2017 November 24
کیا پاکستان میں اب عزاداری نواسہ رسول برپا کرنے کیلئے اجازت لینی پڑیگی ؟
مندرجات: ١٠٣٣ تاریخ اشاعت: ٢١ September ٢٠١٧ - ١٧:٣٦ مشاہدات: 49
خبریں » پبلک
کیا پاکستان میں اب عزاداری نواسہ رسول برپا کرنے کیلئے اجازت لینی پڑیگی ؟

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما کا اس بیان کیساتھ کہ محرم سے قبل ایک منظم منصوبے کے تحت عزاداروں کو ہراساں کرنے کا عمل جاری ہے جبکہ کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو کھلے عام سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہے، کہا: "چاردیواری کے اندر مجالس عزاء پر کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔"

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے رہنما علامہ مبشر حسن نے کہا ہے کہ عزاداری امام حسین ؑ کے راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو ہم ملت جعفریہ کی توہین سمجھتے ہیں اور اس قسم کے سازشوں کو ہم آئینی قانونی اور جمہوری جدوجہد سے شکست دینگے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایک دفعہ پھر محرم سے قبل ایک منظم منصوبے کے تحت عزاداروں کو ہراساں کرنے کا عمل جاری ہوا ہے، سندھ سمیت پاکستان بھر کے جیلوں میں مکتب تشیع سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو محرم الحرام میں ان کے مذہبی دینی عبادت سے روکا جا رہا ہے، جبکہ کراچی سمیت پاکستان بھر میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو کھلے عام سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہے، جو کہ نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں اڑانے مترادف ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے محرم الحرام سے قبل کراچی کے مختلف اضلاع میں دورہ جات کے دوران مختلف امام بارگاہوں اور مساجد کے ٹرسٹیز، انجمنوں، اداروں کے رہنماوں کے ساتھ ملاقاتوں کے موقع پر کیا۔

علامہ مبشر حسن نے کہا کہ ہم حکمرانوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ محب وطن ملت تشیع کے ساتھ ایسے سلوک کا مقصد اور ہدف کیا ہے؟ ان کو یہ احکامات کہاں سے ملتے ہیں؟ ہم مادرِوطن میں منافرت پھیلانے والوں سے بخوبی واقف ہیں، پاکستان کے شیعہ سنی متحد ہیں اور چند مٹھی بھر انتہا پسند سوچ کے حامل لوگ جن کے سبب آج ہم دنیا بھر میں مسائل و مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کی خوشنودی کیلئے پرامن محب وطن ملت تشیع کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عزاداری نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ ہماری شہ رگ حیات ہے، کراچی سمیت ملک بھر میں کسی بھی حصے میں عزاداری کو محدود کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔

سندھ کے مختلف اضلاع میں ہماری اطلاعات کے مطابق متعصب انتظامیہ عزاداروں اور بانیان مجالس کیخلاف بلا جواز کارروائیوں میں مصروف ہیں، ہم انتظامیہ اور حکومت وقت کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ عزاداری امام حسین ؑ ہمارا آئینی و قانونی حق ہے اور ہم اپنے اس آئینی حق پر قدغن لگانے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے، چاردیواری کے اندر مجالس عزاء پر کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، ہم بانیان پاکستان کے وارث ہیں، ہمارے ساتھ مقبوضہ کشمیر والوں جیسا سلوک سے انتظامیہ باز رہے۔

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے آغاز میں دو دن رہ گئے ہیں، سندھ حکومت اور شہری انتظامیہ کو بارہا متوجہ کرانے کے باوجود بلدیاتی و سیکیورٹی مسائل کے حل کیلئے کوششیں انتہائی سست روی کا شکار ہیں، شہر بھر میں جلوس عزا کی گزر گاہوں اور امام بارگاہوں و مساجد کے اطراف کچرے اور سیوریج کے پانی کی موجودگی تاحال برقرار ہے، روٹس پر استرکاری کا کام تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے ساتھ ساتھ کراچی سمیت سندھ بھر میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں، لیکن امن و امان کے دعووں میں مصروف صوبائی حکومت بلدیاتی و سیکیورٹی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ نظر نہیں آتی۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں بلدیاتی و سیکیورٹی مسائل کو حل کرائیں، عزاداری امام حسین ؑ کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور عزاداروں کو ہراساں کرنے کی سازشوں کا نوٹس لیکر حکومت اور انتظامیہ میں کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی فی الفور کریں۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی