2017 November 20
اہل سنت عید غدیر کو اپنے دینی تہوار کا حصہ مانتے ہیں
مندرجات: ١٠٠٦ تاریخ اشاعت: ١٣ September ٢٠١٧ - ١٢:٥٤ مشاہدات: 45
خبریں » پبلک
اہل سنت عید غدیر کو اپنے دینی تہوار کا حصہ مانتے ہیں

تحریک اصلاح و اتحاد لبنان کے سربراہ شیخ ماهر عبد الرزاق نے رسا نیوز ایجنسی کی عالمی سرویس کے رپورٹر سے گفتگو میں غدیر خم اور اتحاد اسلامی کے قیام میں اس کی تاثیر کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ملت اسلامیہ عصر حاضر میں حساس اور خطرناک حالات سے روبرو ہے کیوں کہ ان دنوں امت اسلامیہ کے خطرناک ترین دشمن تکفیری ـ صھیونی نے امت اسلامیہ کی نابودی اور اسلامی ممالک کو ٹکڑے کرنے کی ٹھان رکھی ہے ، اس اقدام مقصد اسلامی دنیا کی قدرت و عزت ، توانائیوں اور اتحاد اسلامی پر تسلط پانا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: تکفیری بھیس میں امریکن اور صھیونی حملے ہمیں ایک پیلٹ فارم پر آنے کی دعوت دیتے ہیں ، لہذا ہمیں مختلف دینی مناسبتوں اور خوشیوں کے بہانے یکجا ہونا چاہئے کہ عید غدیر اس کا بہترین موقع ہے جس کے ذریعہ ہم سچے اسلام تک پہونچ سکتے ہیں ، ہم عید غدیر کو «عید غدیر ہمیں اتحاد عطا کرتی ہے » یا « میری طاقت میرے اتحاد میں پنہاں ہے » کا نام بھی دے سکتے ہیں لہذا دینی اور سیاسی لیڈرس ان مناسبتوں سے بخوبی استفادہ کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کو اتحاد کے قلع میں لانے کی کوشش کریں تاکہ پوری امت اسلامیہ ملکر تکفیری اور صھیونی دشمنوں کا مقابلہ کر سکے   ۔

سرزمین لبنان کے اس سنی عالم دین نے یاد دہانی کہا: تکفیری دشمن امریکا اور اسرائیل کی رھبریت میں ملت اسلامیہ میں اختلاف و نفاق کی بیج بونے اور ملت اسلامیہ کے خراب حالات سے فائدہ اٹھانے کے درپہ ہے ، لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنے مشترکات اور سماجی گوشے کو اپناتے ہوئے اتحاد قائم کریں اور اختلافات سے دوری کریں ، دشمن کے برابر استقامت اور قیام کی دنیا میں ہمارا اصل مقصد اتحاد اسلامی ہونا چاہئے کیوں کہ یہ اتحاد ہی دشمن کے مقابل سیسہ پلائی دیوار بن سکتا ہے ۔

شیخ عبد الرزاق نے اتحاد اسلامی کے حوالے سے امام خمینی(ره) کی نصیحتوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: امام خمینی(ره) نے اتحاد اسلامی کا نظریہ ملت اسلامیہ کی حفاظت اور عالم اسلام میں یکجہتی کی غرض سے پیش کیا تھا ، ہمیں بھی مرسل آعظم (ص) کے اس بیان « مومنین ایک بدن کے اعضا کے مانند ہیں کہ اگر بدن کے کسی ایک حصہ میں تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے حصے میں درد کا احساس ہوتا ہے » کا مصداق ہونا چاہئے ، ہم ایک جسم اور مشترکات پر مشتمل امت ہیں ، میرا خدا واحد ، میری کتاب قران ایک ، میرا راھنما ایک ، میرا رسول (ص) ایک اور میرا قبلہ ایک ہے ، لہذا ہمیں غدیر جیسی مناسبتوں سے ملت اسلامیہ میں اتحاد و ھمدلی قائم کرنے کے لئے بخوبی استفادہ کرنا چاہئے ۔

ملت اسلامیہ کے آپسی اختلاف سے رسول اسلام (ص) اور اہل بیت علیھم السلام خوش نہیں

تحریک اصلاح و اتحاد لبنان کے سربراہ نے اہل سنت کے نزدیک موجود امیرالمومنین علی علیہ السلام کے مقام کی جانب اشارہ کیا اور کہا: علی(ع) اماموں میں سے ایک امام اور اسلامی معاشرے کے عظیم ترین رھبر ہیں ، لہذا غدیر جیسی مناسبت فقط شیعہ مذھب کی دینی مناسبت نہیں بلکہ مذھب اہل سنت کی دینی مناسبت بھی ہے کہ جس طرح اس کا الٹا بھی صحیح ہے یعنی سنی مذھب کی دینی مناسبتیں شیعہ مذھب کی دینی مناسبتیں بھی ہیں ، لہذا ہمیں ایک مناسب اور مستقل پروگرام بنا کر دشمن کی تفرقہ انگیزیوں کا مقابلہ کرنا چاہئے کہ جو شیعہ و سنی دونوں مذاھب کے ماننے والوں کی مشارکت کے سوا ناممکن ہے ، میں نے کئی بار ایران کا سفر کیا ہے ، ایران غدیر جیسی دینی مناسبت سے اسلامی اتحاد کے لئے استفادہ کرتا ہے ، ہم نے بارہا ایرانی حکمرانوں اور اس ملک کے رھبر کی باتوں کو سنا ہے کہ وہ ملت اسلامیہ اور امت رسول اسلام (ص) کے سطح کی باتیں کرتے ہیں ، لہذا ہم بھی اهل بیت(ع) اور قرآن کریم کو اپنا رھبر مانتے ہیں ۔

انہوں نے دینی منابع میں اتحاد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: یقینا اسلامی اتحاد غدیر جیسی مناسبتوں پر اکٹھا ہونے کی صورت میں ممکن ہے ، غدیر خم ، دشمن اور عالمی سامراجیت کی تمام چالوں اور تمام بجٹ کہ جسے ملت اسلامیہ میں اختلاف  ، تفرقہ اور اس کی نابودی کے لئے صرف کیا ہے ناکامی سے روبرو کردے گی، ہم انہیں ثابت کر کے رہیں گے کہ ہم ایک ہیں ، ہم نے بارہا و بارہا منبروں سے یہ اعلان کیا ہے کہ رسول اسلام(ص) ، صحابہ اور اہل بیت(ع) کسی کو بھی ملت اسلامیہ کا اختلاف پسند نہیں ہے ، اگر وہ شخصیتیں آج زندہ ہوتیں تو مسلمانوں کے حالات پر خون کے آنسو بہا رہی ہوتیں اور ملت اسلامیہ کو اتحاد کی دعوت دیتیں ۔

سرزمین لبنان کے اس سنی عالم دین نے بعض اہل سنت گروہوں کی جانب سے اسرائیل و امریکا کی حمایت کئے جانے پر تعجب کا اظھار کیا اور کہا: یہ بات ناقابل قبول ہے کہ کچھ لوگ خود کو سنی کہتے ہیں مگر امریکا اور اسرائیل کے غلام ہیں ، جبکہ آج جو چیز رسول اسلام(ص) ، اہل بیت(ع) اور صحابہ کو خوش کرتی ہے وہ امریکا ، اسرائیل اور دشمنان دین کا مقابلہ ہے ، اگر آج وہ ہمارے درمیان ہوتے تو فلسطین و مسجد الاقصی کی حمایت کرتے کیوں کہ فلسطین و مسجد الاقصی ملت اسلامیہ کی ریڑھ کی ہڈی ہے  ۔

شیخ عبد الرزاق نے آخر میں یاد دہانی کی: خود کو اہل سنت کہنے والے اور اہل سنت کے دفاع کے دعویدار فقط عالمی سامراجیت کے غلام ہیں جبکہ حقیقی اسلام آج استقامت کے ہمراہیوں کے ساتھ عراق ، شام ، لبنان، ایران اور یمن میں ہے ، یہ استقامت وہی استقامت ہے جو رسول اسلام(ص) ، اہل بیت(ع) اور صحابہ کرام کے پاس تھی کیوں استقامت ، اسلامی مقدسات کے دفاع میں مصروف ہے ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۱۰۲۲




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی