2017 November 24
کا لعد م تنظیمیں نئے ناموں سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، سینٹ
مندرجات: ١٠٢٩ تاریخ اشاعت: ٢٠ September ٢٠١٧ - ١٧:٤٠ مشاہدات: 40
خبریں » پبلک
کا لعد م تنظیمیں نئے ناموں سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، سینٹ

شیعیت نیوز: سینیٹ میں سینٹر فرحت اللہ کی جانب سے جاری تحریک کہ یہ ایوان عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے متبادل بیانیہ پر بحث کرے۔ بحث کاآغازکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نظریات کی جنگ ہے۔ ذہنو ں کے خلاف یہ جنگ ہے۔ ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ ہم نے اسلحہ کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف مقابلہ کیاہے اس حوالے سے چار مختلف پہلوئوں سے جنگ لڑرہے ہیں، ہم نے بیانیہ کی جانب توجہ نہیں دی جن چیزوں سے دہشت گردی پروان چڑھی وہ دور کرناہوگی۔ سینٹر ڈاکٹر جمال دینی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے آنے سے پہلے ہی اس حوالے سے کام شروع نہیں ہوا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بجائے ذہن بدلنے کی ضرورت ہے۔ کا لعد م تنظیمیں نئے ناموں سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ سنیٹرمیاں عتیق شیخ نے کہا کہ جب نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا توآل پارٹیزکانفرنس میں 20نکات تیار کیے گئے ان میں سے کتنے نکات پر عمل ہوا؟ فوج نے اپنی ذمہ داری پوری کی،تمام نکات پر عمل کرناصرف فوج ہی کی ذمہ داری نہیں حکمران کہاں ہیں؟ وہ بھی ذمہ داری دکھائیں۔ سنیٹرمولانا ساجد میر نے کہا کہ کچھ علماء نے قومی بیانیہ تیار کیاتھا، بنیادی طور پر یہ کام علماء کاہے۔ سینٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم اس ملک کو کس جانب لیجاناچاہتے ہیں۔
ہم لوگ علامہ اقبال تک جاکر رک جاتے ہیں ہمیں ثقافت، کھیل ،لیٹریچر، ٹیچنگ، شاعری سب پہلوئوں کی جانب دیکھناہوگا۔ آرٹ اورکلچرل کو فوقیت دیناہوگی۔ سنیٹرجاوید عباسی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی میں کمی آئی ہے۔ ایک بیانہ ہم نہیں بناسکے۔ بڑی یونیورسٹیوں کے لڑکے ان کاموں میں ملوث ہوگئے ہیں ایسابیانیہ ہوناچاہیے جس میں سب متفق ہوں۔ سنیٹر تاج حیدر نے کہا کہ معاملہ صرف سکیورٹی تک محدودنہیں یہ جنگ نظریات کی جنگ ہے۔ سنیٹرسحر کامران نے کہا کہ امریکہ نے دہشت گردی کا لفظ استعمال کیا ہم نے اس کو اپنے ساتھ لگالیا۔ پاکستان کے کتنے فیصد لوگ دہشت گردی کررہے ہیں۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ لفظ ہمارا ہی نہیں ہے ہمارا تو امن و سلامتی کا دین ہے۔سنیٹرتنویرالحق نے کہا کہ سارانزلہ علماء اور مدارس پر ڈالاگیا۔ اب جو لہرچلی ہے وہ کالجز اوریونیورسٹیز کا نام آگیاہے۔ حکومت اپنی رٹ مضبوط کرے۔ سنیٹرکرنل(ر) طاہر مشہدی ، سنیٹر شیری رحمان ، سنیٹرعثمان کاکڑ نے کہا کہ دہشت گردی کو مسلط کرنے میں ضیاء اور مشرف ذمہ دارہیں، تعلیمی اداروں کے طلباء اور اساتذہ اس وبا کا شکار ہوچکے ہیں، تعلیمی کورسز میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ایوان بالا میں پیر کوسینیٹر سراج الحق کی جانب سے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860ء میں مزید ترمیم کا بل تعزیرات پاکستان(ترمیمی بل ، دفعات 293,294 اور 292 میں ترمیم) پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی تحریک کو ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفورحیدری نے دوبارہ غوروخوض کیلئے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے حوالے کردیا جس پر کسی رکن نے اعتراض نہ کیا۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی