2017 November 24
مجلس امام حسین ہر جگہ برپا کریں، سید حسن نصراللہ کا شیعوں کو پیغام
مندرجات: ١٠٣١ تاریخ اشاعت: ٢١ September ٢٠١٧ - ١٧:٢٦ مشاہدات: 61
خبریں » پبلک
مجلس امام حسین ہر جگہ برپا کریں، سید حسن نصراللہ کا شیعوں کو پیغام

*محرم الحرام 1439 کے موقع پر
سید حسن نصر اللہ کا
ملت تشیع کےنام اہم پیغام*

(اگر چہ ظاہرا یہ پیغام لبنان کے غیور شیعہ کے نام ہے لیکن یہ ہر علاقے کے شیعوں کیلیے یکساں مفید ہے۔ ضرور مطالعہ کریں)

حمد خداوندی اور محمد و آل محمد پہ درود اور سید الشہداء اور انکے آل و اصحاب پر سلام بھیجنے کے بعد اپنی گفتگو کو شروع کیا
سید نے اپنی اس گفتگو کوبنیادی طور پر 4 حصوں میں تقسیم کیا ہے

1 *مقدمہ*
2 *مراسم عزاداری*
3 *موضوع گفتگو*
4 *حالات حاضرہ*

⭕ *مقدمہ*

مقدمہ میں سید مقاومت نے چار اہم نکات کی طرف اشارہ کیا ہے
? اس بات کی طرف متوجہ رہیں کہ یہ الہی و نبوی عظیم مناسبت(محرم وعاشورا) ھمیشہ سے اھل بیت علیہم السلام اور امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کی عنایت خاص کا مرکز رہی ہے
?اس عظیم مناسبت اوران ایام میں امام علیہ السلام پر گریہ کے ذریعے سے ھم روحانی اور معنوی فرصت کے طور پر بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ جس طرح لوگ عشق ومحبت اور گریہ ان ایام مین کرتے ہیں اس طرح تو حتی ماہ رمضان المبارک اور شب ھای قدر کو بھی دیکھنے کو نہیں ملتا لہذا اسی استثنائی گریہ اور عشق کی وجہ سے گناہوں کی مغفرت کے ساتھ ساتھ مومنین کے دلوں میں ایسی چنگاری روشن کی جا سکتی ہے کہ جو کبھی نہ بجھ سکے
لہذا جب ھمارے آنسو آنکھوں سے جاری ہوں تو ھمیں مکمل یقین ہو کہ بیشک اس دنیامیں امام حسین علیہ السلام سے بڑھ کر خدا کی رحمت واسعہ اور کوئی نہیں
?تبلیغ دین اسلام کیلیے اس سے بہترین موقع اور کوئی نہیں کیونکہ ان ایام میں امن و امان کی صورتحال جتنی بھی خراب ہو مگر ہردل غم حسین سے پر ہوتا ہے لہذا زیادہ سے زیادہ تبلیغی فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے
?یہی وہ مناسبت ہے جو ھمیں سخت سے سخت چیلنجز اور خطرات کے مقابلے میں حوصلہ ھمت اور طاقت عطا کرتی ہے
لہذا ان ایام میں اس عظیم قربانی کےمختلف پہلو جیسےخداسے تعلق جوڑنا،تقوی الہی شجاعت ،کرامت وعزت جیسے موضوعات کے بیان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے

⭕ *مراسم عزاداری*

1۔کوئی ایسا شہر،گاؤں،محلہ دیہات اور آبادی نہ ہو جس میں ان ایام میں مجالس امام حسین علیہ السلام کا انعقاد نہ ہو زیادہ سے زیادہ ایسی محافل کے انعقاد کی کوشش کی جائے

2۔بہتر ہے مجالس کیلیے مساجد اور امام بارگاہ کا انتخاب کیا جائے تاکہ ان مقامات سے اسی بہانے لوگ زیادہ مربوط ہو سکیں

3۔انٹر نیٹ اور ٹی وی پر مجالس سننے پر اکتفا کرنے کی بجائے جسمانی طور پر اپنی شرکت کو یقینی بنائیں

4۔ ان ایام میں منعقد ہونیوالی مجالس نظم وضبط،صفائی اور بہترین آواز سپیکر وغیرہ سے مکمل طور پر آراستہ ہونی چاہئیں

5۔پروگرامز بروقت برقرار کریں اور تاخیر مت کریں

6۔مجالس کے تمام شرکاء غم وحزن کی منہ بولتی تصاویر ہوں سیاہ لباس،سیاہ بینرز سیاہ پینا فلیکس اور مجلس کے آغاز سے لے کر اختتام تک اس فضا کو قائم رکھا جائے

7۔ذکر امام میں پڑھے جانے والے اشعار،قصائد اور مرثیہ جات سادہ فصیح اور واضح لہجہ میں ہونے چاہیے

8۔مختلف قسم کے ماحول اور فضا میں باقی شرکاء کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے

⭕ *خطباء کیلیے موضوع گفتگو*

1۔موضوع گفتگو مکمل طور پر ایک دینی موضوع ہونا چاہیے اور سیاسی مسائل کے بیان سے اجتناب کریں

2۔روز مرہ کے مبتلا بہ مسائل اور اپنے علاقائی ماحول کے مطابق اہمیت کے حامل مسائل کو عام سادہ فہم اسلوب کے ساتھ ترجیحی بنیاد پر بیان کریں اور فلسفی و فقہی اصطلاحات کے استعمال سے گریز کریں

3۔جیسا کہ ھماری نئی نسل امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور اس تحریک کی تفصیلات سے زیادہ واقف نہین لہذا اس بات کو کھل کر تفصیلات سے بیان کریں

4۔امام حسین علیہ السلام کی سیرت میں مؤثر اور عبرت آموز پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی بہت ضرورت ہے اور ایسی ابحاث سے مکمل پرھیز کریں جن کا کوئی عملی فائدہ نہیں
مثلا امام کے اصحاب کی تعداد کے متعلق بحث کرنا
جبکہ اس کے مقابلے میں بیعت جناب مسلم اور پھر اس بیعت شکنی کے اسباب پر بحث کرنا یہ واقعا ایک فائدہ مند بحث ہے

5۔ھمارے دینی مراکز حوزات علمیہ اورتحقیقی اداروں کی تحقیقات سے بعض ایسے مسائل واضح ہوئے ہیں کہ جو غلط ہونے کے باوجود رائج مجالس میں مسلمات سمجھے جاتے ہیں ان میں سے جو حق اور حقیقت ہے صرف اسے بیان کریں اور فضا کو دیکتھے ہوئے کسی کے قیل و قال کی پرواہ مت کریں اور کھل کر حق بیان کریں تاکہ وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ غلط باتیں ختم ہوں اور انکی جگہ صحیح باتیں لے سکیں
جیسے حضرت قاسم بن حسن ع کی شادی کا قصہ

6۔سیرت امام کے نقل کرنے میں مبالغہ آرائی سے اجتناب کریں

7۔کیونکہ محرم کی مجالس کے سامعین کا معیار سماعت مختلف ہوتا ہے لہذا علم کلام کی دقیق ابحاث کے بیان سے پرہیز کریں

8۔زبان حال وغیرہ کو معصوم سے منسوب ہرگز نہ کریں کیونکہ پہلے بھی بہت ساری عجیب باتیں اس طرح معصومین کی طرف منسوب کی گئی ہیں

9۔آپ کی گفتگو مکمل طور پر مربوط ہونی چاہیے اور ایسا نہ ہو کہ ایک بات دوسری بات کی نفی کر رہی ہوں جیسا کہ شب عاشور امام اپنی بہن کو چہرہ پیٹنے اور پیشانی کے زخمی کرنے سے منع فرما رہے ہوں اور عاشور کے بعد پھر اسی منع کی گئی بات کو بی بی سے منسوب کر کے پڑھنا

10 آپ کا معیار زیادہ مصائب پڑھنا اور زیادہ گریہ نہیں بلکہ مؤثر مصائب اورحقیقت پر مبنی اوراسی طرح موثر گریہ ہونا چاہیے

11۔کسی بھی مسئلے کے ایک ہی پہلو کو اتنا مت بیان کریں کہ جس سے باقی پہلو پس پشت چلے جایئں
مثال کے طور پر اگر سیرت سید الشہداء میں سے ظلم کے خلاف ٹکرانے اور دلیرانہ پہلو فقط بیان کیا جائے اور باقی پہلو بیان نہ کیے جائیں تو اس سے ممکنہ نقصان یہ ہوگاکہ عام لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ کیا باقی آئمہ علیہم السلام ظلم سے ٹکرانے سے گھبراتے تھے اور کیا وہ دلیر و شجاع نہ تھے؟؟بلکہ اس پہلو کے ساتھ باقی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالنا ضروری ہے
مزید برآں امام کی ذات کربلا میں تکلیف الہی پر عمل پیرا ہونے کی پابند تھی (رضا اللہ رضانا)

12۔سب سے اہم بات ماضی کے ان عظیم حوادث کے ساتھ حالات حاضرہ کا مقارنہ مدلل انداز میں پیش کریں جیسے امام کو مدینہ سے خروج کیلیے ایک رات کی مہلت دینے والوں کو واقعہ حرہ کا سامنا کرنا پڑا

⭕ *حالات حاضرہ*

ہر ایک کو اس بات کا یقین محکم ہونا چاہیے کہ ھمارا اختیار کیا گیاراستہ بالکل درست ہے
ھمارے بعض بزرگان ھماری شام کی جنگ میں شرکت اور شہداء کے متعلق شک و تردید کا شکار تھے اور بعض نے تو ھم پر بعثی نظام کے مدافع ہونے تک کی تہمت بھی لگائی۔لیکن یہ لوگ بے بصیرت تھے اور ھم نے اسی وقت بتا دیا تھا کہ اگر دیرالزور پر داعش کا قبضہ ہو گیا تو عراق بھی داعش کے قبضے میں چلا جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے عراق کے دوتہائی حصے پر داعش نےقبضہ کر لیا
کربلا سے فقط 20 کلومیٹر بغداد سے 40 اور سامرا میں حرم امامین عسکریین ع کے حرم سے فقط 200 میٹر کے فاصلے پر داعش پہنچ چکی تھی
شام بحران کے اوائل میں ہی ھم نے اپنی شورای عالی کے مرکزی اجلاس میں اس خطرہ کو بھانپ لیا تھا کہ یہ بحران اصل میں فلسطینی مزاحمت کے خاتمے اورلبنانی مقاومت کو کچلنے کیلئےامریکی،اسرائیلی،سعودیو قطری پلان ہے لہذا ھم نے فیصلہ کیا کہ اس جنگ میں ھمیں براہ راست شرکت کرنی چاہیے۔
ظاہر اس مہم کیلیے ھمیں شرعی اجازت اور اذن کی ضرورت تھی لہذا شورای کے ممبران نے یہ ذمہ داری بھی مجھے سونپی کہ آپ اس کام کو خود انجام دیں۔لہذا اسی سلسلے میں میں 2011 میں رہبر معظم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انکو اپنی اس تازہ حکمت عملی سے آگاہ کیا۔کہ اگرھم آج دمشق میں نہ لڑے تو کل ھم یہی جنگ داعش کے ساتھ لبنانی علاقے الهرمل،بعلبك وغیرہ میں لڑنا پڑے گی لہذا اس بات کی خاطر حضرت عالی سے باقاعدہ اجازت لینے کیلئے حاضر ہوا ہوں۔
*رھبرمعظم نے نہ فقط ھماری پالیسی سے اتفاق کرتے ہوئے اجازت مرحمت فرمائی بلکہ اس خطرناک پلان کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس سارے کھیل کا اصل ھدف اسلامی جمہوریہ ایران ہے اور اس جنگ میں اگر ھم بھی شریک نہ ہوئے تو ھمیں بھی کرمان،خوزستان اور تہران میں یہ جنگ لڑنا پڑے گی*
اسے کہتے ہیں شعور،بصیرت اور آگاہی
اس شامی بحران کے ڈیڑھ یا دوسال بعد شام کے صدر بشار الاسد سے سعودی عرب نے کہا کہ اگر آپ کل صبح پریس کانفرنس میں ایران اور حزب اللہ سے قطع تعلقی کا اعلان کر دیں تو یہ بحران ادھر ہی ختم ہو جائے گا
یہ ایک حقیقت ہے کہ شام کی جنگ میں ھم اپنا شرعی وظیفہ سمجھتے ہوئے شریک ہوئے ہیں
رہبر معظم نے مجھے بتایا تھا کہ اس جنگ کے مختلف محور ہیں جن میں ایران لبنان اور شام سرفہرست ہیں اور اس موجودہ جنگ کے محور کا قائد بشار الاسد ہے ھمارے لیے ضروری ہے کہ ایسا کام کریں کہ بشار الاسد اس جنگ میں کامیاب ہو جائے۔ اور انشاءاللہ ہو جائے گا
چونکہ رہبر معظم کے ساتھ ھمارے ایسے بہت سارے معاملات تجربات کی شکل میں تھے
لہذا میں اس ملاقات کے بعد جب لبنان واپس پہنچا تو شورای عالی کی میٹنگ میں آخری نکتہ کے علاوہ سب کچھ بیان کر دیا وہ بھی اس خوف سے کہیں کہ ساتھیوں پہ یہ بات گراں نہ گزرے
لیکن ایک ہی ھفتے کے اندر اندرمیں نے سمجھ لیا کہ یہ غلط کیا اور خود سے کہا
《 *ائے کمزور ایمان والے تجھے اسرائیل کے ساتھ 33 روزہ جنگ بھول گئی کہ جب کسی بھی طرف سے کامیابی کے امکانات نہیں تھے اور اس وقت اس عظیم رہبر نے اپنے قاصد کے ذریعے مجھے خط لکھا جس میں فرمایا
تمہیں صبر سے کام لینا ہو گا۔یہ معرکہ جنگ احزاب کی طرح ہے (وتظنون بالله الظنون)۔۔۔۔
لیکن تم(حزب اللہ)اس جنگ میں یقینا کامیاب ہو گے اور علاقے کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھرو گے مین نے اس قاصد سے مزاحیہ انداز میں کہا حاجی فی الحال تو یہ جنگ ختم ہو اور ھم اپنا وجود بچا سکیں یہی بڑی بات ہے علاقائی عسکری طاقت کی ضرورت نہیں ۔ ان ساری باتوں کی یاد آوری کے بعد شورای عالی کے آئندہ اجلاس میں میں نے رہبر معظم کا مکمل پیغام سنا دیا》

اسی لیے قصیر کی فتح پہ مجھے رہبر یاد آئے
دمشق میں ملنے والی فتح پہ رھبر یاد آئے
اور کل جب دیر الزور میں فتح کے آثار نظر آئے تو ایک ہی رہبر معظم کی عظیم شخصیت میری نظروں میں گزری
*یہ ہے ھمارا رہبر* ۔
*یہ ہے ھمارا قائد*۔
*یہ ہے ھمارا راہنما*۔
وہ خوابوں اور مکاشفوں سے بیان نہیں کرتا
*بیشک ھمارا رہبر حکیم ترین انسان ہے اور بیشک اس کی زبان پہ خدا کلام جاری کرتا ہے*
جوکچھ شام کے بحران کے نام پر ہوا ہے یہ اسرائیل کے ساتھ 33 روزہ جنگ سے زیادہ خطرناک تھا

یہ ہےوہ مقدس جنگ اور معرکہ کہ جس کے متعلق ضروری ہے ھم محرم الحرام میں اپنے سامعین کو آگاہ کریں اور اس جنگ میں لڑنے والے ان عظیم مجاہدین کا تعارف کرائیں اور انکا شکریہ ادا کریں کہ یہی وہ لوگ تھے جو یا لیتنا کنا معکم کی منہ بولتی تصویر بن کر اس معرکہ میں کود پڑے اس کے علاوہ اور کونسی چیز ہے جو ایک جوان کو حلب اور دیرالزورجیسے محاصرے میں کھینچ کر لے آئے۔

یہ ھمارے پاس زمانہ حال کی واضح ترین مثال ہے ھم سمجھ سکیں کہ ھمارے پاس اس وقت جو کچھ ہے وہ بصیرت حسینی کا صدقہ ہے مین ان لوگوں(مجاھدین)کے ھاتھوں اور قدموں کو بوسہ دیتا ہوں
*ھم آج بصیرت کی دولت سے مالا مال ہیں اور اسی کی بدولت نہ فقط لبنان اور جبل عامل بلکہ پورے خطے اور علاقے کی تاریخ رقم کر رہے ہیں*





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی