2017 August 23
کیا امام باقر ع کی یہ روایت کہ جس میں آپ نے فرمایا : « قد حلي أبوبكر الصديق سيفه » صحیح ہے ؟
مندرجات: ١٠٣ تاریخ اشاعت: ٠٨ September ٢٠١٦ - ١١:٣٤ مشاہدات: 301
سوال و جواب » شیعہ عقائد
کیا امام باقر ع کی یہ روایت کہ جس میں آپ نے فرمایا : « قد حلي أبوبكر الصديق سيفه » صحیح ہے ؟

 

سوال کی وضاحت :

کیا امام باقر ع کی یہ روایت کہ جس میں آپ نے فرمایا : « قد حلي أبوبكر الصديق سيفه » [ اس میں امام نے ابو بکر کو صدیق کہا ہے ] صحیح ہے ؟

و عن الإمام الخامس محمد بن علي بن الحسين الباقر ، عن عروة بن عبدالله قال : سالت أبا جعفر محمد بن علي (ع) عن حلية السيف ؟ فقال : لا بأس به ، قد حلي أبوبكر الصديق سيفه ، قال : قلت : و تقول الصديق ؟ فوثب وثبة ، و استقبل القبلة ، فقال : نعم الصديق ، فمن لم يقل الصديق فلا صدق الله له قولاً في الدنيا و الآخرة .

كشف الغمة للاربلي : 2/147 .

جواب :

اولاً تو اس روایت کو، مرحوم اربلی نے اہل سنت کی کتابوں سے نقل کیا ہے اور شیعوں کی کسی کتاب میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی لہذا ہماری نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔

دوم : اس روایت کی سند میں کہ جو کتاب سیر اعلام النبلاء میں آئی ہے، محمد بن علی بن جیش کا نام آیا ہے کہ جو مجھول [ نا معلوم و نا شناختہ ] شخص ہے اور علم رجال کے موضوع پر اھل سنت کی کسی کتاب میں اس کا نام ذکر نہیں ہوا ہے [ تو کیسے معتبر ھوگی ]۔

سوم : بالفرض اس حدیث کو صحیح مان بھی لیں تو  مسئلہ یہ ہے کہ یہ حدیث بنی امیہ کے دور کی ہے  [ جو شیعوں کے لئے سخت پریشانیوں اور مصیبتوں کا دور تھا } اگر اس زمانے کےحالات کو بخوبی سمجھہ لیا جائے تو مسئلہ کا حل نکل آئَے گا ۔ 

بنی امیہ، اور اسکے بعد بنی عباس نے شیعوں کے خلاف اس حد تک ظلم و ستم روا کررکھا تھا یہاں تک انھوں نے حکم دے رکھا تھا کہ جس کا نام بھی علی ہو اس کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ بہت سے علمائے اھل سنت نے اس دور کے حالات کو  ان الفاظ میں میں بیان کیا ہے :

كانت بنو أمية إذا سمعوا بمولود اسمه علي قتلوه .

بني اميه اگر سن لیتے تھے کہ کسی بچے کا نام علی ہے تو اس کو قتل کر دیتے تھے ۔

تهذيب التهذيب - ابن حجر - ج 7 - ص 281 و سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج 5 - ص 102 و تهذيب الكمال - المزي - ج 20 - ص 429 و تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 41 - ص 481 و ... .

ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ظاہر ہے کہ اس قسم کی روایتیں تقیہ اور شیعوں کی جان کی حفاظت کی خاطر بیان ہوئی ہوں گی۔ خاص طو ر پر جب اس کا راوی، عروة بن عبد الله جیسا شخص ہو کہ جو اہل بیت کا سخت دشمن، اور بنی امیہ کا طرفدار اور حامی تھا ۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی