2017 October 20
کیا امام باقرع نے اپنے لئے عزاداری برپا کرنے کا حکم دیا تھا ؟
مندرجات: ١٠٤ تاریخ اشاعت: ٠٨ September ٢٠١٦ - ١١:٣٤ مشاہدات: 370
سوال و جواب » شیعہ عقائد
کیا امام باقرع نے اپنے لئے عزاداری برپا کرنے کا حکم دیا تھا ؟

ہاں، یہ روایت شیعوں کی معتبر کتابوں میں صحیح سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے اور بعض بزرگ علماء نے اس کی سند کو صحیح [ معتبر روایت کی سب سے اعلی قسم ] اور بعض نے موثق [ معتبر رواہت کی ایک دوسری قسم ] قرار دیا ہے ۔

روايت کا مضمون یہ ہے کہ امام باقر علیہ السلام نے شھادت سے ہہلے، اپنے فرزند ارجمند امام صادق علیہ السلام سے وصیت کی، کہ دس سال تک مقام منا میں میر ے لئے عزاداری کی جائے، اور اس کے اخراجات کے لئے کچھ رقم معین فرمائی ۔ مرحوم کلینی کی نقل کے مطابق، روایت اور اس کی سند اس طرح ہے:

عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ لِي أَبِي يَا جَعْفَرُ أَوْقِفْ لِي مِنْ مَالِي كَذَا وَ كَذَا لِنَوَادِبَ تَنْدُبُنِي عَشْرَ سِنِينَ بِمِنًي أَيَّامَ مِنًي.

يونس بن يعقوب نے امام صادق عليه السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : میر ے پدر بزرگوار [ امام باقر ع ] نے فرمایا اے جعفر [ صادق ع ]؛ میر ے مال میں سے فلان مقدار میں رقم وقف کردو تاکہ میرے لئے دس سال تک ایام حج کے دوران مقام منا میں، نوحہ خوان افراد عزاداری اور مرثیہ سرائی کریں ۔

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 5 ، ص 117، ح1 ، باب كسب النائحة، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

اس روايت کو شیخ طوسی نے بھی اسی سند اور مضمون کے ساتھ نقل کی ہے دیکھئے حوالہ :

الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ)، تهذيب الأحكام، ج 6، ص 358، تحقيق: السيد حسن الموسوي الخرسان، ناشر: دار الكتب الإسلامية ـ طهران، الطبعة الرابعة، 1365 ش .

شیعہ علماء نے اس روایت کی تصحیح [ صحیح ھونے کی تصدیق ] کی ہے ۔

 یہ روایت، سند کے لحا ظ سے معتبر ہے اور شیعہ علماء نے اس کے اعتبار کی تصدیق و تائید کی ہے اس بنا پر ہم ، ایک ایک راوی اور سند کی چھان بین نہیں کریں گے صرف اس روایت کی سند کے اعتبار کے سلسلے میں شیعہ علماء کے اقوال کو بیان کریں گے۔

۱. علامه حلي (متوفی 726هـ) :

علا مہ حلی، شیعوں کے ممتاز علماء میں سے ہیں انھوں نے اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے وہ فرما تے ہیں :

روي الشيخ في الصحيح عن يونس بن يعقوب عن أبي عبد الله عليه السلام قال قال لي أبي عبد الله صلي الله عليه وآله يا جعفر أوقف لي من مالي كذا وكذا النوادب يندبني عشر سنين مني أيام لنا.

شیخ نے صحیح [ معتبر روایت کی قسم ] روایت میں، يونس بن يعقوب سے انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا :

میر ے پدر بزرگوار نے فرمایا : اے جعفر [ صادق ] ؛ میر ے مال میں سے فلان فلان رقم وقف کردو تا کہ میر ے لئے دس سال تک، ایام حح کے دوران مقام منا میں نوحہ خواں افراد، نوحہ خوانی و مرثیہ سرائی کریں ۔

 الحلي الأسدي، جمال الدين أبو منصور الحسن بن يوسف بن المطهر (متوفاي726هـ)، منتهي المطلب في تحقيق المذهب، ج2، ص1012، تحقيق: قسم الفقه في مجمع البحوث الإسلامية، ناشر: مجمع البحوث الإسلامية - إيران - مشهد، چاپخانه: مؤسسة الطبع والنشر في الآستانة الرضوية المقدسة، چاپ: الأول1412. مجلسي اول (متوفاي1070هـ):

۲۔ مجلسی اول علامه محمد تقي مجلسي (متوفي1070هـ):

[ ان کو مجلسی اول، کھا جاتا ہے ] وہ اپنی کتاب «روضة المتقين» میں صراحت کرتے ہیں کہ یہ روایت، موثق ہے لیکن صحیح [ معتبر روایت کی قسم ] کا درجہ رکھتی ہے :

روي الشيخان في الموثق كالصحيح، عن يونس بن يعقوب، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال لي أبي: يا جعفر أوقف لي من مالي كذا و كذا، لنوادب تندبني عشر سنين بمني أيام مني .

شيخان [ یعنی : کلینی اور شیخ طوسی ] موثق روایت میں کہ جو [ اعتبار کے لحا ظ سے ] صحیح کی طرح ہے یونس بن یعقوب سے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام نے فرما یا ۔ ۔ ۔ ۔

مجلسي، محمدتقي بن مقصودعلي، (متوفاي 1070هـ)، روضة المتقين في شرح من لا يحضره الفقيه (ط - القديمة) ج 6 ؛ ص423، قم، چاپ: دوم، 1406 ق.

۳ . مجلسي دوم ( محمد باقر مجلسی ) (متوفاي 1110هـ) :

علامه محمد باقر مجلسي، بھی اس روایت کی سند کو موثق جانتے ہیں، انھوں نے دو جگہ اس کا ذکر کیا ہے۔ دیکھئے حوالہ:

الحديث السادس و الأربعون و المائة: موثق.

مجلسي، محمد باقر بن محمد تقي، ملاذ الأخيار في فهم تهذيب الأخبار، ج 10 ؛ ص336، قم، چاپ: اول، 1406 ق.

باب كسب النائحة الحديث الأول : موثق.

مجلسي، محمد باقر بن محمد تقي، مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، ج 19 ؛ ص75، تهران، چاپ: دوم، 1404 ق.

۴ . محقق بحراني ( متوفاي 1186هـ ) :

 محقق بحرانی، اس مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے کہ کیا میت پر نوحہ و زاری اور گریہ و بکاء، جایز ہے یا نہیں ؟ وضاحت کرتے ہیں کہ شیعہ علماء کے درمیان مشھور یہ ہے کہ جائز ہے بشرطیکہ گناہ میں پڑ نے کا خوف نہ ہو مثلا جھوٹ بولنا وغیرہ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے دلیل کے طور پر منجملہ اسی روایت کو بیان کرتے ہو ئے آغاز کلام میں کہا ہے کہ یہ روایت، صحیح کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ کہتے ہیں :

 وأما الأخبار فمنها ما دل علي الجواز ومن ذلك ما رواه في الكافي في الصحيح عن يونس بن يعقوب عن الصادق ( عليه السلام ) قال : قال لي أبي يا جعفر أوقف لي من مالي كذا لنوادب تندبني عشر سنين بمني أيام مني.

بعض روایتیں، میت پر نوحہ و گریہ و بکاء کو جائز قرار دیتی ہیں منجملہ ان میں سے وہ روایت ہے کہ جو اصول کافی میں صحیح سند کے ساتھ يونس بن یعقوب سے انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے کہ امام نے فرمایا : ا ے جعفر { صادق } ۔ ۔ ۔ ۔

البحراني، الشيخ يوسف، (متوفاي1186هـ)، الحدائق الناضرة في أحكام العترة الطاهرة، ج4 ، ص 165، ناشر : مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة، طبق برنامه مكتبه اهل البيت.

 اسی کتاب میں ایک اور جگہ پر بیان کر تے ہیں کہ اگر نوحہ و زاری، باطل چیزوں پر مشتمل نہ ہو تو جایز ہے۔ یہاں بھی ان کی دلیل یہی روایت ہے لیکن یہاں پر اس روایت کو موثق قرار دیتے ہیں :

ومنها : ما رواه في الكافي والتهذيب في الموثق عن يونس بن يعقوب ، عن الصادق عليه السلام ، قال : قال لي أبي : يا جعفر ، أوقف لي من مالي كذا وكذا .

ان میں سے ایک دلیل وہ موثق روایت ہے جو کافی اور تہذیب میں یونس بن یعقوب نے امام جعفر صادق علیہ السلا م سے نقل کی ہے کہ امام نے فرمایا : 

میر ے پدر بزرگوار نے فرمایا : میر ے مال میں سے الی آخرہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

البحراني، الشيخ يوسف، الحدائق الناضرة، ج 18، ص136.

۵۔ صاحب جواهر (متوفاي 1266هـ):

صاحب جواهر، بھی اس روایت کو صحیح { معتبر روایت کی اعلی قسم } قرار دیتے ہیں وہ لکھتے ہیں :

وعن الصادق ( عليه السلام ) في الصحيح أنه قال أبي : يا جعفر أوقف لي من مالي كذا وكذا لنوادب تندبني عشر سنين بمني أيام مني.

وقد يستفاد منه استحباب ذلك إذا كان المندوب ذا صفات تستحق النشر ليقتدي بها .

 اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے صحیح روایت میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : میر ے پدر بزرگوار [ امام باقر علیہ السلام ] نے فرمایا : ا ے جعفر ؛ میرے مال میں سے فلاں مقدار رقم وقف کردو تاکہ میر ے لئے دس سال تک، ایام حج کے دوران مقام منا میں عزاداری و نوحہ خوانی کی جائے ۔

 اس روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے لئے عزاداری کرنا مستحب ہے کہ جس میں ایسے پسندیدہ صفات و خصوصیات ہوں جن کا صفات لوگوں تک پہنچنا بہتر ہو تاکہ لوگ ان پر عمل کریں [ اور دنیا و آ خرت میں کامیاب ہوں ] ۔

جواهر الكلام - الشيخ الجواهري - ج 4 ص 366

نتيجه :

روایت کی سند معتبر ہے لہذا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میت کے لئے عزاداری و گریہ و بکاء کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر میت پر گریہ و بکاء، بدعت ہوتا یا جایز نہ ہوتا تو امام ہرگز ایسا حکم نہ دیتے۔

 اختتامی نكات :

پھلا نكته : امام باقر علیہ السلام کی عزاداری کے لئے معین شدہ رقم

مذکورہ روایت میں بیان ہو چکا ہے کہ امام باقر علیہ السلام نے وصیت فرمائی ۔ ۔ ۔ ۔ چنانچہ آپ نے کچھہ رقم آپ کی عزاداری کے لئے مخصوص کردی تھی۔ لیکن دقیق طور پر رقم کی مقدار ذکر نہیں ہے۔ روایت میں صرف لفظ کذا و کذا، استعمال ہوا ہے ۔

لیکن ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ امام علیہ السلام نے ۸۰۰ درھم [ ۸۰ دینار سونے کے برابر ] رقم ، اپنی عزاداری و سوگواری میں خرچ کرنے کی وصیت فرمائی تھی :

[4] عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَي عَنْ حَرِيزٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ أَوْصَي أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَأْتَمِهِ وَ كَانَ يَرَي ذَلِكَ مِنَ السُّنَّةِ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وآله قَالَ اتَّخِذُوا لآِلِ جَعْفَرٍ طَعَاماً فَقَدْ شُغِلُوا.

[ راوی ] حریز وغیرہ سے نقل ہوا ہے کہ امام باقر علیہ السلام، نے اپنی عزاداری پر ۸۰۰ درھم خرچ کر نے کی وصیت فرمائی تھی۔ اور آپ اس کو سنت رسول [ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ] سمجھتے تھے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے [ جناب جعفر طیار، کی شھادت کے بعد ] فرمایا تھا : جعفر طیار کےاھل خانہ کے لئے کھانے کا انتظام کرو کیونکہ وہ { ان کے اہل خانہ  عزاداری و ماتم میں} مشغول ہیں ۔

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج3، ص217، ح4، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

دوسرا نكته : ائمه طاهرين علیہم السلام کے لئےعزاداری کرنا مستحب ہے :

 یہ روایت، ائمہ طاھرین علیہم السلام کی عزاداری کے مستحب ہونے پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اور ان لوگوں کے واسطہ مسکت اور دندان شکن جواب ہے جو محرم وصفر اور دوسر ے ایام میں منعقد ہو نے والی مجالس عزاء سید الشھداء علیہ السلام پر اعتراض کر تے ہیں اور اس کو بدعت بتا تے ہیں ۔

 علامه مجلسي اول، روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

و يدل علي استحبابه، و الظاهر اختصاص ذلك بالأئمة صلوات الله عليهم لوجوه كثيرة (منها) أن لا ينسي المؤمنون إمامهم و يبكوا عليهم لیحصل لهم الأجر العظيم و يسهل عليهم موت الأقارب،و يذكر ظلم المتسمين بالخلافة عليهم، و يظهر كفر من يرضي بفعالهم و غيرها مما لا يحصي.

. مجلسي، محمدتقي بن مقصودعلي، روضة المتقين في شرح من لا يحضره الفقيه (ط - القديمة)، ج 6 ؛ ص423، قم، چاپ: دوم، 1406

یہ روایت، عزاداری و نوحہ خوانی کے مستحب ہونے پر دلالت کر تی ہے۔ اور ائمہ طاھرین علیھم السلام سے مخصوص ہونے کے بہت سی اسباب ہیں ان میں سے منجملہ یہ ہیں :

۱۔ مومنین، اپنے امام کو نہ بھلا ئیں اور ان کی مصیبت پر گریہ و زاری کریں تا کہ خداوند عالم، کی طرف سےعظیم اجر و ثواب کے حقدار قرار پائیں اور اقارب کی موت ان کے لئے آسان ھو { کیو نکہ، ائمہ طاھرین علیھم السلام کی عظیم مصیبت اور شھادت کے سامنے ، اقارب کی موت کا غم ھلکا اور آسان محسوس ہوتا ہے } ۔

۲۔ اہل بیت اطھار علیھم السلام، کے حق اور خلافت کو غصب کرنے والے ظالموں کے ظلم کی یاد دہانی ہوجائے ۔

۳۔ ان لوگو ں کا کفر، ظاھر ہوجائے جو ان ظالموں کے عمل سے راضی ہیں ۔

اور دوسرے بے شمار اسباب اس کے سلسلہ میں موجود ہیں ۔

نیز علامه محمد باقر مجلسي دوم تحریر فرما تے ہیں :

و قال الوالد العلامة قدس سره: لعل ذلك لإبقاء المحبة في قلوبهم و بغض من قتلهم، فإنهما من أصل الإيمان، بخلاف غيرهم كما تقدم.

میر ے والد، علامہ فرما تے تھے : شاید امام کا یہ حکم { عزاداری و نوحہ خوانی } اس لئے ہو تاکہ مومنین کے دلوں میں اھل بیت علیھم السلام کی محبت اور ان کے  قاتلوں اور دشمنوں سے نفرت باقی رہے۔ کیونکہ کسی اور کے حب و بغض کے بر خلاف، اہل بیت علیھم السلام کا حب و بغض، ایمان کی بنیاد ہے [چونکہ غیر اھل بیت ع کا حب و بغض ایمان کی بنیاد نہیں ہے ] ۔

مجلسي، محمد باقر بن محمد تقي، ملاذ الأخيار في فهم تهذيب الأخبار، ج 10 ؛ ص336، قم، چاپ: اول، 1406 ق.

ایک دوسری جگہ پر علامه محمد باقر مجلسي (رحمة الله عليه) اس روایت کو ائمہ اطھار علیھم السلام پر عزاداری و نوحہ خوانی کے مستحب ھو نے کی دلیل قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

و يدل علي رجحان الندبة عليهم و إقامة مأتم لهم، لما فيه من تشييد حبهم و بغض ظالميهم في القلوب، و هما العمدة في الإيمان، و الظاهر اختصاصه بهم عليهم السلام لما ذكرنا.

یہ روایت، اھل بیت اطھار علیھم السلام کے لئے نوحہ خوانی و ماتم و عزاداری کے رجحان پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ : یہ کام [ عزاداری و نوحہ خوانی و ماتم ] مومنین کے دلوں میں اھل بیت علیھم السلام کی محبت، اور ان کے دشمنوں اور قاتلین سے نفرت میں مزید اضافہ کا باعث بنتا ہے اور یہ حب و بغض { اھل بیت علیھم السلام سے محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت } ایمان کی اصل و اساس ہے۔ اور ظاھر یہ ہے کہ عزاداری و ماتم داری اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ہے ۔

مجلسي، محمد باقر بن محمد تقي، مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، ج 19 ؛ ص76، تهران، چاپ: دوم، 1404 ق.

مرحوم صاحب جواهر { شیخ محمد حسن نجفی } بھی روایت کو نقل کر نے کے بعد فر ماتے ہیں :

 وقد يستفاد منه استحباب ذلك إذا كان المندوب ذا صفات تستحق النشر ليقتدي بها.

اس روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ عزاداری و نوحہ خوانی، مستحب ہے اگر مندوب یا میت [ جس کے لئے عزاداری و نوحہ خوانی کی جائے ] ، میں ایسے پسندیدہ خصوصیات و صفات ہوں کہ جو مستحق نشر و اشاعت ہوں تاکہ لوگ ان پر عمل کریں { اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں }۔

محمد حسن، الجواهري، جواهر الكلام ، ج 4، ص 366

اس روایت کے ذیل میں، علامہ امینی [ رحمۃاللہ علیہ ] کا تجزیہ، قابل توجہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

 وفي تعيينه عليه السلام ظرف الندبة من الزمان والمكان لأنهما المجتمع الوحيد لزرافات المسلمين من أدني البلاد وأقاصيها من كل فج عميق ، وليس لهم مجتمع يضاهيه في الكثرة ، دلالة واضحة علي أن الغاية من ذلك إسماع الملأ الديني مآثر الفقيد " فقيد بيت الوحي " ومزاياه ، حتي تنعطف عليه القلوب ، وتحن إليه الأفئدة ، ويكونوا علي أمم من أمره ، وبمقربة من اعتناق مذهبه ، فيحدوهم ذلك بتكرار الندبة في كل سنة إلي الالتحاق به ، والبخوع لحقه ، والقول بإمامته ، والتحلي بمكارم أخلاقه ، والأخذ بتعالميه المنجية ، وعلي هذا الأساس الديني القويم أسست المآتم والمواكب الحسينية ، ليس إلا .

یہ جو امام باقر علیہ السلام اپنی عزاداری کے لے لئے وقت اور جگہ { دس سال تک، ایام حج کے دوران - مقام منا میں } معین فرماتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت اور اس جگہ [ ایام حج اور مقام منا میں ] ، ھر سال قریبی اور دور دراز علاقوں اور ہر قوم و قبیلہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان وہاں جمع ہوتے ہیں اور لوگوں کی تعداد کے لحاظ سے کوئی اجتماع اس کی برابری نہیں کر سکتا ۔ یہ مسئلہ واضح طور پر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا مقصد اس امام کے آثار [ احادیث ، مقام و منزلت ، فضائل و مناقب ] کو دنیا تک پہنچانا ہے اور ان کے فضائل و خصوصیات کو بیان کرنا ہے، وہ امام جس کا تعلق خاندان وحی سے تھا۔ تاکہ دل ان کی طرف متوجہ ہوں، اور ذہن ان کی طرف مائل ہوں ۔ اور جیسے دوسر ے لوگ امام کی پیروی کرتے ہیں یہ [ حج کو آ نے وا لے ] لوگ بھی امام کی پیروی کریں اور ان کے مذھب حق سے قربت حاصل کر یں ۔ لہذا ھر سال عزاداری و ماتم و سوگواری قائم کرکے انہیں دعوت دی جا ئے کہ ان { امام } سے ملحق ہوں ۔ اور ان کے حق { امامت الھی } کا اعتراف کریں اور ان کی امامت و رہبری کا عقیدہ رکھیں ان کے مکارم اخلاق سے آراستہ ہوں اور ان کی نجات بخش تعالیم پر عمل کریں- فقط انھیں دینی اقدار پر عزاداری ا ور حسینی ماتمی دستوں کی تاسیس ہوئی ہے ۔

 الغدير - الشيخ الأميني - ج 2 ص 21

نتیجہ :

امام باقر علیہ السلام کی وصیت کہ : [ میری شھادت کے بعد ] میر ے لئے ایام حج کے دوران دس سال تک مقام منا میں عزاداری و نوحہ خوانی کرنا - اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اہل بیت علیھم السلام کو پہچانیں - اھل بیت علیھم السلام کے علوم و معارف نشر ہو ں - اہل عالم، اہل بیت رسول علیہم السلام سے قریب ہوں { تاکہ دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ھو } - اور لوگوں کی ہدایت و رانمائی ہو ۔

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی