2017 November 24
اسامہ بن لادن کے بیٹے کا دنیائے تکفیر سے بشار اسد اور اہل تشیع کیخلاف نئی مسلح لڑائی کا مطالبہ
مندرجات: ١٠٢١ تاریخ اشاعت: ١٨ September ٢٠١٧ - ١٣:٠٠ مشاہدات: 35
خبریں » پبلک
اسامہ بن لادن کے بیٹے کا دنیائے تکفیر سے بشار اسد اور اہل تشیع کیخلاف نئی مسلح لڑائی کا مطالبہ

القاعدہ کے سابق سرغنہ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن نے دنیا بھر کے تکفیریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں صلیبیوں اور اہل تشیع کے خلاف مسلح جدوجہد میں شرکت کریں۔

 خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ دی ہے کہ القاعدہ کے سابق تکفیری سرغنہ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن نے گذشتہ جمعرات کو عسکری تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نئے آڈیو پیغام میں کہا کہ "شام کے معاملے سے تمام دنیا کی مسلم آبادی متاثر ہوسکتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ شام میں موجود تکفیری دہشتگرد صلیبیوں، اہل تشیع اور بین الاقوامی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں اور تمام مسلمانوں کو ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، ان کی حمایت کریں اور انہیں کامیاب کریں۔

حمزہ بن لادن نے اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ شام میں جاری خون ریزی کو روکنے کے لیے وہاں کے لوگوں کی حمایت کے لیے فوری طور پر سنجیدہ اور آرگنائز طریقے سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے، اس سے قبل کہ بہت دیر ہوجائے۔

مئی 2011 میں پاکستان کے بالائی علاقے ایبٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی کے دوران اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد 20 سالہ حمزہ بن لادن القاعدہ میں سرگرم ہوئے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے حمزہ بن لادن کو جنوری میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے تخمینہ لگایا تھا کہ حمزہ 1989 میں سعودی عرب کے شہر جدہ میں پیدا ہوئے اور ان کی والدہ اسامہ بن لادن کی تیسری اہلیہ تھیں۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے حمزہ بن لادن کو خصوصی طور پر عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے امریکی حدود میں آنے والے ان کے اثاثوں کو منجمند کردیا تھا۔

اس سے قبل اگست میں جاری ہونے والے آیڈیو پیغام میں حمزہ بن لادن نے سعودی عرب میں جنگجوؤں کے حمایتیوں پر زور دیا تھا کہ امریکا سے نجات کیلئے بادشاہت کا خاتمہ ضروری ہے۔

تجزیہ کار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ القاعدہ کی قیادت سنبھالنے اور شام و عراق میں داعش کو ہونے والی شکست کو استعمال کرتے ہوئے عالمی دہشت گردوں کو القاعدہ کے بینر کے تحت متحد کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی