص 195

شیخ طبرسى نے کتاب تاج الموالید میں لکھا ہے کہ:

و أمّا رأس الحسین(علیه السّلام) فقال بعض أصحابنا: أنّه ردّ إلى بدنه بکربلاء من الشّام و ضمّ إلیه»

بعض شیعہ علماء نے کہا ہے کہ: امام حسین (ع) کا سر شام سے لایا گیا اور کربلا میں بدن کے ساتھ ملا کر دفن کر دیا گیا۔

طبرسی، فضل بن حسن، تاج الموالید، ص 87، بیروت، دار القاری،

یہی قول فتّال نیشاپوری اور ابن نما حلی کی کتاب میں بھی ذکر ہوا ہے:

فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضة الواعظین و بصیرة المتعظین، ج ‏1، ص 192، قم،

مثیر الأحزان، ص 107

قدیمی کتب میں بھی اسی بات کو واضح بیان کیا گیا ہے کہ امام حسین (ع) کے سر مطہر کو 20 صفر کو کربلا میں بدن مبارک کے ساتھ ملحق کر دیا گیا تھا۔

کتاب الآثار الباقیة ابو ریحان بیرونى (قرن 4-5) نے کہا ہے کہ:

«و فى العشرین، ردّ رأس الحسین الى مجثمه، حتّى دفن مع جثّته؛ و فیه زیارة الاربعین، و هم حرمه بعد انصرافهم من الشام»

ماہ صفر کی 20 تاریخ کو سر حسین کو بدن کے ساتھ ملحق اور اسی جگہ دفن کیا گیا۔

أبو ریحان بیرونی،‏ الآثار الباقیة عن القرون الخالیة، ص 422، تهران، مرکز نشر میراث مکتوب‏،

ابن جوزی (متوفی 654ق‏) نے کتاب تذکرة الخواص میں ذکر کیا ہے کہ:

اشهرها انه رده الى المدینة مع السبایا ثم رد الى الجسد بکربلا فدفن معه‏،

مشہور ترین یہ قول ہے کہ حسین ابن علی (ع) کے سر کو مدینہ سے کربلا لایا گیا تھا اور بدن کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔

تذکرة الخواص، ص 238

زکریا ابن محمد قزوینى (متوفی 682ق) نے کتاب عجائب المخلوقات میں لکھا ہے کہ:

«الیوم الاول منه عید بنى امیه ادخلت فیه رأس الحسین رضى اللّه عنه بدمشق و العشرون منه رُدَّت رأس الحسین الى جثته»

یکم ماہ صفر بنی امیہ کے جشن اور عید کا دن ہے کہ اسی دن امام حسین کے سر کو شہر دمشق میں لایا گیا اور 20 صفر کو کربلا میں سر کو بدن کے ساتھ ملا کر دفن کیا گیا۔

قزوینی، زکریا بن محمد، عجایب المخلوقات و غرایب الموجودات، ص 70، قاهره، مکتبه الثقافه الدینیه،

شيخ صدوق اور انکے بعد فتّال نیشاپوری نے اس بارے میں لکھا ہے کہ: علی ابن حسین (امام سجاد) اہل بیت (ع) کی خواتین کے ساتھ شام سے واپس آئے اور امام حسین (ع) کے سر کو بھی اپنے ساتھ کربلا واپس لے کر آئے۔

شيخ صدوق، الامالي، مجلس سي‌ و يكم، ص 232

فتال نيشابوري، روضة الواعظين، ص‌192

مجلسي، بحار الانوار، ج 45، ص 140

سيد مرتضی نے اس بارے میں کہا ہے کہ: تاریخ نگاروں نے روایت کی ہے کہ امام حسین کا سر کربلا میں انکے بدن کے ساتھ دفن ہوا ہے۔

رسائل المرتضي، ج 3، ص 130

ابن شہر آشوب نے سید مرتضی کے اسی کلام کو نقل کرنے کے بعد، شیخ طوسی کے قول کو بھی نقل کیا ہے کہ:

قال الطوسي رحمة ‌الله: و منه زيارة الاربعين ،

اسی وجہ ( امام کے سر کا بدن کے ساتھ ملحق ہونے) سے دوسرے آئمہ نے امام حسین کی زیارت اربعین پڑھنے کی بہت تاکید کی ہے۔

مناقب آل ابي ‌طالب، ج 4، ص 85

مجلسي، بحار الانوار، ج 44، ص 199

ابن نما حلی نے بھی لکھا ہے کہ: بہت سے اقوال میں سے وہ قول کہ جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ امام حسین کے سر مبارک کو مختلف شہروں میں گھمانے کے بعد، بدن کے ساتھ واپس لا کر دفن کیا گیا ہے۔

نجم الدين محمد بن جعفر بن نما حلي، مثير الاحزان، ص 85

سيد ابن طاووس نے بھی لکھا ہے کہ: روایت کی گئی ہے کہ امام حسین کے سر کو واپس کربلا لایا گیا اور اسکو بدن کے ساتھ دفن کیا گیا اور علماء نے ایسی روایات کو قبول کر کے ان پر عمل کیا ہے۔

سيد ابن طاووس، اللهوف في قتلي الطفوف، ص 114

علامہ مجلسی نے امام حسین (ع) کے چہلم والے دن، امام کی زیارت اربعین پڑھنے کے مستحب ہونے کی ایک وجہ، سر کے بدن کے ساتھ ملحق ہونے کو ذکر کیا ہے کہ یہ کام علی ابن حسین (امام سجاد) کے ذریعے سے انجام پایا تھا۔

مجلسی، بحار الانوار، ج 98، ص 334

علامہ مجلسی نے ایک دوسری جگہ پر اس بارے میں دوسرے اقوال کو نقل کرنے کے بعد، اسی بارے میں لکھا ہے کہ: علمائے امامیہ کے نزدیک یہی مشہور ہے کہ امام حسین کا سر مبارک ان کے بدن کے ساتھ دفن ہوا ہے۔

مجلسی، بحار الانوار، ج 45، ص 145

اہل سنت کے بعض علماء نے بھی اسی قول کو ذکر کیا ہے:

ابو ريحان بيرونی اور دوسرے علماء (متوفي 440 ق) نے اس بارے میں لکھا ہے کہ:

و في العشرين ردّ راس الحسين عليه‌ السلام الي مجثمه حتي دفن مع جثته...

20 صفر کو امام حسین کا سر انکے بدن کے ساتھ ملحق اور دفن ہوا تھا۔

بيروني، الاثار الباقيه عن القرون الخاليه، ص 331

محمد بن احمد مستوفي هروي، ترجمه الفتوح، ص 916

محمدبن احمد قرطبي، التذكرة في امور الموتي و امور الآخرة، ج2، ص 668.

زكريا محمد بن محمود قزويني، عجائب المخلوقات و الحيوانات و غرائب الموجودات، چاپ شده در حاشية حياة الحيوان الکبري، کمال‌الدين دميري، ج1، ص 109.

احمد‌بن عبد الوهاب نويري، نهاية الارب في فنون الادب، ج 20، ص 300.

حمد الله بن ابي بكر بن احمد مستوفي قزويني، تاريخ گزيده، ص 202.

حمد الله بن ابي بكر بن احمد مستوفي قزويني، تاريخ گزيده  ص 265.

غياث الدين بن همام الدين حسيني مشهور به خواندمير، تاريخ حبيب السير في اخبار افراد بشر، ص 60.

محمد عبد الرؤوف مناوي، فيض القدير، ج1، ص 205.

عبد الله بن محمد بن عامر شَبراوي، الإتْحاف بحُبّ الأشراف، تحقيق سامي الغُرَيْري، ص 127.

محمدبن علي صبّان، إسعاف الراغبين في سيرة المصطفي و فضائل اهل بيته الطاهرين، ص 215.

مؤمن‌ بن حسن مؤمن شبلنجي، نور الابصار في مناقب آل بيت النبي المختار، ص 269.

قرطبی (متوفي 671 ق) نے بھی لکھا ہے کہ: شیعہ کہتے ہیں کہ امام حسین کا سر 40 دنوں کے بعد کربلا واپس لایا اور بدن کے ساتھ ملحق کیا گیا تھا اور یہ دن ان (شیعہ) کے نزدیک بہت مشہور ہے اور اس دن جو زیارت پڑھی جاتی ہے، وہ اسکو زیارت اربعین کہتے ہیں۔

محمد بن احمد قرطبي، التذكرة في امور الموتي و امور الاخره، ج 2، ص 668.

زکریا قزوينی نے بھی لکھا ہے کہ:

یکم صفر کو، بنی امیہ کی عید کا دن ہے، کیونکہ اس دن امام حسین کے سر کو شہر دمشق میں لایا گیا اور 20 صفر کو انکا سر واپس بدن کے ساتھ ملحق کیا گیا تھا۔

زكريا محمد بن محمود قزويني، عجائب المخلوقات و الحيوانات و غرائب الموجودات، ص 45.

مناوی (متوفي 1031 ق) نے لکھا ہے کہ: امامیہ یعنی شیعہ کہتے ہیں کہ امام حسین کی شہادت کے 40 دن بعد، انکا سر کربلا میں واپس لایا اور دفن کیا گیا تھا۔

عبد الرووف مناوي، فيض القدير، ج 1، ص 205

سيد مرتضی ( م436ق) نے بھی اس بارے میں لکھا ہے کہ: روایت کی گئی ہے کہ امام حسین (ع) کے سر کو انکے بدن کے ساتھ کربلا میں دفن کیا گیا تھا۔

رسائل المرتضي، ‌ج3، ص130.

قول دوم:

نجف میں امیر المؤمنین علی (ع) کی قبر کے پاس دفن کیا گیا:

ابن قولويه قمي، كامل الزيارات، ص 84؛

كليني، الكافي، ج 4، ص 571- 572

ابوجعفر محمد بن حسن طوسي، تهذيب الاحكام، ج 6، ص 35- 36

ابن شهر آشوب مازندرانی، مناقب آل أبی ‌طالب (ع)، ج ‏4، ص 77، قم، انتشارات علامہ،

مجلسی، محمد باقر، جلاء العیون، ص 748، قم، سرور، چاپ نهم،

ابن حبان تمیمی، محمد بن حبان، الثقات، ج 3، ص 69، حیدر آباد هند، دائرة المعارف العثمانیة،

وسائل الشیعة، ج ‏14، ص 403

عمر ابن طلحہ نے کہا ہے کہ: امام صادق جب حیرہ میں تھے، تو انھوں نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ جو وعدہ (زیارت قبر امام علی) میں نے تمہیں دیا تھا، اس پر میں ابھی عمل کروں ؟ میں نے کہا، کیوں نہیں، پھر میں امام اور انکے بیٹے اسماعیل کے ساتھ سوار ہو کر مقام سویہ سے گزرتے ہوئے، ذکوات کے مقام پر پہنچے اور وہاں پر نماز پڑھی۔

امام صادق (ع) نے اپنے بیٹے اسماعیل سے فرمایا: اٹھو اور اپنے جدّ حسین کو سلام کرو، میں نے امام سے کہا کیا حسین کربلا میں دفن نہیں ہیں ؟ امام صادق (ع) نے فرمایا: کیوں نہیں، اس لیے کہ جب ان (امام حسین) کا سر شام لے جایا گیا تو اسکو ہمارے ایک چاہنے والے نے لے کر امیر المؤمنین علی (ع) کی قبر کے پاس دفن کر دیا تھا۔

کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج ‏4، ص 571، تهران، دار الکتب الإسلامیة،

ابان ابن تغلب کہتا ہے کہ: میں امام صادق کے ساتھ تھا، امام نجف کے صحرا میں آئے اور انھوں نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر تھوڑا سا آگے گئے اور وہاں پر بھی امام نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہو کر تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد اپنی سواری سے نیچے آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر فرمایا کہ: اس جگہ امیر المؤمنین علی (ع) کی قبر ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ نے ان دو جگہوں پر کیوں نماز پڑھی ؟ امام صادق نے فرمایا: وہاں پر امام حسین کے سر کا اور حضرت قائم کے منبر کا مقام ہے۔

کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج ‏4، ص 572

مناقب آل أبی ‌طالب (ع)، ج ‏4، ص 77.

اسی مضمون کی روایت کتاب کامل الزیارات میں بھی ذکر ہوئی ہے۔

ابن قولویه، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، ص 35، نجف، دار المرتضویة،

ابن قولویه، جعفر بن محمد، کامل الزیارات،  36 – 37؛

شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعة، ج ‏14، ص 402 – 403، قم، مؤسسه آل البیت(ع)،

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں شہر نجف میں امام علی (ع) کی قبر کے نزدیک ایک ایسی جگہ تھی کہ جہاں پر امام حسین (ع) کا سر دفن تھا یا وہاں پر امام کا سر رکھا گیا تھا۔

قول سوم:

نہر فرات کے کنارے واقع مسجد رقہ میں:

قول چہارم:

مدینہ منورہ میں:

ابن نما حلی (متوفی 841ق) نے نقل کیا ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ: عمرو ابن سعید نے سر مطہر امام حسین (ع) کو مدینہ میں دفن کیا ہے۔

ابن نما حلی، جعفر بن محمد، مثیر الأحزان، ص 106، قم، مدرسه امام مهدی(عج)،

قبرستان جنت البقیع میں امام حسین کی والدہ گرامی حضرت فاطمہ (س) کی قبر کے پاس۔

خوارزمی‏، موفق بن احمد، مقتل الحسین (ع)، ج ‏2، ص 83، قم، انوار الهدی‏،

شمس الدین باعونى‏، محمد بن احمد، جواهر المطالب فی مناقب الإمام على بن أبى طالب(ع)‏، ج ‏2، ص 299، قم، مجمع إحیاء الثقافة الإسلامیة،

یافعی، عبد الله بن أسعد، مرآة الجنان و عبرة الیقظان فی معرفة ما یعتبر من حوادث الزمان، ص 109، بیروت، دار الکتب العلمیة،

ذهبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام، ج 5، ص 15، المکتبة التوفیقیة،

سبط بن جوزی‏، تذکرة الخواص، ص 239، قم، منشورات الشریف الرضی‏،

شهاب الدین نویری، أحمد بن عبد الوهاب، نهایة الأرب فی فنون الأدب، ج 20، ص 480 – 481، قاهره، دار الکتب و الوثائق القومیة،

قول پنجم:

شہر دمشق میں:

جب منصور ابن جمہور نے شام کو فتح کیا تو شہر میں داخل ہونے کے بعد، وہ یزید کے خزانے والے کمرے میں گیا، وہاں پر اسے سرخ رنگ کی ایک ٹوکری ملی! منصور نے اپنے غلام سے کہا کہ اس ٹوکری کو حفاظت سے رکھو کہ یہ بنی امیہ کے قیمتی خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، لیکن جب اسکو تھوڑے عرصے کے بعد کھولا تو دیکھا کہ اس میں امام حسین کا نورانی سر ہے، جس سے عطر کی خوشبو آ رہی تھی۔ اس نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ ایک کپڑا لائے، اس نے سر کو اس کپڑے سے ڈھانپ دیا اور پھر کفن کرنے کے بعد اس سر کو دمشق میں باب فرادیس کے پاس دفن کر دیا۔

مثیر الأحزان، ص 106 – 107

مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج ‏45، ص 144، بیروت، دار إحیاء التراث العربی،

بعض مؤرخین نے اس داستان کو نقل کیے بغیر، فقط یہی کہا ہے کہ امام حسین کا مبارک سر شہر دمشق میں دفن ہوا ہے۔

بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج ‏3، ص 214، بیروت، دار الفکر،

حسنی شجری جرجانی، یحیی بن حسین، ترتیب الأمالی الخمیسیة، ج 1، ص 231، بیروت، دار الکتب العلمیة،

تذکرة الخواص، ص 239.

قول ششم:

شہر قاہره میں:

سبط ابن جوزي، تذكرة الخواص، ص 265- 266

سيد محسن امين عاملي، اعيان الشيعه، ج 1، ص 626- 627

لواعج الاشجان، ص 247- 250

محمد امين اميني، لواعج الاشجان، ج 6، ص321- 337

مجلسي، بحار الانوار، ج 45، ص 145  

جلاء العيون، ص 407.

سید بن طاووس لهوف ج 2، ص 112

شیخ طوسی نے بھی اسی قول کی تائید کی ہے۔

امام حسین (ع) کا سرِ مبارک کہاں دفن ہوا ہے ؟

سر امام حسین (ع) اور کربلاء کے شہدا ء کے سروں کے مدفن کے بارے شیعہ اور سنی کتب میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے اور جو اقوال اس بارے میں نقل ہوئے ہیں، ان کے حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن سب سے مشہور قول جو شیعہ میں سب علماء نے قبول کیا ہے، وہ یہ ہے امام علیہ السلام کا سر مبارک کچھ مدت کے بعد آپ کے بدن مبارک کے ساتھ ملحق ہو گیا اور کربلا میں لا کر دفن کیا گیا ہے۔ ہم مزید معلومات کے لیے ان سات اقوال کو یہاں پر ذکر کرتے ہیں:

1- کربلا معلّی میں:

یہ نظریہ علمائے شیعہ میں مشہور ہے اور علامہ مجلسی نے اس کی شہرت کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔

بحار الانوار ، ج 45،ص 145

شیخ صدوق نے سر مبارک کے آپ کے بدن کے ملحق ہونے کے بارے میں فاطمہ بنت علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے۔

محمد امین ، امینی ، مع الرکب الحسینی ،ج 6 ، ص  324، منقول از مقتل الخوارزمی ، ج 2 ، ص 75

اب اس کی کیفیت کیا تھی کہ کیسے آپ کا سر مبارک آپ کے بدن سے ملحق ہوا ، اس بارے میں مختلف نظریات ذکر کیے گئے ہیں ۔ بعض جیسے سید ابن طاؤوس اسے امر الٰہی شمار کرتے ہیں کہ خداوند نے خود اپنی قدرت کاملہ سے اعجاز کے طور پر یہ کام انجام دیا اور سید نے اس بارے میں چون و چرا سے بھی منع فرمایا ہے۔

بحار الانوار ،ج 45، ص  145

بعض دوسرے قائل ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام جب شام سے واپس تشریف لائے تو وہ سر امام کو اپنے ساتھ لائے اور کربلا میں اپنے بابا کے بدن کے ساتھ دفن کیا۔

بحار الانوار ج  45،ص  178، منقو ل از کامل الزیارات، ص 34

اصول کافی ج 4 ، ص  571

مع الرکب الحسینی، ج 6 ، ص 325 الی 328

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے چہلم کے روز یا کسی دوسرے روز (کربلا سے) واپسی میں سر مبارک کو کربلا میں آپ (ع) کے جسد اطہر کے پہلو میں دفن کیا۔

 کتاب لہوف،ص 323 ( گو کہ صراحت کے ساتھ امام سجاد علیہ السلام کا نام نہیں لکھا ہے )

شہید قاضی طباطبائی،تحقیق دربارۂ اولین اربعین حضرت سید الشہداؑء ،ج 3، ص 304

اب سوال یہ ہے کہ کیا سر بدن کے ساتھ ملحق ہو گیا یا امام کی ضریح میں یا اس کے نزدیک دفن کیا گیا۔ اس بارے میں کوئی واضح عبارت تو نہیں ملتی، یہاں بھی سید ابن طاؤوس نے چون و چرا سے نہیں فرمائی ہے۔

بحار الانوار ،ج  45، ص 145

بعض قائل ہیں کہ سر مبارک کو تین دن دروازہ دمشق پر آویزاں رکھنے کے بعد اتار کر حکومتی خزانے میں رکھ دیا گیا اور سلیمان عبد الملک کے دور تک یہ سر وہیں تھا۔ اس نے سر مبارک کو وہاں سے نکالا اور کفن دے کر دمشق میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا، اس کے بعد اس کے جانشین عمر ابن عبد العزیز ( سن 99 تا  101 ہجری حکومت) نے سر کو قبر سے نکالا، لیکن پھر اس نے کیا کیا یہ معلو م نہیں ہو سکا ، لیکن ان کی ظاہری شریعت کی پابندی کو دیکھتے ہوئے زیادہ احتمال یہی ہے کہ اس نے سر کو کربلا بھیجا ہو گا۔

بحار الانوار ج 45 ص 178

2- حضر ت علی (ع) کی قبر کے پاس نجف میں:

علامہ مجلسی کی عبارت اور روایات میں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سر مقدس سید الشہداء، نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کی قبر کے پاس دفن ہوا۔

تذکرہ الخواص ، ص 259، منقول از مع الرکب الحسینی، ص 329

روایات میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل کے ہمراہ نجف میں حضرت امیر المومنین علی (ع) پر درود و سلام بھیجنے کے بعد امام حسین (ع) پر سلام بھیجا۔ اس روایت سے بھی پتا چلتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے دور تک سر مقدس نجف اشرف میں مدفون تھا۔

ابن سعد ، طبقات، ج 5 ، ص 112

بعض دوسری روایات بھی اسی نظریہ کی تائید کرتی ہیں، بلکہ بعض شیعہ کتابوں میں تو حضرت علی (ع) کی قبر مطہر کے پاس سر امام حسین (ع) کی زیارت بھی نقل ہوئی ہے۔

مع الرکب الحسینی، ج 6 ، ص 330

سرِ مقدس کو نجف منتقل کرنے کے حوالے سے امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ اہل بیت (ع) کے چاہنے والوں میں سے ایک شخص نے شام سے کسی نہ کسی طریقے سے یہ سر حاصل کیا اور حضرت علی (ع) کی قبر میں لا کر دفن کر دیا۔

مع الرکب الحسینی، ج 6 ، ص 331

لیکن اس نظرئیے پر اشکال یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے دور تک تو حضرت علی (ع) کی قبر مبارک عام لوگوں سے مخفی تھی اور انہیں اس کا پتا نہیں تھا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ دمشق میں سر مقدس کے ایک مدت تک رکھے جانے کے بعد اسے کوفہ ابن زیاد کے پاس بھیج دیا گیا اور اس نے لوگوں کی شورش و بغاوت کے خوف سے حکم دیا کہ سر کو کوفہ سے باہر لے جا کر حضرت علی (ع) کی قبر کے پاس دفن کر دیا جائے۔

مع الرکب الحسینی  ص 334، منقول از تذکرہ الخواص ،ص 265

اس پر بھی وہی اشکال ہے کہ اس وقت تک عام لوگوں سے حضرت علی (ع) کی قبر مخفی تھی۔

3- کوفہ میں:

سبط ابن جوزی نے یہ نظریہ ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ عمرو ابن حریث مخزومی نے سر کو ابن زیاد سے لیا اور پھر اسے غسل و کفن دیا اور خوشبو لگانے کے بعد اپنے گھر میں دفن کر دیا۔

البدایۃ و النہایۃ ،ج 8 ص 205

4- مدینہ میں:

ابن سعد کتاب طبقات کے مصنف نے یہ نظریہ قبول کیا ہے کہ یزید نے سر حاکم مدینہ عمرو ابن سعید کو بھیجا اور اس نے اسے کفن دینے بعد جنت البقیع میں امام حسین (ع) کی والدہ ماجدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر کے پاس دفن کر دیا۔

البدایۃ و النہایۃ ،ج 8 ص 205

بعض دوسرے اہل سنت علماء جیسے خوارزمی نے کتاب مقتل الحسین میں اور ابن عماد جنبلی نے شذرات الذھب میں بھی یہی نظریہ قبول کیا ہے۔

مع الرکب الحسینی، ج 6 ، ص 237

اس نظرئیے پر اہم اشکال یہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر تو معلوم نہیں تھی تو پھر اس کے ساتھ دفن کرنا کیسے ثابت ہوتا ہے۔

5- شام میں:

کہا جا سکتا ہے کہ اکثر اہل سنت کا یہی نظریہ ہے کہ سر مقدس شام میں مدفون ہے اور پھر اس نظرئیے کے قائلین میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اس بارے پانچ نظریات ذکر کیے گئے ہیں :

الف: دروازہ فرادیس کے پاس دفن ہوا بعد میں وہاں مسجد الرائس تعمیر کی گئی۔

ب: جامع اموی کے پاس ایک باغ میں دفن ہے۔

ج: دار الامارہ میں دفن ہے۔

د: دمشق کے ایک قبرستان میں دفن ہے۔

ھ: باب توما کے نزدیک دفن ہے۔

سید محسن امین ، عاملی، لواعج الاشجان فی مقتل الحسین، ص 250

6- رِقّہ میں:

نہر فرات کے کنارے ایک شہر ہے، جس کا نام رِقّہ ہے، اس دور میں آل عثمان میں سے آل ابی محیط کے نام سے مشہور ایک قبیلہ وہاں آباد تھا، یزید نے سر مقدس ان کے پاس بھیجا اور انہوں نے اسے اپنے گھر کے اندر دفن کر دیا ،بعد میں وہ گھر مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

واقعۃ الطف ، ص 197،

طبقات ابن سعد ، ج 5،ص 99

تاریخ طبری، ج 5، ص 418

شیخ مفید، الارشاد، ص 442

7- مصر (قاہرہ) میں:

نقل ہوا ہے کہ فاطمی حکمران جن کی حکومت مصر پر چوتھی صدی ہجری کے دوسرے نصف سے شروع ہوئی اور ساتویں صدی ہجری کے دوسرے نصف تک باقی رہی ، یہ اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے سر امام حسین علیہ السلام کو شام کے باب الفرادیس سے عسقلان منتقل کیا اور پھر عسقلان سے قاہرہ منتقل کیا اور وہاں دفن کر کے 500 سال بعد اس پر تاج الحسین کے نام سے مقبرہ تعمیر کیا۔

البدایۃ و النہایۃ ،ج 8 ص 205

تبریزی نے عسقلان سے قاہرہ کی طرف سر مقدس کے انتقال کی تاریخ 548 ہجری لکھی ہے اور کہا ہے کہ جب سر مقدس عسقلا ن سے نکالا گیا تو دیکھا گیا کہ خون ابھی تک تازہ ہے اور خشک نہیں ہوا اور مشک و عنبر کی خوشبو سر سے پھوٹ رہی تھی۔

البدایۃ و النہایۃ ،ج 8 ص 205

علامہ سید محسن امینی عسقلان سے مصر سر کے انتقال کا قول ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:

سر مقدس کے دفن کی جگہ پر بہت بڑی بارگاہ بنائی گئی ہے اور اس کے پاس ایک بہت بڑی مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ میں نے 1321 ہجری میں وہاں زیارت کی اور وہاں میں نے زائرین کی بڑی تعداد زیارت و گریہ کرتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ فرماتے ہیں کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سر عسقلان سے مصر منتقل ہوا ہے ، لیکن آیا وہ امام حسین علیہ السلام کا سر تھا یا کسی اور کا، اس کے بارے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

البدایۃ و النہایۃ ج 8 ص 334 ، منقول از تذکرہ الخواص ،ص 265

علامہ مجلسی نے بھی بعض مصریوں سے نقل کیا ہے، مصر میں مشہد الکریم کے نام سے بہت بڑی بارگاہ موجود ہے۔

البدایۃ و النہایۃ ج 8 ص  334، منقول از تذکرہ الخواص ،ص 265

خلاصہ:

ان تمام اقوال میں غور و تحقیق کرنے کے بعد واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ، پہلا قول یعنی سر مبارک کا امام حسین کے بدن مبارک کے ساتھ ملحق ہونا، اسی قول کو آئمہ معصومین (ع) نے بیان کیا ہے اور یہی قول شیعہ علماء کے نزدیک مشہور، قابل اعتماد ہے اور خود انہی علماء نے عملی سیرت میں بھی اس قول پر عمل کیا ہے۔ اسی وجہ سے یہی قول قابل اطمینان اور قابل قبول ہے، اور مؤرخین کے اقوال کے مطابق، سر کا بدن کے ساتھ ملنا 20 صفر سن 61 ہجری کو واقع ہوا تھا۔ اور اسی بارے میں مشہور قول یہ ہے، امام زین العابدین (ع) کے ذریعے سے اپنے بابا کا مبارک سر، انکے بدن مبارک کے ساتھ ملحق کیا گیا تھا۔

قول دوم ( دفن سر شہر نجف میں) اگرچہ بعض روایات میں اس بات کا ذکر کیا گیا، اور اسی وجہ سے حرم امیر المؤمنین علی (ع) میں امام حسین (ع) کی زیارت پڑھنے کے بارے میں بھی بہت تاکید کی گئی ہے، کیونکہ اس مضمون کی تمام روایات  شیعہ فقہاء و علماء کے پاس موجود تھیں، لیکن کسی نے بھی عملی طور پر ان روایات پر عمل نہیں کیا، اس لیے کہ ان روایات کی سند بھی مکمل طور پر صحیح و قابل اعتماد نہیں تھی اور ان روایات کے راوی بھی مشہور و معروف نہیں تھے۔ اسکے علاوہ سر کے دفن کرنے کے بارے میں ان تمام روایات کا معنی و مفہوم ایک دوسرے سے الگ الگ ہے، جیسے ان میں سے بعض روایات میں ہے کہ ذکوات کے مقام پر، اور بعض دوسری روایات میں ہے کہ جوف کے مقام پر سر کے دفن کرنے کو بیان کرتی ہیں، اسی طرح ان روایات میں سے بعض جیسے روايت يونس ابن ظَبيان کی امام صادق (ع) سے روایت میں ایک عجیب و غریب بات کو بیان کرنے کے علاوہ، امیر المؤمنین علی (ع) کی قبر کے پاس سر کے دفن ہونے کے بعد، اسی جگہ پر سر کے باقی رہنے پر دلالت نہیں کرتی، بلکہ اس روایت کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سر اس جگہ پر دفن ہونے کے بعد ، کربلا کی طرف لے جایا گیا اور بدن کے ساتھ ملحق ہوا ہے، اسی وجہ سے شیعہ علماء نے صرف سر کے کربلا بدن کے ساتھ ملحق ہونے والے قول کو قبول کیا اور اسی پر اعتماد بھی کیا ہے۔

لہذا اگرچہ قول اوّل کے بارے میں آئمہ معصومین (ع) سے کوئی روایت نقل نہیں ہوئی، لیکن پھر بھی واقعہ کربلا کے بعد سے لے کر اب تک اس قول نے خاصی شہرت پیدا کر لی ہے اور شیعہ علماء نے بھی اسی قول پر اعتماد و عمل کیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہی پہلا قول گذشتہ صدیوں میں شیعہ کے اعتقادی اور تاریخی مسلّم حقائق میں سے تھا، اتنا واضح تھا کہ حتی اس زمانے میں ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کہ اسی قول پر آئمہ معصومین (ع) کے اقوال سے یا معتبر تاریخی حقائق سے تائید لائی جائے۔ اس بناء پر گذشتہ مذکورہ 6 اقوال میں سے پہلا قول معتبر اور قابل قبول ہے۔

البتہ امام حسین (ع) کے سر کے دفن ہونے کے مقام کی اس تحقیق سے چشم پوشی کرتے ہوئے، طول تاریخ میں امام حسین (ع) نے ہر غیرت مند اور با ضمیر انسان کو اپنا عاشق بننے پر مجبور کر دیا ہے، حتی یہ عشق اسلام کی حدود سے بھی خارج ہو گیا ہے اور غیر مسلم بھی اس فداکار شہید کے عاشق نظر آتے ہیں، لہذا یہ زیادہ مہم نہیں ہے کہ امام کا مطہر بدن اور مبارک سر کہاں دفن ہوئے ہوں، وہ بات جو اہم ہے، وہ یہ ہے کہ امام حسین (ع) کی روحانی شخصیت اپنی تمام آسمانی صفات کے ساتھ شیعیان اور محبان کے دلوں میں موجود ہے۔ اسی بارے میں بعض مؤرخین اور دانشمندوں کے اقوال سننے اور پڑھنے کے قابل ہیں:

سبط ابن‌ جوزی نے امام حسین (ع) کے سر کے محل دفن کے بارے میں اقوال کو نقل کرنے کے بعد، لکھا ہے یہ:

بہرحال ان امام کا سر اور بدن جہاں بھی ہوں، انکی یاد اور انکا ذکر ہمیشہ دلوں، ذہنوں میں موجود ہے، جیسا کہ ہمارے اساتذہ نے اس بارے میں اشعار کہے ہیں کہ:

لا تطلبوا المولي حسين بأرض شرق او بغرب

ودَعُوا الجميع و عرّجوا نحوي فمشهده بقلبي،

مولا حسین کو مشرق یا مغرب میں تلاش نہ کرو، اور تمام جگہوں کو چھوڑ کر میرے پاس آؤ کہ انکا حرم و قبر میرے دل میں ہے۔

سبط ابن جوزي، تذکرہ الخواص ، ج2، ص 209

اسی طرح شيخ مہدی فَلوجی حلی(م‌1357‌ق) نے بھی اسی بارے میں اشعار کہے ہیں کہ:

لا تطلبوا رأس الحسين فانه لا في حِمي ثاوٍ و لافي واد

لکنّما صِفْو الولاءِ يدلّکم في انه المقبور وسط فؤادي

سر حسین کو تلاش نہ کرو، کیونکہ وہ کسی حرم اور قبر میں مدفون نہیں ہیں، بلکہ تم لوگوں کو انکی ولایت یہ راہنمائی کرتی ہے کہ حسین میرے دل و جان کی گہرائیوں میں دفن ہیں۔

محمد علي يعقوبي، البابليات، ج 3، القسم الثاني، ص 128

اور اسی طرح اسی دور کے مصری دانشمند عقّاد نے اس بارے میں لکھا ہے کہ:

وہ مبارک و شریف سر جہاں پر بھی دفن ہوا ہو، قابل تعظیم و احترام ہے، حسین اپنی شہادت، شجاعت اور خاندانی شرافت کی وجہ سے ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو ہمیشہ ہر انسان کے سینے میں موجود ہے، چاہے وہ انسان اس قبر سے نزدیک ہو یا دور ہو، کیونکہ حسین کربلا میں ہو، دمشق میں ہو یا کسی بھی دوسری جگہ پر ہو، وہ ایک ہی حقیقت کا نام ہے۔

عباس محمود عقاد، ابو الشهداء، الحسين بن علي(ع)، ص 111. ہاں امام حسین (ع) کی قبر اور انکا نورانی حرم ہمارے دلوں میں ہے، 1400 سال گزرنے کے باوجود بھی آج دلوں پر امام حسین (ع) کی حکومت ہے۔ اسی لیے روحانی سفر میں فاصلوں کو نہیں دیکھا جاتا، یہی وجہ ہے کہ کربلا سے دور یا نزدیک ہونا، یہ اس مظلوم امام کی زیارت کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ہم جب بھی اپنی آنکھوں کو بند کرتے ہیں، تو اپنے اپنے دل موجود اس نورانی حرم و قبر کی زیارت کر لیتے ہیں۔

تاریخ میں ہے کہ کربلا میں موجود ان امام کے ظاہری حرم اور قبر کے نشان تک کو مٹا دیا گیا، لیکن کوئی بھی ستمگر ، ظالم اور غاصب حکمران ، دلوں سے امام حسین (ع) کی محبت کے نشان حتی انکی یاد تک کو نہ مٹا سکا۔ امام حسین (ع) نور خدا ہیں، پھونکوں سے تو نور خدا کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات کو ظالموں اور ستمگروں کی 1400 سو سالہ تاریخ نے ثابت کیا ہے۔ اس لیے کہ نام اور چہرے بدل بدل کر سب امام حسین (ع)  کے نور کو خاموش کرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے  تھے اور اب بھی بنی امیہ کی ناکام اولاد کوششیں کر رہی ہے۔ نام اور چہرے بدلتے رہے ہیں، ورنہ اپنے اپنے زمانے کے سب ہی یزید تھے۔

يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُـوْرَ اللّـٰهِ بِاَفْوَاهِهِـمْۖ وَاللّـٰهُ مُتِمُّ نُـوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ ،

وہ چاہتے ہیں کہ خداوند کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، اور اللہ اپنا نور پورا کر کے ہی رہے گا اگرچہ کافر برا ہی کیوں نہ مانیں۔

سورہ صف آیت 8

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی